لاہور ہائی کورٹ: عمران خان اور فواد چوہدری کے خلاف الیکشن کمیشن کے شوکاز نوٹس معطل

22 ستمبر 2022
<p>لاہور ہائی کورٹ نے توہین نوٹس معطل کرتے ہوئے کیس کی سماعت کے لیے 3 رکنی لارجر بنچ تشکیل دے دیا—فوٹو: فیس بُک</p>

لاہور ہائی کورٹ نے توہین نوٹس معطل کرتے ہوئے کیس کی سماعت کے لیے 3 رکنی لارجر بنچ تشکیل دے دیا—فوٹو: فیس بُک

لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان اور فواد چوہدری کے خلاف الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کے توہین عدالت کے نوٹس معطل کردیے۔

ڈان اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق الیکشن کمیشن کے توہین عدالت کے نوٹس کے خلاف عمران خان اور فواد چوہدری کی درخواستوں پر سماعت لاہور ہائی کورٹ کے سینئر جج جواد الحسن نے کی، سماعت میں عمران خان اور فواد چوہدری کے وکلا نے مؤقف اختیار کیا کہ الیکشن واچ ڈاگ کے پاس توہین عدالت کی کارروائی کا دائرہ اختیار نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں: توہین الیکشن کمیشن: عمران خان سمیت پارٹی رہنماؤں کا جواب غیرتسلی بخش قرار، ذاتی حیثیت میں طلب

لاہور ہائی کورٹ نے عمران خان اور فواد چوہدری کے خلاف نوٹس کو معطل کرتے ہوئے کیس کی سماعت کے لیے 3 رکنی لارجر بینچ تشکیل دے دیا، بینچ میں جسٹس جوادالحسن، جسٹس صداقت علی خان اور جسٹس مرزا وقاص راؤف شامل ہیں، کیس کی سماعت 29 ستمبر کو ہو گی۔

لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے جاری حکم نامے میں بتایا گیا کہ ’کیس کی کارروائی جاری رہ سکتی ہے لیکن رٹ پٹیشن کا نتیجہ آنے تک کوئی حتمی حکم نامہ جاری نہیں کیا جائے گا اور اسی دوران سماعت کی اگلی تاریخ تک درخواست گزاروں کے خلاف کوئی منفی کارروائی نہیں کی جائے گی۔

مزید پڑھیں: الیکشن کمیشن کا عمران خان کو ممنوعہ فنڈنگ پر 23 اگست کیلئے شوکازنوٹس

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور فواد چوہدری نے اپنی درخواستوں میں کہا تھا کہ شوکاز نوٹس آئین کی شق کے منافی ہے، الیکشن کمیشن کے پاس توہین عدالت پر کسی شخص کو سزا دینے کا اختیار نہیں ہے، سزا دینے کے اختیارات صرف اعلیٰ عدالتوں کے پاس ہیں، ماتحت قانون سازی کے ذریعے ایسے آئینی اختیارات الیکشن کمیشن کو نہیں دیے جا سکتے۔

عمران خان اور فواد چوہدری نے موقف اختیار کیا کہ یہ ایک عدالتی عمل ہے، آئین کے مطابق الیکشن کمیشن صرف انتخابات کرانے کا ذمہ دار ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ 2017 کے ایکٹ کے مطابق الیکشن کمیشن کے پاس عدالت یا ٹریبونل کے طور پر کام کرنے کا دائرہ اختیار نہیں ہے، ایکٹ کے مطابق ہائی کورٹ کے تحت کسی بھی شخص کو توہین عدالت کے جرم میں سزا یا نوٹس جاری کیا جا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: الیکشن کمیشن کا فیصلہ درست نہیں، چیلنج کریں گے، فواد چوہدری

انہوں نے مزید کہا کہ 2017 ایکٹ کا سیکشن 10 آئین کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا، لہٰذا توہین عدالت ایکٹ کی دفعات کے تحت ایسے نوٹس جاری نہیں کیے جا سکتے۔

یاد رہے کہ الیکشن کمیشن نے شوکاز نوٹس کے ذریعے عمران خان، فواد چوہدری اور اسد عمر کو 27 ستمبر کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کے لیے طلب کیا تھا۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں