سیلاب کی تباہ کاریوں سے نمٹنے کیلئے حکومت کا عالمی سطح پر اپیل کا فیصلہ

اپ ڈیٹ 24 اگست 2022
شہباز شریف نے قوم سے بھی سیلاب زدگان کی مدد کرنے کی اپیل کی ہے —فوٹو : پی پی آئی
شہباز شریف نے قوم سے بھی سیلاب زدگان کی مدد کرنے کی اپیل کی ہے —فوٹو : پی پی آئی

پاکستان بھر میں بڑے پیمانے پر سیلاب کی تباہ کاریوں کے سبب حکومت نے سیلاب متاثرین کی امداد اور تباہ شدہ انفرااسٹرکچر کی بحالی کے سلسلے میں درکار فنڈز کے لیے عالمی سطح پر اپیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کےمطابق یہ فیصلہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کی جانب سے پاکستان میں سیلاب کی ہنگامی صورتحال پر ایک ہنگامی بریفنگ کے دوران کیا گیا جسے سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا ازسرنو جائزہ لینے اور ترقیاتی شراکت داروں اور عطیہ دہندگان کو بحران کی شدت سے آگاہ کرنے کے لیے طلب کیا گیا تھا۔

مون سون کی غیر معمولی بارشوں سے ہونے والی تباہی پر قابو پانے کے لیے عالمی سطح پر اپیل کے فیصلے کے علاوہ وزیر اعظم شہباز شریف نے قوم سے بھی سیلاب زدگان کی مدد کرنے کی اپیل کی ہے کیونکہ حکومت کو سیلاب زدگان کی بحالی کے لیے سیکڑوں ارب روپے درکار ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت: شدید بارشوں کے بعد سیلاب آنے سے 15 افراد ہلاک

وزیر اعظم نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ ’موجودہ امدادی آپریشن کے لیے 80 ارب روپے درکار ہیں اور نقصانات پر قابو پانے کے ساتھ ساتھ متاثرین کی بحالی کے لیے بھی سیکڑوں ارب روپے کی ضرورت ہے‘۔

شہباز شریف نے کہا کہ سیلاب متاثرین کو 25 ہزار روپے کی نقد امداد دی جارہی ہے، اسی طرح حکومت زخمیوں اور مکانات کو پہنچنے والے نقصانات کے لیے اضافی امداد کے ساتھ ساتھ متوفین کے لواحقین کو 10 لاکھ روپے کا معاوضہ بھی فراہم کرے گی۔

فنڈز کی اپیل

وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی زیر صدارت این ڈی ایم اے کے اجلاس کے شرکا کو بتایا گیا کہ سیلاب سے اب تک ملک بھر میں 830 افراد جاں بحق، تقریباً ایک ہزار 348 زخمی اور ہزاروں افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔

اجلاس کے دوران وزیر منصوبہ بندی نے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے صوبے بلوچستان اور سندھ کی حکومتوں سے کہا کہ وہ سیلاب کی تباہ کاریوں سے نمٹنے کے لیے فوج سے باضابطہ طور پر مدد طلب کریں۔

مزید پڑھیں: وزیراعظم کا بلوچستان کے سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ، متاثرین کیلئے امداد کا اعلان

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی شیری رحمٰن نے تباہ کن سیلاب کے تناظر میں انسانی بنیادوں پر بچاؤ کی فوری کوششوں پر زور دیا، انہوں نے اعتراف کیا کہ پاکستان خود اس صورتحال سے نمٹنے کے قابل نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’ابھی ہم طوفانی مون سون کے ساتویں دور کا سامنا کر رہے ہیں جس کے سبب ہزاروں افراد بے گھر، 830 جاں بحق اور ایک ہزار 348 زخمی ہوگئے ہیں، بلوچستان سے مون سون سسٹم سندھ کی جانب آگیا جہاں 30 اضلاع زیر آب ہیں، اس کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ سندھ میں اوسطاً بارشوں سے 395 فیصد اور بلوچستان میں 379 فیصد زیادہ بارش ہوئی ہے‘۔

شیری رحمٰن نے موجودہ صورتحال کا موازنہ 2010 میں آنے والے سیلاب سے کیا جس نے پاکستان میں تباہی مچا دی تھی۔

انہوں نے کہا کہ سندھ کے کم از کم 30 اضلاع، تقریباً پورا بلوچستان اور جنوبی پنجاب شدید انسانی تباہی کا سامنا کر رہے ہیں، لوگ جان و مال کی حفاظت کے لیے بھاگ دوڑ کر رہے ہیں، مویشیوں اور فصلوں کو نقصان پہنچا ہے، یہ صورتحال ایک انسانی آفت کے مترادف ہے‘۔

مزید پڑھیں: سندھ میں بارشوں کے بعد سیلاب، 13 لاکھ افراد متاثر، 5 لاکھ بے گھر

شیری رحمٰن نے مزید کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومتیں اس آفت کی شدت کے پیش نظر صورتحال سے نمٹنے کے قابل نہیں ہیں، انہوں نے بین الاقوامی شراکت داروں پر زور دیا کہ وہ امدادی مہم کو فعال کریں۔

انہوں نے کہا کہ ’سندھ میں اونچے درجے کا سیلاب ہے جہاں 23 اور 24 اگست کو 6 لاکھ کیوسک سے زیادہ کا بہاؤ گڈو اور پھر سکھر بیراج سے گزرے گا جس سے دریائے سندھ کے ساتھ ساتھ کچے کا تمام علاقہ زیر آب آجائے گا اور ہزاروں خاندان بے گھر ہو جائیں گے‘۔

شیری رحمٰن نے نقصانات کی تفصیلات بتاتے ہوئے مزید کہا کہ کم از کم 216 جانیں ضائع ہو چکی ہیں، ایک اندازے کے مطابق ڈیڑھ لاکھ کچے مکانات کو نقصان پہنچا ہے اور سندھ میں 19 لاکھ 89 ہزار 868 ایکڑ پر کاشت کی گئی فصلیں مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں۔

یورپی یونین کی جانب سے امداد

دریں اثنا اس حوالے سے یورپی یونین نے پاکستان کو انسانی امداد کے لیے 7 کروڑ 60 لاکھ روپے فراہم کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے جسے جھل مگسی اور لسبیلہ کے سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع میں شدید متاثرین کی فوری ضروریات کو پورا کرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

مزید پڑھیں: وزیر اعظم کی بلوچستان کے سیلاب زدہ علاقوں میں چوبیس گھنٹے نگرانی کی ہدایت

پاکستان میں یورپی یونین کے انسانی ہمدردی کے پروگراموں کی نگرانی کرنے والی طہینی تھمناگوڈا نے کہا کہ تباہ کن سیلاب نے پاکستان میں تباہی کی ایک داستان چھوڑی ہے جس کی وجہ سے بہت سے لوگوں کو اپنے گھروں، معاش اور سامان کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یورپی یونین کی مالی اعانت اس مشکل وقت میں سب سے زیادہ کمزور لوگوں کی مدد کرنے کے لیے اہم معاونت کرے گی۔

بلوچستان میں 232 ہلاکتیں

دریں اثنا ہزاروں خاندان بلوچستان میں موسلادھار بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے پھنسے ہوئے ہیں جو مکانات کو بہا لے گیا اور پوری بستیاں زیر آب آگئیں۔

صوبے کا ملک کے دیگر حصوں سے رابطہ تاحال منقطع ہے کیونکہ متعلقہ حکام بلوچستان کو دوسرے صوبوں سے ملانے والی سڑک اور ریل ٹریک کو بحال کرنے میں اب تک ناکام ہیں۔

مزید پڑھیں: کوئٹہ سمیت بلوچستان میں مون سون بارشوں نے تباہی مچادی

حکام نے مزید بارشوں کا انتباہ بھی جاری کیا ہے، سیلاب کے سبب جان سے ہاتھ دھونے والوں کی تعداد 232 تک جا پہنچی جبکہ پہاڑی ندی نالوں میں بہہ جانے والے درجنوں افراد تاحال لاپتا ہیں۔

سرکاری ذرائع کے مطابق نصیر آباد، جعفر آباد، صحبت پور، جھل مگسی، قلات، بولان اور لسبیلہ کے اضلاع کو شدید سیلاب کا سامنا ہے۔

تبصرے (0) بند ہیں