ضلع گجرات کو پنجاب کا دسواں ڈویژن بنا دیا گیا

اپ ڈیٹ 18 اگست 2022
<p>وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی نے  آبائی شہر کو ڈویژنل ہیڈ کوارٹر بنانے میں اہم کردار ادا کیا—فائل فوٹو:ڈان</p>

وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی نے آبائی شہر کو ڈویژنل ہیڈ کوارٹر بنانے میں اہم کردار ادا کیا—فائل فوٹو:ڈان

پنجاب حکومت نے گجرات کو ڈویژن کا درجہ دے دیا جب کہ صوبے کے دسویں ڈویژن کے طور پر اس کا باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق گورنر پنجاب کی منظوری کے بعد سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو (بی او آر) کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق گجرات ڈویژن 3 اضلاع گجرات، منڈی بہاؤالدین اور حافظ آباد پر مشتمل ہوگا۔

سینئر انتظامی عہدیدار نے ڈان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ نیا ڈویژن گوجرانوالہ ڈویژن کو تقسیم کر کے بنایا گیا جو 6 اضلاع پر مشتمل سب سے بڑا ڈویژن تھا جس کی مجموعی آبادی تقریباً ایک کروڑ 60 لاکھ تھی۔

یہ بھی پڑھیں: وزیر اعلیٰ کا پنجاب میں گریجویشن تک مفت تعلیم کا اعلان

سینئر افسر نے نئے ڈویژن کے قیام کا کریڈٹ وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی اور ایم این اے مونس الٰہی کو دیا جنہوں نے اپنے آبائی شہر کو ڈویژنل ہیڈ کوارٹر بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

گجرات کے ڈپٹی کمشنر عامر شہزاد کانگ نے بتایا کہ ڈویژن میں تعینات ہونے سرکاری ملازمین اور افسران کے ڈویژنل ہیڈ کوارٹر دفاتر اور رہائش گاہوں کے قیام کے لیے مچیانہ گاؤں کے قریب 73 ایکڑ اراضی کی نشاندہی کی گئی ہے۔

سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو (ایس ایم بی آر) زاہد اختر زمان نے 3 روز قبل ڈویژنل دفاتر کے لیے مجوزہ سائٹ کا معائنہ کیا تھا، اس موقع پر زاہد اختر زمان، کے ہمراہ کمشنر گوجرانوالہ منصور قادر بھی موجودہ تھے، دوے کے دوران ڈی سی اور دیگر متعلقہ افسران نے سائٹ کے ترقیاتی منصوبے سے متعلق بریفنگ دی۔

مجوزہ جگہ کنجاہ اور منڈی بہاؤالدین کے قریب واقع ہے، حافظ آباد کو منڈی بہاؤالدین اور گجرات کے اضلاع سے ملانے والی سڑک کی حالت بہت خراب اور مسافروں کی سہولت کے لیے اس کی مرمت یا تعمیر نو کی ضرورت ہوگی۔

مزید پڑھیں: عمران خان اور وزیر اعلی پنجاب کا ویڈیو لنک پر رابطہ، سیاسی، انتظامی امور پر تبادلہ خیال

ڈویژنل ہیڈ کوارٹر کے لیے نشاندہی کی گئی جگہ ایک ایسے علاقے میں واقع ہے جہاں بڑے تعمیراتی منصوبے جاری ہیں، ان میگا پروجیٹکس میں انڈسٹریل اسٹیٹ کا فیز2 سمن ڈنگہ روڈ پروجیکٹ بھی شامل ہے۔

انتظامی عہدیدار کا مزید کہنا تھا کہ مقامی انتظامیہ اور محکمہ لینڈ ریونیو نے گجرات میں 2 نئی تحصیلیں جلال پور جٹاں اور کنجاہ کے قیام کے لئے تجاویز بھی تیار کرلی ہیں جنہیں مستقبل قریب میں اپ گریڈ کیا جا سکتا ہے۔

افسر کا کہنا ہے کہ 2 نئی تحصیلوں کے قیام کے لیے زیادہ تر ہوم ورک پہلے ہی مکمل ہو چکا۔

انہوں نے مزید کہا کہ مجوزہ تحصیل جلال پور جٹاں کو پہلے اپ گریڈ کیا جا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: چوہدری پرویز الہٰی نے وزیراعلیٰ پنجاب کا حلف اٹھا لیا

مسلم لیگ (ق) پنجاب کے سیکریٹری اطلاعات اور سابق وزیر تعلیم میاں عمران مسعود نے کہا کہ ان کی پارٹی نے ضلع گجرات کو ڈویژن بنانے کا وعدہ پورا کیا ہے جس کے پورے علاقے کے لوگوں کی زندگیوں پر بہت دور رس مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

ذرائع نے بتایا کہ گوجرانوالہ ڈویژن کی تحصیل وزیر آباد کو بھی ضلع کا درجہ دیا جا سکتا ہے جسے بعد میں گجرات ڈویژن میں شامل کیا جائے گا جب کہ پنجاب حکومت نے متعلقہ حکام کو اس سلسلے میں کام شروع کرنے کی ہدایات جاری کردی ہیں ۔

دوسری جانب، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سیکڑوں کارکنوں نے حافظ آباد میں ضلع کو نئے ڈویژن میں شامل کرنے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔

پی ٹی آئی کارکنوں نے ٹائر جلا کر سڑک کو بلاک کردیا اور پنجاب حکومت کے فیصلے کے خلاف نعرے بھی لگائے۔

مزید پڑھیں: سپریم کورٹ: ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ مسترد، چوہدری پرویز الہٰی وزیر اعلیٰ پنجاب قرار

ذرائع نے بتایا کہ حافظ آباد سے پی ٹی آئی کے واحد ایم این اے شوکت بھٹی اور پارٹی کے کچھ دیگر قانون سازوں نے ضلع حافظ آباد کو نئے ڈویژن میں شامل کرنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پارٹی کے سینئر رہنماؤں کے ساتھ معاملہ اٹھایا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی تحریک انصاف کے رہنماؤں اور کارکنوں کے تحفظات دور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں