لاہور: بے ہنگم ٹریفک کے سبب کرکٹ کا جوش و خروش ماند پڑگیا

01 اکتوبر 2022
بدترین ٹریفک نے گلبرگ اور اس کے گردونواح کے علاقوں کو شدید متاثر کیا —فوٹو : وائٹ اسٹار
بدترین ٹریفک نے گلبرگ اور اس کے گردونواح کے علاقوں کو شدید متاثر کیا —فوٹو : وائٹ اسٹار

پاکستان اور انگلینڈ کی ٹیموں کے درمیان گزشتہ روز لاہور میں کھیلے جانے والے ٹی 20 کرکٹ میچ کے دوران ٹریفک کو کنٹرول کرنے میں لاہور ٹریفک پولیس ایک بار پھر بے بس نظر آئی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق قذافی سٹیڈیم کے اطراف میں بے ہنگم ٹریفک اور گاڑیوں کی لمبی قطاریں دیکھنے میں آئیں جس سے شہریوں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔

بدترین ٹریفک نے گلبرگ اور اس کے گردونواح کے علاقوں کو شدید متاثر کیا جہاں سیکڑوں مسافر گھنٹوں سڑکوں پر پھنسے رہے، ان میں سے اکثر افراد نے ٹریفک کے ناقص انتظامات پر متعلقہ حکام پر سخت تنقید کی۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ گلبرگ کی تمام اہم سڑکیں اور گلیاں گھنٹوں تک بند رہیں جہاں کرکٹ میچ نہ دیکھنے والی فیملیوں، ایمبولینسوں میں موجود مریضوں اور دیگر افراد کی بڑی تعداد کو اپنی منزلوں تک پہنچنے میں شدید دشواری کا سامنا رہا۔

یہ بھی پڑھیں: چھٹا ٹی20: انگلینڈ نے پاکستان کو 8 وکٹوں سے شکست دے دی

کلمہ چوک، گارڈن ٹاؤن، مین بلیوارڈ، ایم ایم عالم روڈ، ظہور الٰہی روڈ، حسین چوک، فردوس مارکیٹ اور ملحقہ سڑکوں پر ٹریفک کی صورتحال شدید ناقص رہی۔

ٹریفک میں پھنسے کچھ موٹرسائیکل سواروں نے ٹریفک پولیس کی بدانتظامی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہیں یہ فاصلہ طے کرنے میں 2 سے 3 گھنٹے لگ گئے ورنہ وہ یہ فاصلہ آدھے گھنٹے میں طے کر لیتے ہیں۔

انہوں نے شکایت کی کہ وارڈنز ٹریفک کو منظم کرنے میں عدم دلچسپی کا مظاہرہ کرتے ہیں، بہت سے ٹریفک وارڈنز کو قذافی سٹیڈیم کی جانب جانے والی سڑکوں کو بند کرنے کے لیے رکاوٹیں کھڑی کرتے دیکھا گیا جہاں میچ کھیلا جا رہا تھا۔

مقامی تاجروں نے الزام عائد کیا کہ ٹریفک وارڈنز ٹریفک کو متبادل راستوں کی جانب موڑنے کا بنیادی فرض ادا نہیں کر رہے جبکہ شہر کی سڑکوں پر متوقع رش کے حوالے سے سینئر افسران نے انہیں پہلے ہی آگاہ کردیا تھا۔

مزید پڑھیں: جب شاہی جوڑے نے لاہور میں کرکٹ کھیلی

ٹریفک پولیس کی جانب سے کوئی رہنمائی نہ ہونے کے سبب کار سواروں کو اپنے طور پر رخ طے کرنے پڑے جو مختلف علاقوں میں پہلے ہی ٹریفک سے بھرپور تنگ گلیوں میں پھنسے نظر آئے۔

اسی طرح مجوزہ ٹریفک پلان میں 'متبادل روٹس' کے طور پر جن سڑکوں کا ذکر کیا گیا تھا وہ بھی ٹریفک وارڈنز کی غفلت کی وجہ سے گنجائش سے زیادہ ٹریفک کے سبب جام ہوگئیں۔

تاہم ترجمان سٹی ٹریفک پولیس نے دعویٰ کیا کہ وارڈنز ٹریفک کی ہموار روانی کو یقینی بنانے کے لیے اپنی پوری کوشش کر رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ٹریفک مینجمنٹ کے لیے تعینات وارڈنز کی تعداد بڑھا کر ایک ہزار کر دی گئی ہے جبکہ ایس پی ایس اور ڈی ایس پیز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ٹریفک پلان پر عملدرآمد کے لیے سڑکوں پر اپنی موجودگی کو یقینی بنائیں۔

یہ بھی پڑھیں: لاہور ٹریفک وارڈنز کی کارکردگی جانچنےکیلئے پوائنٹس سسٹم متعارف

بے ہنگم ٹریفک شکایات کے بعد لاہور کے چیف ٹریفک افسر منتظر مہدی نے گلبرگ کے علاقے میں مختلف مقامات کا دورہ کیا اور ڈیوٹی پر موجود افسران کو ضروری ہدایات جاری کیں۔

ترجمان سٹی ٹریفک پولیس نے کہا کہ تمام ٹریفک وارڈنز کو ڈائیورژن پوائنٹس پر سختی سے ذمہ داری ادا کرنے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ گاڑی چلانے والوں کو تکلیف سے بچایا جا سکے۔

تبصرے (0) بند ہیں