ٹرین گینگ ریپ کیس کے تین مبینہ ملزمان کا ڈی این اے ٹیسٹ کا نتیجہ مثبت آ گیا

25 جون 2022
مبینہ ملزمان کے ڈی این اے نمونے متاثرہ خاتون کے جسم سے لیے گئے نمونوں سے میچنگ کے لیے فارنزک لیبارٹری بھیجا گیا تھا— فائل فوٹو: وائٹ اسٹار
مبینہ ملزمان کے ڈی این اے نمونے متاثرہ خاتون کے جسم سے لیے گئے نمونوں سے میچنگ کے لیے فارنزک لیبارٹری بھیجا گیا تھا— فائل فوٹو: وائٹ اسٹار

کراچی: ٹرین گینگ ریپ کیس میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار کیے گئے پانچ ملزمان میں سے تین کے ڈی این اے ٹیسٹ کا نتیجہ مثبت آ گیا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ریلوے پولیس نے 27 مئی کو نجی طور پر چلنے والی بہاالدین زکریا ایکسپریس کے منیجر اور چار ٹکٹ چیکرز کو ایک خاتون مسافر کے ساتھ گینگ ریپ کے الزام میں حراست میں لیا تھا۔

مزید پڑھیں: کراچی: ٹرین گینگ ریپ کیس، متاثرہ خاتون کا بیان ریکارڈ

واقعے کی تحقیقات کرنے والے تفتیش کاروں نے جمعہ کو ڈان کو بتایا کہ گرفتار پانچوں مشتبہ افراد کے ڈی این اے کے نمونے متاثرہ خاتون کے جسم سے لیے گئے نمونوں سے میچنگ کے لیے پنجاب کی فارنزک سائنس لیبارٹری کو بھجوائے گئے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ ٹکٹ چیکرز کے طور پر خدمات انجام دے رہے تین مشتبہ افراد کی فارنزک رپورٹس مثبت پائی گئی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ دو دیگر افراد کے نمونوں کا نتیجہ منفی آیا ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ واقعے کی تحقیقات ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کر رہی ہے جو انسداد عصمت دریآرڈیننس 2020 کے تحت تشکیل دی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ٹرین میں گینگ ریپ کا نشانہ بننے والی خاتون کو پاکستان ریلوے کا ملازمت دینے کا فیصلہ

قانون متعلقہ حکام کو پابند کرتا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ گینگ ریپ کے کسی بھی واقعے کی تحقیقات ایک جے آئی ٹی کے ذریعے کی جائے جس کی سربراہی ایک ضلعی پولیس افسر کرے اور اس میں ایک ایس پی (انوسٹی گیشن)، ایک ڈی ایس پی اور ایک ایس ایچ او کو شامل کیا جائے، تحقیقاتی ٹیم میں ایک خاتون افسر کو بھی شامل کرنا ضروری ہے۔

تبصرے (0) بند ہیں