بچوں کو موبائل فون سے دور رکھنے کے 9 طریقے آزمائیں

اپ ڈیٹ 22 ستمبر 2022
<p>بچوں کو کم ان کم 60 منٹ آؤٹ ڈور گیمز یا گھر سے باہر میدان میں کھیلنا چاہیے</p>

بچوں کو کم ان کم 60 منٹ آؤٹ ڈور گیمز یا گھر سے باہر میدان میں کھیلنا چاہیے

موبائل فون، آئی پیڈ یا ٹیلی ویژن کا استعمال ہماری زندگی میں عام ہوگیا ہے، دوستوں سے بات کرنی ہو یا فیملی سے، شاپنگ کرنی ہو یا ویڈیو گیم کھیلنی ہو، تازہ ترین خبریں پڑھنی ہوں یا انٹرٹینمنٹ کے حوالے سے کوئی تبصرہ پڑھنا ہو، ہم سب لوگ موبائل فون یا ٹیبلٹ کا استعمال کرتے ہیں۔

یہاں تک کہ آج کل کے بچے اسکول میں بھی موبائل فون یا آئی پیڈ کا استعمال کرتے ہیں، ان تمام صورت حال میں ہم یہ سوچنے پر مجبور ہوگئے ہیں کہ ہمارے بچوں کے لیے ‘اسکرین ٹائم’ کتنا اہم ہے؟

انڈیانا کی ویب سائٹ ‘ہیلتھ پارٹنر’ کی رپورٹ کے مطابق نئے دور میں بچوں کو جدید ٹیکنالوجی کے بارے میں معلومات دینا ضرورت بن گیا ہے لیکن ہمیں اس بات کی بھی یقین دہانی کرنے کی ضرورت ہے کہ ہمارے بچے موبائل فون اسکرین یا ٹیبلٹ پرمکمل طور پر انحصار نہ کر رہے ہوں کیونکہ اگرچہ انٹرنیٹ اور ایپلی کیشن میں ایسی گیمز اور وسائل بھی موجود ہیں، جس کی مدد سے ہم تعلیمی معلومات حاصل کرسکتے ہیں لیکن اس بات کے بہت کم امکانات ہیں کہ اس طرح کی معلومات چھوٹے بچے کی علمی نشوونما میں مدد کرسکتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: موبائل فونز اور بچوں کی رغبت سے بنتی ہے والدین کی درگت

جرنل آف امریکن میڈیکل ایسوسی ایشن (جاما) کے مطابق درحقیقت بہت زیادہ موبائل فون اسکرین استعمال کرنے سے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں، جن میں کمزور تعلیمی کارکردگی، موٹاپا، بچوں میں منفی رویے جیسے اثرات مرتب ہوتے ہیں، اسی لیے بچوں کو کم از کم 60 منٹ آؤٹ ڈور گیمز یا گھر سے باہر میدان میں کھیلنا چاہیے، جس سے بچوں میں توازن میں بہتری، سماجی مہارت، زبان اور دیگر خوبیاں جنم لیتی ہیں۔

والدین کی عام شکایت یہ ہے کہ ‘ہمارے بچے پورا دن ٹی وی، آئی پیڈ یا موبائل فون کے استعمال میں مصروف رہتے ہیں اور ہم ان سے یہ عادت ختم نہیں کرپارہیں’ تو ہمارا آپ سے سوال ہے کہ آپ ایسے وقت میں کیا کریں گے؟ آپ بچوں کو کون سی سرگرمیوں میں مشغول ہونے کا مشورہ دیں گے تاکہ بچوں کی نشوونما بہتر ہوسکے اور موبائل فون سے دور رہیں؟

مزید پڑھیں: 9 سال کے 42 فیصد بچے موبائل فونز کے مالک

بچوں کو موبائل فون سے دور رکھنے اور ان کی نشوونما کو بہتر کرنے کے لیے 9 طریقے یہ ہیں:

1-مثال قائم کریں

بظاہر ایسا لگتا نہیں ہے لیکن بچے اپنے اطراف میں ہونے والی سرگرمیوں پر غور کرتے ہیں، اکثر والدین اپنے بچوں سے کہتے ہیں ‘وہ کام مت کرو جو میں کرتا ہوں بلکہ وہ کام کرو جو میں کہہ رہا ہوں’ لیکن یہ کافی نہیں ہے، کیا آپ کے گھر میں بچوں کے لیے دوپہر اور رات کے کھانے میں موبائل فون نہ استعمال کرنے کا کوئی قانون موجود ہے؟ اس کا مطلب والدین بھی اِس وقت فیس بک یا انسٹاگرام استعمال نہیں کرسکتے۔

ایک تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ والدین جتنا زیادہ موبائل فون استعمال کرتے ہیں، وہ اسی طرح بچوں کی نشوونما پر توجہ نہیں دے سکتے، بچے کو دنیا سے زیادہ باخبر رہنے کے لیے، آپ کو معاشرے میں انہیں مختلف مواقع دینا ہوں گے، آؤٹ ڈور گیمز پلان کریں، بچوں کو نئی صلاحیتیں اورہنر سکھائیں، مثال کے طور پر بائیکنگ، تیراکی، کیمپنگ، آرٹ اینڈ کرافٹ جیسی سرگرمیاں بہت فائدہ مند رہیں گی۔

2-گھر سے باہر وقت گزاریں

الیکٹرونک گیمز اور ٹی وی کے تعلیمی پروگرام بچے کے ذہن کو نکھارنے میں مدد کریں گی لیکن یاد رہے اس کی وجہ سے دماغ اکتا جائے گا، ایسے میں اس کا حل یہ ہے کہ آپ بچوں کو قدرتی مناظر دکھائیں، روزانہ یا ہفتے میں ایک بار اپنے ہمسایے میں ضرور لے کر جائیں یا کسی پارک چلے جائیں، اگر ہائکنگ کرسکتے ہیں تو بہترین ہے، اس سے بچے کا دماغ پُرسکون رہے گا۔

3- پڑھنے کی عادت ڈالیں

اب ضروری نہیں کہ تمام سرگرمیاں گھر سے باہر ہوں، گھر کے اندر بھی آپ بہت کچھ کرسکتے ہیں، جیسا کہ بچوں کے اسکول کی چھٹیوں کے دوران آپ انہیں کتابوں کی فہرست دیں اور انہیں پڑھنے کی ترغیب دیں۔

پڑھنے کے بھی چند اصول ہوتے ہیں، اپنے بچوں کو دنیا جہاں کی کتابیں اٹھا کر نہ دیں بلکہ تقریری مہارتوں پر مبنی، منطقی سوچ کے حوالے سے کتابیں مؤثر ثابت رہیں گی اور جب موقع ملے تو بچوں کو مزاحیہ کتابیں بھی پڑھ کر سنائیں۔

4- کھیلوں کی ترغیب دیں

بچے اگر کھیلیں گے تو ان کی دماغی نشوونما میں اضافہ ہوگا، کوشش کریں بچوں کو پارک میں لے جائیں یا وہ اپنے دوستوں کے ساتھ کھیل سکیں تاکہ بچوں کے درمیان اچھے تعلقات بن سکیں، یہ سرگرمی بھی بچوں کی مہارت میں اضافہ کرے گی۔

5- روڈ ٹِرپ پر جانے کا پلان بنائیں

کوشش کریں ہفتہ میں ایک بار ضرور کسی جگہ گھومنے جائیں، کہیں جانے کے لیے جگہ کا انتخاب کرنا مشکل ہورہا ہو تو آپ نقشے کا استعمال کرسکتے ہیں، ریسرچ کریں اور فیملی سے مشورہ ضرور لیں اور خاص طور پر کہیں گھومنے کا پلان بنائیں تو اپنے بچوں کی رائے لینا ہر گز مت بھولیں، اس طرح بچے موبائل فون سے دور رہیں گے اور فیملی کے ساتھ وقت گزار سکیں گے

6- گھر کے کام میں مدد

گھر کے کاموں میں مدد کرنا بھی بچوں کی نشوونما میں بہتری لا سکتا ہے مگر کیسے؟ ہم آپ کو بتاتے ہیں، ایک کاغذ پر گھر کے کاموں کی فہرست بنائیں اور اپنے بچے کے ہاتھ میں تھمائیں اور انہیں فہرست میں موجود تمام کام کرنے کا کہیں، مثال کے طور پر بستر ٹھیک کرنا، کمرے کی چیزیں اپنی جگہ پر رکھنا وغیرہ شامل ہیں، اس طرح آپ اپنا بھی وقت بچا سکیں گے اور بچے کے اندر ذمہ داری کا احساس پیدا ہوگا۔

7- تمام موبائل فون بچوں کے کمروں سے باہر رکھیں

موبائل فون بچوں کے کمروں سے باہر رکھیں، رات کی نیند بچوں کی دماغی اور جسمانی صحت کے لیے بہت ضروری ہے، تحقیق کے مطابق رات کو سونے کے دوران موبائل فون قریب ہونے سے آپ کی نیند متاثر ہوتی ہے۔

8- موبائل فون استعمال کرنے کا وقت تعین کریں

موبائل فون کا استعمال محدود کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ الیکٹرونک آلات پر پابندی عائد کردی جائے لیکن جان لیں کہ موبائل فون کا زیادہ استعمال آپ کے بچے کے دماغ کو غیر فعال کرسکتا ہے، اس لیے حکمت عملی کے ساتھ شیڈول ضروری ہے، صبح کے اوقات میں موبائل فون استعمال نہ کریں کیونکہ اس وقت آپ کا ذہن تازہ ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بچوں کو موبائل و کمپیوٹر آلات سے دور رکھنے کے طاقتور طریقے

موبائل فون کے استعمال کا بہترین وقت دوپہر ہے، اس وقت سورج سب سے زیادہ گرم ہوتا ہے اور بچے پہلے ہی تھک چکے ہوتے ہیں، بچوں کے موبائل استعمال کرنے کا دورانیہ صرف 30 منٹ یا ایک گھنٹے کا ہدف رکھیں، سونے سے کم از کم دو گھنٹے پہلے تمام الیکٹرونکس آلات چھپانا یاد رکھیں۔

9-آرام کریں

اگر آپ ہمیشہ مختلف سرگرمیوں میں مصروف رہتے ہیں تو یاد رکھیں کہ کچھ وقت آرام کرنے کا بھی رکھیں، بوریت کا وقت تخلیقی عمل متحرک کرنے میں مدد دیتا ہے، اس لیے اپنے کیلنڈر پر آرام کرنے کا وقت چھوڑنے سے نہ گھبرائیں، اپنے بچوں سے بات کریں کہ کس وقت مصروف نہیں ہوتے، انہیں اس وقت خود سوچنے اور سمجھنے کی عادت ڈلوائیں۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں