خیبرپختونخوا کے ہسپتالوں میں داخلے کے لیے کورونا ٹیسٹ لازمی قرار

17 اگست 2022
<p>صوبے میں رواں سال پہلی بار ایک ہی روز میں وائرس سے 3 اموات ہوئیں—فائل فوٹو: رابعہ بگٹی</p>

صوبے میں رواں سال پہلی بار ایک ہی روز میں وائرس سے 3 اموات ہوئیں—فائل فوٹو: رابعہ بگٹی

محکمہ صحت خیبر پختوانخوا نے ہسپتال میں داخل ہونے یا آپریشن کرانے سے قبل مریضوں کے لیے کوویڈ 19 ٹیسٹنگ کرانا لازمی قرار دے دیا ہے جب کہ صوبے میں رواں سال کے دوران پہلی بار ایک ہی روز میں وائرس سے 3 اموات ریکارڈ کی گئیں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز کے دفتر سے جاری ہونے والے نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ 2 ہفتوں کے دوران رپورٹ ہونے والے کورونا کے مثبت کیسز کے پیش نظر ہر مریض کو ہسپتالوں میں داخلے کے لیے کووڈ-19 ٹیسٹنگ کرانی ہوگی۔

تمام طبی اداروں، ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتالوں، ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسران اور میڈیکل سپرنٹنڈنٹس کو بھیجے گئے نوٹیفکیشن میں کووڈ-19 کے ٹیسٹوں کی کم تعداد پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا وائرس کے کیسز میں اضافہ، این سی او سی کا پابندیوں میں توسیع کا فیصلہ

محکمہ صحت کے حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ نمونے حاصل کرنے کی تعداد میں اضافہ کریں تاکہ انفیکشن کے پھیلاؤ کے بارے میں صحیح صورتحال کا پتا لگایا جا سکے۔

نوٹی فکیشن میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ ہفتے کورونا وائرس کی اوسط مثبت کیسز کی شرح ماضی کے مقابلے میں 4.7 فیصد رہی جب کہ کچھ اضلاع میں انفیکشن کی سطح 10 فیصد رہی جو خطرناک حد تک زیادہ تھی، تاہم، اس میں کہا گیا ہے کہ صوبے میں کم ٹیسٹنگ کی وجہ کو بھی بڑھتے ہوئے کسیز کی وجہ بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ فی الحال ہر مثبت مریض کے لیے اوسطاً صرف 1.3 رابطے میں رہنے والے افراد کا سراغ لگایا گیا ہے ، نیشنل گائیڈ لائن تجویز کرتی ہے کہ تصدیق شدہ مریض کے ساتھ رابطے میں رہنے والے 10 سے 15 قریبی افراد کے نمونے لیے جائیں۔

صوبہ بھر میں کووڈ-19 کے مثبت کیسز کے بارے میں صحیح صورتحال کو جاننے کے لیے تمام متعلقہ حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی گائیڈ لائنز کے مطابق عمل کریں۔

مزید پڑھیں: پاکستان میں یومیہ کورونا کیسز کی دوسری بلند ترین تعداد رپورٹ

خط میں کہا گیا ہے کہ اعلیٰ ترین سطح پر یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ مریضوں کو کووڈ-19 ٹیسٹ کروانے کے بعد ہی ہسپتال میں ایڈمٹ کیا جائے۔

اس خط میں مزید کہا گیا ہے کہ سانس کے مسائل میں مبتلا افراد اور ان کے تیمارداروں کی بھی وائرس اسکریننگ کی جانی چاہیے تاکہ صوبے میں وبائی مرض کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔

اس خط میں کہا گیا ہے کہ ہر طرح کی سرجری کے لیے ہسپتال میں داخل ہونے والے تمام مریضوں کا کورونا ٹیسٹ کیا جانا چاہیے اور اس سے متعلق معلومات حکام کے ساتھ شیئر کی جانی چاہیے۔

دوسری جانب، پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں مزید 3 افراد کے انتقال کے بعد صوبے میں اموات کی تعداد 6ہزار 339 ہوگئی۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں کورونا وائرس کے مزید ایک ہزار 579 کیسز، 52 اموات رپورٹ

تینوں مرنے والوں کی عمریں 65 سال سے زیادہ تھیں اور ان کو طبی مسائل کا سامنا تھا۔

محکمہ صحت کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 72 نئے مریضوں کا پتہ چلا، جس کے بعد صوبے بھر میں انفیکشنز کی تعداد 2 لاکھ 22 ہزار 539 ہوگئی۔

حکام نے بتایا کہ صوبے میں 2ہزار 593 ٹیسٹ کیے گئے، محکمہ وائرس کی موجودگی کو جاننے کے لیے روزانہ اوسطاً 7 ہزار نمونوں کا جائزہ لینا چاہتا ہے۔

مزید پڑھیں: پابندیوں میں نرمی کے بعد ملک میں کورونا کیسز میں دوبارہ اضافہ

ان کا کہنا تھا کہ ٹیسٹوں کی کم تعداد تشویشناک ہے، اس سے وبائی مرض کے وجود کے بارے میں شکوک پیدا ہوتے ہیں، اگر کوئی ضلع 10 نمونوں کا جائزہ لیتا ہے اور ان میں سے آدھے مثبت نکلتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ اس ضلع میں مثبت کیسز کی شرح 50 فیصد ہے۔

حکام نے کہا کہ ہم نے پہلے ہی مختلف اضلاع میں ایک درجن سے زیادہ پی سی آر لیبارٹریز قائم کی ہیں جو روزانہ 500 سے زیادہ ٹیسٹ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

پی سی آر ٹیسٹ تمام ہسپتالوں، فیلڈ میں قائم مراکز، گھروں، بس اسٹینڈز، اسٹیڈیم اور سیاحتی مقامات پر کیا جاتا ہے جس کا نتیجہ 10 منٹ میں سامنے آتا ہے۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں