امریکا نے افغانستان میں ایمن الظواہری کی کھوج کیسے لگائی؟

03 اگست 2022
اسامہ بن لادن القاعدہ کا چہرہ جبکہ ایمن الظواہری کو اس کا دماغ سمجھا جاتا تھا— فائل فوٹو: رائٹرز
اسامہ بن لادن القاعدہ کا چہرہ جبکہ ایمن الظواہری کو اس کا دماغ سمجھا جاتا تھا— فائل فوٹو: رائٹرز

جوبائیڈن انتظامیہ کے ایک سینیئر عہدیدار نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ القاعدہ کے رہنما ایمن الظواہری برسوں سے روپوش تھے، انہیں ڈھونڈ کر مارنے کا آپریشن انسداد دہشت گردی اور انٹیلی جنس کمیونٹی کی محتاط، صبر آزما اور مسلسل کوششوں کا نتیجہ ہے۔

ڈان اخبار میں شائع رپورٹ رپورٹ کے مطابق امریکی صدر جو بائیڈن نے پیر کی شام وائٹ ہاؤس سے ٹیلی ویژن پر نشر کیے گئے ریمارکس میں القاعدہ کے رہنما ایمن الظواہری کو کابل شہر کے مرکز میں ایک ڈرون حملے میں ہلاک کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ 'انصاف ہوگیا اور یہ دہشت گرد رہنما اب نہیں رہا'۔

انہوں نے کہا کہ 'اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ اس میں کتنا وقت لگے، چاہے آپ کہیں بھی چھپ جائیں لیکن اگر آپ ہمارے لوگوں کے لیے خطرہ ہیں تو امریکا آپ کو ڈھونڈ نکالے گا اور مار ڈالے گا'۔

القاعدہ رہنما ایمن الظواہری 21 سال تک اپنی ہلاکت کے لیے امریکی کوششوں سے محفوظ رہے، ان کے پیشرو اسامہ بن لادن مئی 2011 میں ایبٹ آباد میں مارے گئے تھے، ان کی ہلاکت نائن الیون کے اُن دہشت گردانہ حملوں کے ٹھیک 10 سال بعد ہوئی جس کی اِن دونوں نے منصوبہ بندی کی تھی اور انجام تک پہنچایا۔

یہ بھی پڑھیں: القاعدہ کے رہنما ایمن الظواہری کابل میں امریکی ڈرون حملے میں ہلاک

اسامہ بن لادن القاعدہ کا چہرہ جبکہ ایمن الظواہری کو اس کا دماغ سمجھا جاتا تھا، جنہوں نے اس گروپ کے لیے اسٹریٹجک منصوبہ بندی کی۔

امریکی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ ایمن الظواہری اگست 2021 میں افغان دارالحکومت پر طالبان کے قبضے کے بعد کابل منتقل ہونے سے قبل صوبہ ہلمند میں مقیم تھے، امریکا کی جانب سے ان کی ہلاکت کے اعلان تک ایمن الظواہری کی پاکستان کے قبائلی علاقوں میں موجودگی یا افغانستان میں ہونے کی مختلف افواہیں گردش میں رہیں۔

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرتے ہوئے ایک عہدیدار نے رائٹرز کو آپریشن کے بارے میں درج ذیل تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ کئی برسوں سے امریکی حکومت ایک ایسے نیٹ ورک کے بارے میں جانتی تھی جس نے ایمن الظواہری کی مدد کی تھی جس کے بعد سے حکام نے مسلسل افغانستان میں القاعدہ کی سرگرمیوں پر نظریں جمائی ہوئی تھیں۔

رواں سال حکام نے کھوج لگائی کہ ایمن الظواہری کا خاندان، ان کی اہلیہ، بیٹی اور بچے کابل میں ایک محفوظ گھر میں منتقل ہو گئے تھے اور بعد میں حکام کو اسی مقام پر ایمن الظواہری کی موجودگی کا علم ہوا۔

مزید پڑھیں: داعش شدت پسند تنظیم ہے، القاعدہ سربراہ

عہدیدار نے بتایا کہ ایمن الظواہری کابل سیف ہاؤس پہنچے جس کے بعد حکام کو ان کے وہاں سے چلے جانے کی کوئی اطلاع نہیں ملی اور بعد ازاں سیف ہاؤس کی بالکونی میں ان کی شناخت کرلی گئی جہاں وہ بالآخر مارے گئے۔

کئی ماہ کی انٹیلیجنس کے بعد حکام نے یقین کر لیا کہ انہوں نے ایمن الظواہری کی درست شناخت کی گئی ہے، بعدازاں اپریل میں قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے صدر جو بائیڈن کو اس حوالے سے بریفنگ دی۔

عہدیدار نے بتایا کہ حکام نے سیف ہاؤس کی طرز تعمیر اور نوعیت کی چھان بین کی اور اس کے مکینوں کی جانچ پڑتال کی تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ امریکا اس عمارت کی ساخت کو نقصان پہنچائے بغیر اور شہریوں اور ایمن الظواہری کے خاندان کو کم سے کم خطرے میں ڈالتے ہوئے اعتماد کے ساتھ آپریشن کر سکے۔

حالیہ ہفتوں میں صدر جوبائیڈن نے اہم مشیروں اور کابینہ کے ارکان کے ساتھ میٹنگز کیں تاکہ انٹیلی جنس کی جانچ پڑتال کی جا سکے اور کارروائی کے بہترین طریقہ کار کا جائزہ لیا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں: القاعدہ افغانستان کے 15 صوبوں میں موجود ہے، اقوام متحدہ

یکم جولائی کو جوبائیڈن کو سی آئی اے کے ڈائریکٹر ولیم برنز سمیت ان کی کابینہ کے اراکین نے وائٹ ہاؤس میں ایک مجوزہ آپریشن کے بارے میں آگاہ کیا اور اس کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔

عہدیدار نے بتایا کہ امریکی صدر نے ہماری معلومات کے ذرائع اور ان کے مستحکم ہونے، سیف ہاؤس، موسم، حالات، افغان طالبان سے تعلقات پر ہونے والے اثرات اور آپریشن کی کامیابی کے امکانات کے حوالے سے تفصیلی سوالات پوچھے۔

امریکی عہدیدار نے بتایا کہ سینئر انٹر ایجنسی وکلا کی ٹیم نے انٹیلی جنس معلومات کی سخت اسکروٹنی کی اور اس بات کی تصدیق کی کہ القاعدہ کی مسلسل قیادت کی بنیاد پر ایمن الظواہری ایک جائز ہدف ہیں۔

عہدیدار نے بتایا کہ 25 جولائی کو امریکی صدر نے اپنی کابینہ کے اہم ارکان اور مشیروں کو حتمی بریفنگ کے لیے بلایا اور اس بات پر تبادلہ خیال کیا کہ ایمن الظواہری کی ہلاکت سے دیگر مسائل کے علاوہ طالبان کے ساتھ امریکا کے تعلقات کس طرح متاثر ہوں گے۔

مزید پڑھیں: نائن الیون کی 20 ویں برسی پر القاعدہ کے سربراہ کی نئی ویڈیو جاری

امریکی عہدیدار نے بتایا کہ تمام افراد سے آرا طلب کرنے کے بعد جوبائیڈن نے اس شرط پر ایک محتاط اور عین موزوں فضائی حملے کی اجازت دی کہ اس سے شہری ہلاکتوں کا خطرہ کم سے کم ہو۔

انہوں نے بتایا کہ امریکی صدر سے منظوری حاصل کرنے کے بعد 30 جولائی 2022 کو ٹھیک ایک بج کر 48 منٹ (پاکستانی وقت کے مطابق صبح 6 بج کر 48 منٹ پر) پر ‘ہیل فائر’ نامی ڈرون حملہ کیا گیا جس میں القاعدہ سربراہ ایمن الظواہری ہلاک ہوگئے۔

ضرور پڑھیں

’اٹھو کاروانِ سحر آگیا‘

’اٹھو کاروانِ سحر آگیا‘

پاکستان ’قراردادِ پاکستان‘ کے بعد طلوعِ آزادی کی جس منزل سے ہم کنار ہوا اس کی داستان نسلِ نو کو سنانی ضروری ہے۔

تبصرے (0) بند ہیں