سابق چیف جسٹس ثاقب نثار، گلزار احمد نے ججوں کی تعیناتی میں میرٹ نہیں دیکھا، جسٹس قاضی فائز

29 مئ 2022
—فوٹو: ڈان نیوز/سپریم کورٹ ویب سائٹ/اے پی پی
—فوٹو: ڈان نیوز/سپریم کورٹ ویب سائٹ/اے پی پی

سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے چیف جسٹس عمر عطابندیال کو خط میں لکھا ہے کہ سابق اعلیٰ ججوں ثاقب نثار اور گلزار احمد نے عدالت عظمیٰ میں ججوں کی تعیناتی کے معاملے پر جان بوجھ کر میرٹ کو نظر انداز کیا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سپریم کورٹ میں ججز تقرری کے معاملے پر چیف جسٹس عمر عطابندیال کو 25 مئی کو لکھے گئے اپنے خط میں کہا ہے کہ پاکستان بار اور سپریم کورٹ بار سمیت اراکین جوڈیشل کمیشن نے کئی بار رولز میں ترمیم کا مطالبہ کیا۔

مزید پڑھیں: چیف جسٹس سے جے سی پی کمیٹی کی تشکیل نو کی درخواست

سپریم کورٹ کے سینئر جسٹس نے کہا کہ ججز تقرری میں سنیارٹی، میرٹ اور قابلیت کو دیکھنا ہوتا ہے، سپریم کورٹ میں چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کی جگہ جونیئر جج کو تعینات کیا گیا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے یہ کہہ کر جونیئر جج لگائے کہ سینئر جج خود نہیں آنا چاہتے جبکہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اور سینئر ججوں ان باتوں کی تردید کی۔

چیف جسٹس کو لکھے گئے خط میں کہا گیا کہ سابق چیف جسٹس گلزار احمد نے بھی چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ اور سینئر ججوں کو نظر انداز کیا اور وجہ بتائی کہ وہ میرٹ پر پورے نہیں اترتے تھے۔

خط میں لکھا گیا کہ بعد ازاں چیف جسٹس گلزار احمد نے اسی چیف سجٹس کو سپریم کورٹ میں ایڈہاک جج تعینات کرنے کی تجویز دے دی تو پھر انہوں نے معجزاتی طور پر میرٹ ٹیسٹ پاس کیا تھا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جوڈیشل کمیشن رولز میں ترمیم کے لیے قائم کمیٹی کی آج تک کوئی رائے نہیں آئی، جوڈیشل کمیشن اجلاس ان کیمرا نہیں ہونا چاہیے، ججوں کی تقرری کے لیے اجلاس سے متعلق عوام کو علم ہونا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں:جونیئر جج کی ترقی: بار کونسلز کا ’حمایت کرنے والے ججز کو الوداعی تقریب‘ نہ دینے کا فیصلہ

چیف جسٹس کے نام خط میں کہا گیا کہ کمیشنز کے چیئرمین اکیلے سپریم کورٹ میں ججوں کی تعیناتی کے لیے اپنے منتخب کردہ نام اراکین کے سامنے پیش منظوری یا مسترد کرنے کے لیے پیش کرنا اور ووٹنگ پرمجبور کرنا اور ایک ووٹ سےجج بن جانا آئین کے مطابق نہیں، عوام کا یہ تاثر کہ عدلیہ آزاد نہیں، اپنا احترام اور اخلاقی جواز کھو دیتی ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ مرحوم جسٹس نسیم حسن شاہ کا غلط فیصلے کا اعتراف ذوالفقار علی بھٹو کی زندگی واپس نہیں لاسکتا، اعلیٰ عدلیہ پر عوام کا اعتماد لازمی ہے۔

سپریم کورٹ کے جسٹس نے خط میں کہا کہ عوام کے اعتماد کو برقرار رکھنے کے لیے قابل اور دیانت دار جج تعینات ہونے چاہئیں۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی زیر صدارت جوڈیشل کمیشن کا پہلا اجلاس خوش آئند تھا، امید ہے موجودہ چیف جسٹس پاکستان ججوں کی تقرری سے متعلق تحفظات دور کریں گے۔

خط میں کہا گیا کہ آئین پاکستان اور عوام کی امنگوں کے مطابق شفاف اور قابل جج کا تقرر ہونا چاہیے۔

دوسری جانب پاکستان بار کونسل (پی بی سی) کی نمائندگی کرنے والے جوڈیشل کمیشن آف پاکستان(جے سی پی) کے ایک رکن اختر حسین نے چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال سے درخواست کی تھی کہ سپریم کورٹ کے ججوں کے تقرر کا معیار مرتب کرنے اور اسے حتمی شکل دینے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر جے سی پی رولز کمیٹی کی تشکیل نو کی جائے۔

خط میں تجویز دی گئی تھی کہ رولز کمیٹی کی سربراہی سینئر جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کریں۔

رکن نے کہا تھا کہ اس بات پر اتفاق رائے پایا جاتا ہے کہ اعلیٰ عدالتوں میں ججوں کے تقرر کے لیے کچھ معروضی معیارات طے کیے جائیں جس میں سنیارٹی کے اصول پر زور دیا جائے۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں