نئے انتخابات ملک کے لیے بہتر ثابت ہوں گے، عمران خان

اپ ڈیٹ 19 ستمبر 2022
<p>عمران خان نے کہا کہ عطیہ دہندگان کو امدادی رقم کی تقسیم کے حوالے سے ڈیٹا تک رسائی دی جائے گی—فوٹو: پی ٹی آئی توئٹر</p>

عمران خان نے کہا کہ عطیہ دہندگان کو امدادی رقم کی تقسیم کے حوالے سے ڈیٹا تک رسائی دی جائے گی—فوٹو: پی ٹی آئی توئٹر

سابق وزیراعظم عمران خان نے پنجاب کابینہ سے ملاقات کے دوران ایک بار پھر نئے انتخابات کا مطالبہ دہراتے ہوئے کہا کہ ملک میں نئے انتخابات پاکستان تحریک انصاف کے لیے نہیں بلکہ ملک کے لیے مؤثر ثابت ہوں گے۔

ڈان اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا کہ انہوں نے سیلاب زدگان کے لیے تیسری ٹیلی تھون کی میزبانی کی، ان کا کہنا تھا کہ ٹیلی تھون میں دنیا بھر سے عطیہ دہندگان نے سیلاب سے بے گھر افراد کے لیے 3 ارب 60 کروڑ روپے امدادی رقم دینے کا وعدہ کیا ہے، سابق وزیراعظم عمران خان نے عطیہ دہندگان کو یقین دلایا کہ وہ ٹیلی تھون کے ذریعے جمع کیے گئے عطیات کی تقسیم کے لیے ڈیجیٹل طریقہ کار اپنائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: عمران خان 5 ارب روپے امداد کے اعلانات پر اہلِ وطن و سمندر پار پاکستانیوں کے مشکور

واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے گزشتہ 2 ٹیلی تھون میں 10 ارب روپے امدادی رقم جمع کرنے کا وعدہ کیا تھا۔

اسلام آباد میں پنجاب ہاؤس میں ملاقات کے دوران عمران خان نے 17 جولائی کے ضمنی انتخابات میں پارٹی کی فتح پر پنجاب کے وزرا کو مبارکبار دی اور کہا کہ پاکستان تحریک انصاف ’ پُرامن جدوجہد’ کے ذریعے آئندہ عام انتخابات میں بھی کامیاب ہوگی’۔

پنجاب ہاؤس میں ملاقات کے دوران سیاسی شخصیات پر تنقید کی گئی جبکہ میڈیا پر پابندیوں، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے معاملات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، اجلاس میں صوبائی اراکین اسمبلی کے مطالبات کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کا فیصلہ کیا گیا، اس کے علاوہ اتحادی جماعتوں کے درمیان تعاون پڑھانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔

اجلاس میں عوام سے تعلقات بہتر بنانے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔

مزید پڑھیں: عمران خان سے چھٹکارا حاصل کرنے کیلئے مذہب کارڈ استعمال کیا جارہا ہے، فواد چوہدری

عمران خان نے وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہیٰ کو ‘تجربہ کار سیاستدان’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف ان کی حمایت جاری رکھے گی۔

اجلاس کے دوران 4 قراردادیں منظور کی گئیں، پہلی قرارداد میں سیلاب زدگان سے یکجہتی کا اظہار کیا گیا اور عمران خان کی جانب سے سیلاب متاثرین کے لیے امدادی رقم جمع کرنے کے لیے ٹیلی تھون کے انعقاد کو بہترین طریقہ قرار دیا۔

دوسری قرارداد میں اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافے کی مذمت کی گئی جبکہ تیسری قرارداد میں عمران خان کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کیا گیا۔

چوتھی قراردار میں مذہب کو بنیاد بنا کر عمران خان کے خلاف چلائی جا رہی مہم کی مذمت کی گئی۔

تیسری ٹیلی تھون

عمران خان نے تیسری ٹیلی تھون میں سیلاب زدگان کے لیے امدادی رقم جمع کرنے کے دوران کہا کہ یہ رقم شفاف طریقے سے سیلاب متاثرین کو پہنچائی جائے گی، انہوں نے کہا کہ عطیہ دہندگان کو امدادی رقم کی تقسیم کے حوالے سے ڈیٹا تک رسائی دی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں: عمران خان کا سندھ کے سیلاب زدگان کیلئے ایک ارب روپے امداد کا اعلان

اس سے قبل ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے بتایا کہ فنڈز کی تقسیم میں شفافیت یقینی بنانے کے لیے ڈیجیٹل نظام متعارف کروایا جائے گا۔

ٹیلی تھون کے دوران عمان سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے 10 لاکھ روپے عطیہ کرنے کا اعلان کیا جبکہ جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والے ایک اور شخص نے 15 لاکھ روپے عطیہ کیے، اسی طرح پاکستان تحریک انصاف کے امریکی دھڑے کے پارٹی آفیسر نے پنجاب اور خیبرپختونخوا کے لیے 10 لاکھ روپے عطیہ کرنے کا اعلان کیا۔

فواد چوہدری کا چیف آف آرمی اسٹاف کی تعیناتی پر بیان

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے نئے آرمی چیف کی تعیناتی کے حوالے سے نواز شریف کی مداخلت پر سوال اٹھایا، یاد رہے کہ نواز شریف سنہ 2019 سے لے کر اب تک لندن میں خود ساختہ جلاوطنی اختیار کیے ہوئے ہیں۔

فواد چوہدری نے پاکستان مسلم لیگ(ن) کے قائد کو مجرم قرار دیتے ہوئے کہا کہ خرم دستگیر نے واضح طور پر کہا ہے کہ نئے آرمی چیف کا انتخاب نواز شریف کریں گے، خرم دستگیر کے اس بیان کے بعد اداروں کو سوچنا چاہیے۔

مزید پڑھیں: وزیر اعظم کی نواز شریف سے ملاقات، پنجاب حکومت کی تبدیلی، اہم تعیناتیوں پر تبادلہ خیال

فواد چوہدری نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما خرم دستگیر کی جانب سے گوجرانوالہ میں کی جانے والی پریس کانفرنس کا حوالہ بھی دیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ شہباز شریف آرمی چیف کے تقرر کا فیصلہ بڑے بھائی نواز شریف سے مشاورت کے بعد کریں گے۔

خرم دستگیر کے اس بیان کے بعد فواد چوہدری نے فوج سے مداخلت کی درخواست کی ہے، اُن کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ پاکستان تحریک انصاف سے زیادہ فوج کے لیے باعث تشویش ہے۔

پی ٹی آئی رہنما نے ڈان سے گفتگو کے دوران اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک شخص جو اپنے خلاف فوجداری مقدمات کی وجہ سے پاکستان واپس نہیں آرہا، وہ آرمی چیف کا تقرر کرے گا، اس لیے انہیں اس بات پر غور کرنا چاہیے۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں