توانائی کے شعبے میں ایران کے ساتھ تعاون مزید مضبوط کرنے کیلئے پرعزم ہیں، بلاول بھٹو

اپ ڈیٹ 14 جون 2022
وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری ایرانی ہم منصب حسین امیر  عبداللہیان کے ہمراہ تہران میں مشترکہ پریس کانفرنس کر رہے تھے — فوٹو: پی پی پی ٹوئٹر
وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری ایرانی ہم منصب حسین امیر عبداللہیان کے ہمراہ تہران میں مشترکہ پریس کانفرنس کر رہے تھے — فوٹو: پی پی پی ٹوئٹر

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین اور پاکستان کے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان اضافی بجلی کی درآمد کے ذریعے توانائی کے شعبے میں ایران کے ساتھ اپنے تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔

ایرانی ہم منصب حسین امیر عبداللہیان کے ہمراہ تہران میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ دورہ ایران پر آکر خوشی محسوس کر رہا ہوں، یہاں آکر میں گھر آنے جیسا محسوس کر رہا ہوں، ایران اور پاکستان کے عوام کے درمیان تاریخی تعلقات ہیں اور ہم ان تعلقات کو نئی بلندیوں پر لے جانا چاہتے ہیں، میں پاکستانی عوام کی جانب سے ایران کے لوگوں کو نیک خواہشات کا پیغام دیتا ہوں۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران، پاکستان کا اہم پڑوسی برادر ملک ہے جس کے ساتھ ہمارے مضبوط تاریخی تعلقات اور روابط ہیں، وزیر اعظم پاکستان اور میری بطور وزیر خارجہ ایران کے ساتھ تعلقات کو استوار رکھنا اور مزید مضبوط رکھنا ترجیح ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں یہ بات کہتے ہوئے خوشی اور اطمینان محسوس کر رہا ہوں کہ پاکستان اور ایران کے درمیان مضبوط مثبت اور تعمیری تعلقات رہے ہیں، آج اپنی ملاقات کے دوران ہم نے دونوں ممالک سے متعلق باہمی دلچسپی کے تمام امور پر تبادلہ خیال کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ تجارت، سرمایہ کاری، رابطے، سرحدی انتظام، ثقافتی اور تعلیمی تعاون جیسے شعبوں میں ان کی حقیقی صلاحیتوں کو پورا کرنے کے لیے انہیں مزید بڑھانے کے طریقوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان تجارت کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ انہیں ’خوشی‘ ہے کہ پاکستان اور ایران بارٹر ٹریڈ میکانزم کو فعال کرنے، سرحد پار تبادلے کو باقاعدہ بنانے کے ذریعے دوطرفہ تجارت کی توسیع میں بڑی رکاوٹوں میں سے ایک کو حل کرنے کے قریب آگئے ہیں، نئی سرحدی کراسنگ اور سرحدی منڈیوں کے ذریعے تجارت کو فروغ حاصل ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ اس طرح کے اقدامات بہتر اقتصادی اور تجارتی سرگرمیوں کے مواقع کی فراہمی کے لیے ہمارے مشترکہ عزم کا اظہار ہیں جن سے ایران اور پاکستان کے لوگوں کو فائدہ پہنچے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ان اقدامات سے سرحد سے منسلک علاقوں کے لوگوں کی زندگی اور بہبود کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

وزیر خارجہ نے بتایا کہ انہوں نے ایرانی ہم منصب سے موجودہ قانونی فریم ورک کے تحت قیدیوں کے تبادلے کے امکان پر تبادلہ خیال کیا تاکہ وہ اپنے ممالک میں اپنی سزائیں پوری کر سکیں۔

انہوں نے ایران کی مہمان نوازی اور پاکستانی زائرین کو دی جانے والی سہولیات کو بھی سراہا، انہوں نے مزید کہا کہ زائرین کے لیے مزید سہولیات کی فراہمی پر بھی بات چیت ہوئی جس سے دونوں ممالک کے درمیان ’دوستی کا رشتہ‘ قائم ہوا۔

عالمی معاملات پر اظہار خیال کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ ملاقات کے دوران انہوں نے افغانستان میں تازہ ترین پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ اس نازک موڑ پر منجمد مالیاتی اثاثوں تک رسائی سمیت دیگر طریقوں سے افغان عوام کی مدد کی جانی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا افغان حکام سے دہشت گردی کے خلاف جامع اور مؤثر کارروائی کی توقع رکھتی ہے۔

وزیر خارجہ نے پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ انہوں نے ملاقات کے دوران ایرانی ہم منصد امیر عبداللہیان کو مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال سے بھی آگاہ کیا اور مسئلہ کشمیر پر ایرانی قیادت کی مستقل حمایت پر شکریہ ادا کیا۔

ایران پہنچنے پر ایرانی ہم منصب امیر عبداللہیان نے ان کا استقبال کیا — فوٹو: ڈان نیوز
ایران پہنچنے پر ایرانی ہم منصب امیر عبداللہیان نے ان کا استقبال کیا — فوٹو: ڈان نیوز

انہوں نے کہا کہ ملاقات کے دوران انہوں نے بھارت میں اسلاموفوبیا کی بڑھتی ہوئی لہر اور بھارتی عہدیداروں کے حالیہ تضحیک آمیز ریمارکس پر بھی تبادلہ خیال کیا جس نے عالمی سطح پر مسلم برادری کو ’شدید تکلیف‘ پہنچائی۔

ان کا کہنا تھا کہ یہی وقت ہے کہ عالمی برادری غیر ممالک سے تعلق رکھنے والے اور مسلمانوں کے خلاف نفرت، عدم برداشت اور مذہب یا عقیدے کی بنیاد پر تشدد پر اکسانے کے خلاف مشترکہ عزم کا اظہار کرے۔

بلاول بھٹو نے عالمی طاقتوں کے ساتھ جاری جوہری معاہدے سے متعلق مذاکرات میں ایران کی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس دن کا انتظار کر رہے ہیں جب مذاکرات کسی ایسے نتیجے پر پہنچیں جو 'ایران کے عوام کا حق' ہے۔

بلاول بھٹو زرداری کی 2 روزہ دورے پر ایران آمد

قبل ازیں وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری 2 روزہ دورے پر ایران پہنچے تھے، دورے کے دوران اقتصادی تجارتی تعلقات سمیت دیگر مشترکہ مفادات کو زیر غور لایا جائے گا۔

ایران پہنچنے پر ایرانی ہم منصب امیر عبداللہیان نے ان کا استقبال کیا اور بعد ازاں ملاقات کے دوران مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

خیال رہے کہ وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری ایران کے وزیر خارجہ امیر عبداللہیان کی دعوت پر دو روزہ سرکاری دورے پر ایران گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: وزیرخارجہ کی ایرانی ہم منصب سے ملاقات، بلوچستان کے جنگلات میں آگ بجھانے میں مدد پر اظہار تشکر

گزشتہ روز دفتر خارجہ کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان کے مطابق بحیثیت وزیر خارجہ ایران کے اپنے پہلے دورے کے دوران بلاول بھٹو زرداری ایرانی صدر، ایرانی ہم منصب سمیت دیگر حکومتی عہدیداروں سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان وفود کی سطح پر ہونے والی بات چیت کے دوران دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا جن میں تجارتی اور اقتصادی تعلقات، ایران سے بجلی کی فراہمی، سرحدی غذائی منڈیوں، سڑک اور ریل روڈ اور زائرین کی سہولیات کی فراہمی شامل ہیں۔

مزید پڑھیں: وزیر خارجہ کی ایرانی صدر ابراہیم رئیسی سے ملاقات

بیان میں کہا گیا کہ دورے کے دوران علاقائی سلامتی کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا جائے گا خاص طور پر افغانستان سمیت جنوبی ایشیا کی مجموعی صورتحال کے ساتھ ساتھ اسلاموفوبیا سے نمٹنے پر بھی توجہ مرکوز کی جائے گی۔

وزیر خارجہ کل بدھ کو مشہد کا دورہ کریں گے، بلاول بھٹو زرداری کا دورہ ایران دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطح کے باقاعدہ تبادلوں کا حصہ ہے۔

تبصرے (0) بند ہیں