دنیا کساد بازاری کی طرف بڑھ رہی ہے، ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن

اپ ڈیٹ 29 ستمبر 2022
<p>— فوٹو: ڈبلیو ٹی او ویب سائٹ</p>

— فوٹو: ڈبلیو ٹی او ویب سائٹ

ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن (ڈبلیو ٹی او) کی ڈائریکٹر جنرل نگوزی اوکونجو آئیویلا نے خبردار کیا ہے کہ پے در پے بحرانوں کے باعث دنیا تیزی سے عالمی کساد بازاری کی طرف بڑھ رہی ہے۔

سرکاری خبر ایجنسی 'اے پی پی' کی رپورٹ کے مطابق ڈبلیو ٹی او کے سالانہ پبلک فورم کے موقع پر خطاب میں نگوزی اوکونجو آئیویلا کا کہنا تھا کہ دنیا کو غیر یقینی صورت حال اور متعدد بحرانوں کا سامنا ہے، جن میں روس-یوکرین تنازع، صحت عامہ، اقتصادی، موسمیاتی، جغرافیائی اور سیاسی بحران شامل ہیں۔

ڈائریکٹر جنرل نگوزی اوکونجو آئیویلا نے کہا کہ میرے خیال میں ہم عالمی کساد بازاری کی طرف بڑھ رہے ہیں تاہم یہ وقت سوچنے کا ہے کہ ہم اس سے باہر کیسے نکلیں گے، ہمیں پیداوار بحال کرنے اور بڑھانے کی ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھیں: توانائی اور مہنگائی بحران، بڑی معیشتوں کے کساد بازاری کا شکار ہونے کے خدشات

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق 26 ستمبر کو اقتصادی تعاون اور ترقی کی تنظیم (او ای سی ڈی) نے بھی کہا تھا کہ عالمی معاشی نمو کی رفتار میں توقع سے زیادہ کمی ہو سکتی ہے، روس اور یوکرین جنگ کے بعد توانائی اور مہنگائی بحران کے سبب اہم معیشتوں کے کساد بازاری کا شکار ہونے کے خطرات ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کے مطابق او ای سی ڈی نے بتایا تھا کہ رواں برس کے لیے عالمی معاشی شرح نمو 3 فیصد رہنے کی توقع ہے، جو 2023 میں کم ہو کر 2.2 فیصد ہو سکتی ہے۔

او ای سی ڈی کے سیکریٹری جنرل میتھیاس کورمن نے بیان میں بتایا تھا کہ روس کے یوکرین پر بلااشتعال حملے کی وجہ سے عالمی معیشت کی رفتار سست ہوگئی ہے، متعدد معیشتوں میں مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) میں اضافہ رک گیا ہے، اور معاشی اشاریے مزید سست روی کی نشاندہی کر رہے ہیں۔

او ای سی ڈی کے مطابق رواں برس یورو زون کی معاشی شرح نمو 3.1 فیصد سے کم ہو کر اگلے سال صرف 0.3 فیصد رہنے کا خدشہ ہے۔

میتھیاس کورمن نے نیوز کانفرنس میں بتایا تھا کہ اہم معیشتوں میں مہنگائی پر قابو پانے کے لیے زری پالیسی کو مزید سخت کرنے کی ضرورت ہے، اور حکومتوں کو ٹارگٹڈ مالیاتی پیکیج دینا چاہیے تاکہ صارفین اور کاروبار کو اعتماد مل سکے۔

اسی طرح برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق فرانسیسی آرگنائزیشن فار اکنامک کوآپریشن اینڈ ڈویلپمنٹ (او ای سی ڈی) نے بھی ملتے جلتے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ آئندہ سال عالمی معیشت کو اس سے بڑھ کر ضرب لگ سکتی ہے جس کا خدشہ گزشتہ سال ظاہر کیا گیا تھا اور اس کی وجہ سے روس-یوکرین جنگ کے اثرات ہیں۔

او ای سی ڈی کی رپورٹ جس کا عنوان جنگ کی قیمت کی ادائیگی ہے میں بتایا گیا ہے کہ اس تنازع نے عالمی سطح پر تیزی سے افراط زر میں اضافہ کردیا ہے۔

کورونا کی عالمی وبا کے بعد یوکرین اور روس کے درمیان جنگ کے باعث اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں بہت اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جبکہ ایندھن کی قیمتیں بھی بڑھی ہیں، یوکرین اور روس دونوں ہی ماضی میں ایندھن کے علاوہ خوراک کے سامان کی پیداوار کے لیے اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں تاہم جنگ کی وجہ سے ان کی پیداوار متاثر ہوئی ہے جس سے دنیا کے کئی حصوں میں خوراک کے بحران نے سر اٹھایا ہے۔

ماہرین پہلے بھی خبردار کر چکے ہیں کہ اگر بحرانوں کو نہ روکا گیا تو صورت حال کساد بازاری کی طرف چلی جائے گی جبکہ اب عالمی ادارہ برائے تجارت نے اس خطرے کا واضح الفاظ میں اظہار کر دیا ہے۔

تبصرے (0) بند ہیں