بھارت نے اپوزیشن رکن اسمبلی کو پاکستان کے سفر سے روک دیا

05 اکتوبر 2022
<p>منجوج جھا نے مایوسی کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی سے مجھے پاکستان جانے کی اجازت نہیں دی گئی —فائل فوٹو: انڈین ایکسپریس</p>

منجوج جھا نے مایوسی کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی سے مجھے پاکستان جانے کی اجازت نہیں دی گئی —فائل فوٹو: انڈین ایکسپریس

بھارتی وزارت خارجہ نے اپوزیشن رکن منوج کے جھا کوعاصمہ جہانگیر کانفرنس میں شرکت کے لیے پاکستان سفر کرنے کی اجازت دینے سے انکار کردیا۔

ڈان اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق راشتیا جنتا دل کے رکن اسمبلی منوج کے جھا نے بھارتی اخبار کو بتایا کہ ’میں عاصہ جہانگیرکانفرنس میں شرکت کے لیے جانا چاہتا تھا، مرحومہ عاصمہ جہانگیر نے اپنی پوری زندگی پاکستان کی اقلیتی برادری کے حقوق کے لیے وقف کی تھی‘۔

یہ بھی پڑھیں: عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں ’بیرونی ایجنڈا‘ بڑھانے سے متعلق بیان مسترد

راشتیا جنتا دل پارٹی کی بنیاد لالو پرساد یادو نے رکھی تھی جو حکمران جماعت بھارتیا جنتا پارٹی کے ناقد تھے، بھارتی اخبار ’ہندو‘ کے مطابق پاکستان میں 22 اور 23 اکتوبر کو عاصمہ جہانگیر کی یاد میں کانفرنس منعقد ہوگی جس کا عنوان ’جمہوری حقوق کو برقرار رکھنے میں سیاسی جماعتوں کا کردار‘ ہے، بھارتی وزارت خارجہ نے منجوج جھا کو کانفرنس میں خطاب کرنے کے لیے پاکستان آنے سے روک دیا ہے۔

منجوج جھا کو عاصمہ جہناگیر فاؤنڈیشن، اے جی ایچ ایس لیگل ایڈ، پاکستان بار کونسل اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن آف پاکستان کی جانب سے مشترکہ دعوت نامہ موصول ہوا تھا۔

یاد رہے کہ ماہر قانون دان اور سماجی کارکن عاصمہ جہانگیر معروف شخصیت تھیں جنہوں نے پاکستان میں انسانی حقوق کے لیے جدوجہد کی تھی۔

مزید پڑھیں: ’آزاد عدلیہ اور پارلیمنٹ کے لیے آزاد میڈیا ضروری ہے‘

بھارت کے رکن اسمبلی کو بیرون ملک سفر یا غیرملکی کانفرنس میں شرکت کے لیے وزارت خارجہ سے سیاسی منظوری اور وزارت داخلہ سے غیر ملکی شراکت (ریگولیشن) ایکٹ 2010 کے تحت کلئیرنس لازمی درکار ہوتی ہے۔

وزارت خارجہ کی جانب سے کہا گیا کہ منوج جھا کو موصول ہونے والے دعوت نامے کی جانچ پڑتال کی ہے اور سیاسی بنیادوں پر ان کی کلئیرنس مسترد کردی گئی ہے۔

منوج جھا نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے بھارتی اخبار کو بتایا کہ ’بدقسمتی سے مجھے پاکستان جانے کی اجازت نہیں دی گئی، ’میں عاصہ جہانگیر کی یاد میں کانفرنس میں شرکت کے لیے جانا چاہتا تھا جنہوں نے اپنی پوری زندگی پاکستان کی اقلیتی برادری کے حقوق کے لیے جدوجہد کی‘۔

یہ بھی پڑھیں: عاصمہ جہانگیر اور اختلاف رائے کا تحفظ

عاصمہ جہانگیر فاؤنڈیشن کی جانب سے بھیجے گئے دعوت نامے میں کہا گیا تھا کہ آزادی اظہار رائے، اختلاف رائے کے حق اور جمہوری اداروں کو مضبوط بنانے کے لیے سیمینار کا انعقاد کیا گیا ہے، دعوت نامے میں مزید کہا گیا کہ آئین کے تحفظ، جمہوریت کی مضبوطی، مذہب اور عقیدے کی آزادی اور شہریوں کے بنیادی حقوق کے ساتھ عدلیہ کے کردار پر بھی غور کیا جائے گا۔

بذریعہ انٹرنیٹ دوطرفہ امن اور جمہوریت کے عنوان پر یہ کانفرنس منعقد کی گئی جبکہ کانفرنس کے منتظمین نے واضح نہیں کیا کہ بھارتی رکن اسمبلی منوج جھا کانفرنس میں آن لائن شرکت کریں گے یا نہیں۔

تبصرے (0) بند ہیں