یوکرین نے مشرق میں روسی افواج سے اہم سپلائی مرکز کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرلیا

اپ ڈیٹ 11 ستمبر 2022
یوکرینی فوج نے روسی فوج سے اہم سپلائی مرکز چھین لیا — فوٹو: اے ایف پی
یوکرینی فوج نے روسی فوج سے اہم سپلائی مرکز چھین لیا — فوٹو: اے ایف پی

یوکرین فوج کے سربراہ نے دعویٰ کیا کہ رواں ماہ کے شروع میں جوابی حملے شروع ہونے سے اب تک مشرقی یوکرین میں روس کے قبضے سے 3 ہزار مربع کلومیٹر پر مشتمل علاقہ واپس لے لیا گیا ہے۔

قبل ازیں، 8 ستبمبر کو یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا تھا کہ ایک ہزار اسکوائر کلومیٹر پر مشتمل علاقوں پر دوبارہ کنٹرول کیا گیا ہے، تاہم گزشتہ روز یہ تعداد 2 ہزار اسکوائر کلومیٹر تک بتائی گئی تھی۔

یوکرینی فوج نے آج جاری کردہ بیان میں کہا کہ خارکیف خطے کے اضلاع ایزم اور کوپیانسک میں بستیوں کی آزادی کا عمل جاری ہے۔

یہ دونوں شہر سپلائی اور لاجسٹک کے اہم مرکز ہیں جن پر روس مشرق میں اپنی صف اول کی پوزیشنوں کو بحال کرنے کے لیے انحصار کرتا ہے۔

فوجی مبصرین کا کہنا ہے کہ یوکرین کی طرف سے دونوں شہروں پر قبضہ واپس حاصل کرنا خارکیف میں ماسکو کے فوجی عزائم کے لیے ایک سنگین دھچکا ہو گا۔

قبل زیں، ڈان اخبار میں شائع غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق یوکرینی فوج نے مشرقی شہر کوپیانسک میں داخل ہوکر جوابی حملہ کرکے روسی فوج کو ایک اہم لاجسٹک مرکز سے باہر کرتے ہوئے علاقے کے وسیع حصے پر دوبارہ قبضہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

جرمنی کی وزیر خارجہ اینالینا بیرباک اچانک دورے پر یوکرین کے دارالحکومت کیف پہنچی ہیں جس کے لیے ان کا کہنا ہے کہ اس دورے کا مقصد روس کے خلاف جنگ میں جرمنی کی طرف سے یوکرین کی حمایت کا اظہار کرنا ہے۔

یوکرین کی خصوصی فورس نے سوشل میڈیا پر کچھ تصاویر جاری کیں جن میں کیموفلاج پہنے افسران کو خودکار ہتھیاروں سے لیس کوپیانسک میں دیکھا جاسکتا ہے۔

مزید پڑھیں: جنگ کے 100 دن: روس نے یوکرین کے 20 فیصد حصے پر قبضہ کرلیا

تصاویر کے ساتھ بیان میں لکھا گیا تھا کہ ’یہ یوکرینی تھا اور ہمیشہ رہے گا۔‘

تقریباً 27 ہزار افراد پر مشتمل یہ قصبہ مشرق میں روسی افواج کے لیے ایک اہم سپلائی راستے پر قائم ہے جو رواں برس 24 فروری کو روس کی جانب سے یوکرین پر حملے کا حکم دینے کے بعد پہلے ہفتے میں ہی روسی فوج کے قبضے میں آگیا تھا۔

جنگ کے مبصرین کی یوکرینی فوج سے یہ امید ہے کہ وہ روس کی سرحد کے قریب خارکیف خطے میں مزید پیش قدمی کا اعلان کریں جس پر یا تو روس کا کنٹرول رہا ہے یا روسی فوج کے میزائلوں کا نشانہ بنتے آرہا ہے۔

'حیران کن پیش قدمی'

اس بات کی تصدیق نہیں کی گئی کہ یوکرینی فوج نے روسی جنگ کے لیے مرکز کے طور پر استعمال ہونے والے شہر ایزم سے روسی فوجیوں کو باہر نکالا ہے جس کی آبادی جنگ سے قبل 45 ہزار تھی۔

یہ بھی پڑھیں: روس، یوکرین جنگ کئی برسوں تک جاری رہ سکتی ہے، نیٹو سربراہ

تاہم یوکرین کی خصوصی فورس کے طرف سے سوشل میڈیا پر جاری ہونے والی تصاویر میں یوکرینی فوج کو شہر میں دیکھا جاسکتا ہے، تاہم روسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ماسکو سے ابتدائی طور پر یہ رپورٹس تھیں کہ روسی فوج پہلے ہی شہر سے نکل چکی تھی۔

یوکرین کی وزارت خارجہ کے ترجمان اولیگ نیکولنکو نے سوشل میڈیا پر جاری کردہ بیان میں کہا کہ یوکرینی فوج مزید شہروں اور گاؤں کو آزاد کرتے ہوئے مشرقی حصے کی طرف بڑھ رہی ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ مغربی فوج کی حمایت سے یوکرینی فوج اپنی بہادری سے مزید حیران کن پیش قدمی کے طرف گامزن ہے۔

ترجمان اولیگ نیکولنکو نے مزید کہا کہ یوکرین کو اسلحہ دینے کا عمل جاری رکھنا بہت ضروری ہے کیونکہ روس کو جنگ کے میدان میں شکست دینے کا مطلب یوکرین میں امن کی فتح ہے۔

یوکرین کی کامیابیوں کی رفتار پر ان کا اندازہ اس وقت سامنے آیا جب صدر ولودیمیر زیلنسکی نے جمعہ کو اعلان کیا کہ ان کے فوجیوں نے شمال مشرقی خارکیف کے علاقے کے تقریباً 30 قصبوں اور دیہاتوں پر دوبارہ قبضہ کر لیا ہے۔

یوکرین کے دباؤ سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں نے روس کے متعدد فوجیوں کو پکڑ لیا ہے۔

ایزم کی روسی حمایت یافہ انتظامیہ کے سربراہ ولادیسلاو سوکولوف نے سرکاری خبر رساں ایجنسی ’آر آئی اے نووستی‘ کو بتایا کہ خطے میں صورتحال بہت کشیدہ ہے جیسا کہ گزشتہ دو ہفتوں سے شہر کو یوکرینی فوج کی بمباری سے نشانہ بنایا جارہا ہے جس سے بڑے پیمانے پر تباہی کے ساتھ ساتھ لوگ ہلاک اور زخمی ہو رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: روس-یوکرین جنگ کے نتائج پر امریکا نے پاکستان کو خبردار کردیا

ماسکو نے 9 اگست کو اعلان کیا تھا کہ وہ خارکیف میں مدد کے لیے فوج بھیج رہا ہے جہاں سرکاری میڈیا پر تصاویر میں ٹینک اور توپ خانے اور امدادی گاڑیاں کچی سڑکوں پر چلتی دکھائی دے رہی تھیں۔

'خوفناک منظر '

اے ایف پی کے صحافی نے رپورٹ کیا کہ آگے بڑھتی یوکرینی فوج کے ہاتھوں دوبارہ کنٹرول میں لیے جانے والے گاؤں میں بجلی کے پولز گرے ہوئے تھے جبکہ کیبلز زمین پر بکھری ہوئی تھیں اور گھر بھی اجڑے ہوئے تھے۔

یوکرینی فوج کے جوابی حملوں کے بعد روسی فوج سے گاؤں کو دوبارہ خالی کرواتے ہوئے جنگ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے 61 سالہ اناتولی واسیلیف نے کہا کہ ’یہ بہت خوفناک تھا کیونکہ ہر طرف بمباری اور دھماکے تھے‘۔

ایک ترجمان نے کہا کہ یوکرین کے فوجی جنوبی فرنٹ لائن کے کچھ علاقوں کے طرف بھی پیش قدمی کر رہے ہیں جہاں حملے کے آغاز میں روسی فوجیوں نے قبضہ کیا تھا۔

دریں اثناء روسی خبر رساں ایجنسیوں نے کاخووکا میں چھ بڑے بم دھماکوں کی اطلاع دی جو کہ جنوبی کھیرسن کے علاقے میں روسی فوجیوں کے زیر قبضہ ہے۔

'ہم یوکرین کے ساتھ کھڑے ہوں گے'

جرمنی کی وزیر خارجہ اینالینا بیرباک ہفتے کے روز یوکرین کے اپنے دوسرے دورے کے لیے کیف پہنچی تھیں جو کہ یوکرین کے وزیر اعظم ڈینس شمیگل کے برلن کے دورے کے ایک ہفتے بعد ہوا ہے جہاں انہوں نے کیف کی جانب سے ہتھیاروں کی مدد کی درخواست کی تھی۔

مزید پڑھیں: روس کا امریکا پر یوکرین جنگ میں براہ راست ملوث ہونے کا الزام

اپنے دورے کے دوراں انہوں نے کہا کہ میں نے کیف کا دورہ اس لیے کیا ہے کہ انہیں بتایا جائے کہ ہم پر مسلسل انحصار کر سکتے ہیں کہ ہم ہتھیاروں کی فراہمی، انسانی بنیادوں پر امداد اور معاشی مدد کے ساتھ ان کے ساتھ مسلسل کھڑے ہوں گے۔

گزشتہ ہفتوں میں جرمنی نے کیف کو ہووٹزر، راکٹ لانچرز اور طیارہ شکن میزائل بھیجے جو مغربی فراہم کردہ ہتھیاروں کے اسلحے کا حصہ ہیں جن کے بارے میں مبصرین کا کہنا ہے کہ اس سے روس کی سپلائی اور کمانڈ کی صلاحیتوں کو نقصان پہنچا ہے۔

تبصرے (0) بند ہیں