پاکستان کی ایل این جی سپلائرز کو بروقت ادائیگی کی یقین دہانی

اپ ڈیٹ 29 اگست 2022
<p>پی ایل ایل نے 6 اگست کو ٹینڈر جاری کیے جن کی آخری تاریخ 13 ستمبر ہے— فائل فوٹو:ڈان</p>

پی ایل ایل نے 6 اگست کو ٹینڈر جاری کیے جن کی آخری تاریخ 13 ستمبر ہے— فائل فوٹو:ڈان

پاکستان نے عالمی ایل این جی سپلائرز کو آئندہ 6 برسوں میں ان کے اسپاٹ کارگوز کی بروقت ادائیگی کے لیے اسٹینڈ بائی لیٹرز آف کریڈٹ (ایس بی ایل سیز) کے ذریعے اعلیٰ ساکھ کے عالمی بینکوں کی یقین دہانی کرائی ہے

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ریاست کے ماتحت چلنے والی کمپنی پاکستان ایل این جی لمیٹڈ (پی ایل ایل) نے عالمی بولی دہندگان اور سپلائرز کو بتایا ہے کہ اسے آئندہ 6 سالوں (2023-28) کے دوران ماہانہ ایک کارگو کے حساب سے 72 کارگوز کی ضرورت ہے۔

پاکستان ایل این جی لمیٹڈ نے 6 اگست کو ٹینڈر جاری کیے تھے جن کی بڈنگ کے لیے آخری تاریخ 13 ستمبر تھی، تاہم ادائیگیوں کے توازن کے درپیش چیلنجوں کے باعث عالمی کمپنیوں نے پیسوں کی ادائیگی کے لیے یقین دہانی یا خودمختار ضمانتوں کامطالبہ کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: ایل این جی ٹینڈر ڈیفالٹ پاکستان کے لیے رحمت بن گیا

پی پی ایل کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں وہ ایک شیڈول بینک سے ایک ایس بی ایل سی جاری کرے گی، اس بینک سے جس کی طویل مدتی کریڈٹ ریٹنگ پیکرا/جے سی آر-سی آئی ایس یا کسی اچھی ساکھ والی عالمی کریڈٹ ایجنسی کی جانب سے ریٹنگ ڈبل اے ہو۔

اس سلسلے میں ی پی ایل ایک ایس بی ایل سی یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ (یو بی ایل) کی جانب سے جاری کرسکتا ہے اور بولی دہندگان سے کہا گیا ہے کہ وہ بھی اعلیٰ عالمی بینکوں، یعنی جے پی مورگن، سٹی بینک اور ڈوئچے بینک کے ذریعے ایس بی ایل سی کی تصدیق کراسکتے ہیں، تاہم کمپنی نے وزارت خزانہ کی جانب سے خود مختار گارنٹی فراہم کرنے سے انکار کر دیا۔

پی پی ایل نے اپنے ٹینڈر میں یہ بھی وضاحت کی ہے کہ ٹینڈر کے حصول کے لیے طے کردہ معیار کے تحت بولی لگانے والی کمپنی ایل این جی فراہم کنندہ یا پروڈیوسر کی جانب سے فراہم کردہ خط کی صورت میں ایسا دستاویزی ثبوت فراہم کر سکتی ہے جس میں واضح طور پر کہا گیا ہو کہ ٹینڈر کے تحت پاکستان کو فراہم کرنے کے لیے متعلقہ ادارے کے پاس سالانہ بنیادوں پر 2023 سے 2028 تک کم از کم 10 لاکھ ٹن ایل این جی دستیاب ہے۔

مزید پڑھیں: گیس بحران کے پیشِ نظر پاکستان نے اب تک کا سب سے مہنگا ایل این جی کارگو قبول کرلیا

ٹینڈر میں کہا گیا ہے کہ بولی دہندگان کی جانب سے اس یقین دہانی کی توثیق بل آف لڈنگ کی کاپی، فائنل ڈسچارج رپورٹ یا اسی طرح کی دوسری دستاویزات سے بھی ہونی چاہیے جو اس بات کی تصدیق کرے کہ بولی لگانی والی کمپنی باقاعدہ ایک ایل این جی کارگو سپلائر ہے۔

اپنے جاری کردہ ٹینڈر میں کمپنی نے برینٹ سے غیر منسلک قیمتوں کے تعین سے متعلق تجاویز کے ساتھ، مختلف سائز کے کارگوز یا 6 برسوں کے دوران 72 سے کم یا ماہانہ ایک کارگو سے کم کے لیے دی جانے والی کسی بھی بولی کو قبول کرنے سے انکار کردیا ہے۔

طلب کیے گئے ٹینڈرز میں ان 72 کارگوز کی ترسیل کی مدت جنوری 2023 سے شروع ہو کر دسمبر 2028 تک ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان جولائی کیلئے تین ایل این جی کارگو کی خریداری میں ناکام

پاکستان گزشتہ چند مہینوں کے دوران کسی بھی اسپاٹ کارگو کی خریداری میں کامیاب نہیں ہوسکا ہے کیونکہ یوکرین اور روس جنگ کے بعد عالمی قیمتوں میں توقعات سے زیادہ اضافہ ہوا جب کہ روس کی جانب سے سپلائی متاثر ہونے کی وجہ سے یورپی ممالک اپنی گیس کی زیادہ تر ضروریات عالمی اسپاٹ مارکیٹ سے پوری کر رہے ہیں۔

دو حصوں پر مشتمل ٹینڈرز کے تحت، پی ایل ایل کی نے پہلے سال (جنوری-دسمبر 2023) کے لیے 12 کارگوز بڈز طلب کی ہیں جب کہ اور پھر آئندہ 5 برسوں جنوری 2024 سے شروع ہو کر دسمبر 2028 تک کے لیے 60 کارگوز کے لیے بولیاں طلب کی ہیں۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں