پنجاب اسمبلی کے عملے کو ایوان اقبال رپورٹ کرنے کا حکم

اپ ڈیٹ 20 جون 2022
اسمبلی سیکرٹریٹ کے چار سینئر افسران کو فوری طور پر ایوان اقبال میں رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی —فائل فوٹو: اے ایف پی
اسمبلی سیکرٹریٹ کے چار سینئر افسران کو فوری طور پر ایوان اقبال میں رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی —فائل فوٹو: اے ایف پی

پنجاب اسمبلی کے اجلاس سے متعلق آئینی بحران روز بروز بڑھتا جا رہا ہے جس کی واضح مثال یہ ہے کہ اسمبلی کے پینل آف چیئرمین نے اسمبلی سیکرٹریٹ کے چار سینئر افسران کو فوری طور پر ایوان اقبال میں رپورٹ کرنے کی ہدایت کی ہے جہاں 14 جون سے بجٹ اجلاس جاری ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پینل آف چیئرمین کے اراکین میں سے ایک رکن خلیل طاہر سندھو نے ہدایات جاری کیں کہ اسپیشل سیکریٹری علی عمران رضوی، چیف سیکیورٹی افسر اکبر ناصر، چیف رپورٹر عمر دراز اور ڈائریکٹر اسٹیٹ عاصم چیمہ لازمی طور پر فی الفور ایوان اقبال میں رپورٹ کریں جہاں پنجاب اسمبلی کا آئینی سیشن جاری ہے اور اس کو رپورٹ کرنا ان کی آئینی ذمہ داری ہے۔

مزید پڑھیں: تحریک انصاف کا پنجاب اسمبلی معاملے اور ڈپٹی اسپیکر کےخلاف قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ

اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کی عدم موجودگی میں اجلاس کی سربراہی کرنے والے خلیل طاہر سندھو نے افسران کو خبردار کیا ہے کہ عدم تعمیل کی صورت میں ان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

انہوں نے اجلاس کے شرکا کو یہ بھی بتایا کہ اسمبلی افسران نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ پیر (آج) کو اپنی ڈیوٹی پر حاضر ہوں گے۔

پنجاب کے محکمہ قانون کے اعلیٰ حکام کی ہدایت پر قائم مقام اسمبلی سیکریٹری کے طور پر کام کرنے والے اسپیشل اسیکرٹری عامر حبیب، جنہوں نے گورنر کے جاری کردہ ایک آرڈیننس کے تحت انتظامی امور میں اسمبلی سیکریٹری کے اختیارات واپس لے لیے تھے، انہوں نے بھی ایوان کے سربراہی کو اسی طرح کی ہدایات جاری کیں۔

انہوں نے کہا تھا کہ اسمبلی کے رپورٹنگ، اسٹیٹ اور سیکیورٹی ونگز ہفتہ کو ایوان اقبال میں رپورٹ کریں گے، تاہم متعلقہ افسران نے مبینہ طور پر احکامات پر عمل کرنے سے انکار کردیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب اسمبلی کی آزادانہ حیثیت ختم، وزارت قانون کے ماتحت کردیا گیا

تاہم اسمبلی سیکریٹری محمد خان بھٹی، جنہیں اسپیکر پرویز الٰہی نے ملازمت دی تھی، نے کہا کہ نئے احکامات کی اسپیکر کی موجودگی میں کوئی اہمیت نہیں ہے۔

اسمبلی اجلاس کے انعقاد پر بحران اس وقت شروع ہوا جب اسپیکر پرویز الٰہی نے 2 دن تک ایوان کے 40ویں اجلاس میں محکمہ خزانے کو صوبائی بجٹ پیش کرنے کے لیے نہیں کہا اور مطالبہ کیا کہ پہلے 25 مئی کے لانگ مارچ کے دوران پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں کے خلاف درج مقدمات واپس لیے جائیں۔

مزید پڑھیں: پنجاب کی اتحادی حکومت کا بجٹ پیش کرنے کیلئے ’اپنا علیحدہ‘ اجلاس بلانے کا فیصلہ

دوسرے دن کی رات جب تمام حکومتی کوششیں اسپیکر اور اپوزیشن جماعت تحریک انصاف کی قیادت کے ساتھ مفاہمت تک پہنچنے میں ناکام ہو گئیں تو گورنر پنجاب بلیغ الرحمٰن نے اجلاس ملتوی کرنے کے احکامات جاری کرتے ہوئے اسپیکر اور اسمبلی سیکریٹری کے کچھ اختیارات واپس لینے کے لیے آرڈیننس جاری کیا تھا۔

جس کے بعد اگلے روز صوبائی بجٹ پیش کرنے کے لیے اسمبلی چیمبرز کی بجائے ایوان اقبال میں نیا اجلاس طلب کر لیا تھا۔

تبصرے (0) بند ہیں