لندن: مریم نواز کی 3 سال بعد نواز شریف سے ملاقات

اپ ڈیٹ 07 اکتوبر 2022
<p>—پی ایم ایل (ن) ٹوئٹر</p>

—پی ایم ایل (ن) ٹوئٹر

سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کی بیٹی مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کے درمیان 3 سال بعد لندن میں دوبارہ ملاقات ہوئی جب وہ گزشتہ روز اپنے والد کے ساتھ ایک ماہ گزارنے کے لیے برطانیہ پہنچیں جہاں ان کے والد نومبر 2019 سے مقیم ہیں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اس دورے کے دوران مریم نواز مبینہ طور پر ایک سرجری کے عمل سے گزریں گی اور اس بارے میں بھی مختلف حلقوں میں قیاس آرائیاں ہیں کہ وہ اور نواز شریف ایک ساتھ پاکستان واپس آئیں گے۔

ایئرپورٹ پہنچنے پر مریم نواز کا استقبال ان کے بیٹے جنید صفدر اور بھائی حسن نواز نے کیا جس کے کچھ ہی دیر بعد سوشل میڈیا پر بھائی اور بہن کی ایک دوسرے کو گلے لگاتے ہوئے تصویر سامنے آئی۔

ان کی آمد کے موقع پر مسلم لیگ (ن) کے حامی ہیتھرو ایئرپورٹ پر مریم نواز کے منتظر تھے کہ اس دوران وہاں پی ٹی آئی کے حامی بھی پہنچ گئے اور نعرے بازی کی، اس دوران دونوں پارٹیوں کے حامیوں کے درمیان تلخ کلامی ہوئی اور ایک دوسرے کو گالیاں دیں، بد تمیزی کی، یہ تلخ جملوں کا تبادلہ دونوں جماعتوں کے سرگرم حامیوں کے درمیان حالیہ مہینوں میں ہونے والے کئی واقعات میں سے ایک تھا۔

یہ بھی پڑھیں: ’والد سے ملاقات کیلئے بےتاب ہوں‘، مریم نواز نجی ایئرلائن کی پرواز سے لندن روانہ

منتظر حامیوں اور مخالفین کی تلخ کلامی اور ہنگامی آرائی کے دوران مریم نواز ایئرپورٹ کے دوسرے راستے سے روانہ ہوئیں۔

ایون فیلڈ ہاؤس کے باہر مسلم لیگ (ن) کے سیکڑوں کارکن مریم نواز کی آمد کے منتظر تھے، پرجوش حامیوں نے ڈھول بجایا، رقص کیا اور 'تیری آواز، میری آواز مریم نواز مریم نواز ' اور 'خوش آمدید، خوش آمدید' کے نعرے لگائے۔

اس موقع پر مٹھائیاں تقسیم کی گئیں اور کارکنوں سے اسے خوشی کا دن قرار دیا۔

اس موقع پر پولیس اہلکار بھی موقع پر موجود تھے جب کہ اس علاقے میں اکثر پی ٹی آئی اور مسلم لیگ (ن) کے حامی ایک دوسرے کے آمنے سامنے رہتے ہیں۔

ایون فیلڈ ہاؤس پہنچنے پر مریم نواز کے بھائی حسین نواز نے انہیں گلے لگایا، اس موقع پر مریم نواز نے حامیوں کا شکریہ ادا کیا اور اپنے والد اور خاندان کے دیگر افراد سے ملنے کے لیے اندر چلی گئیں۔

مریم نواز 2019 میں اپنی والدہ کلثوم نواز کے انتقال کے بعد پہلی بار اپنے بھائیوں حسین نواز اور حسن نواز سے ملی ہیں، ان کی واپسی 6 نومبر کو شیڈول ہے۔

مزید پڑھیں: نواز شریف کا راستہ صاف ہے، بہت جلد لندن جارہی ہوں، اللہ کرے وہ میرے ساتھ واپس آئیں، مریم نواز

مریم نواز شریف کا پاسپورٹ لاہور ہائی کورٹ کے حکم کے بعد انہیں واپس کر دیا گیا تھا، عدالت عالیہ نے 2019 میں چوہدری شوگر ملز کیس میں انہیں ضمانت دی تھی جب کہ انہوں نے اپنا پاسپورٹ سرنڈر کیا تھا، پاسپورٹ اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے ایون فیلڈ کیس میں ان کی سزا کالعدم قرار دینے کے چند روز بعد واپس کر دیا گیا تھا، وہ دوحہ میں مختصر قیام کے بعد جمعرات کی شام لندن پہنچیں۔

مریم نواز کی آمد سے قبل نواز شریف نے حامیوں کا شکریہ ادا کیا جو اسٹین ہوپ ہاؤس میں حسین نواز کے دفتر کے سامنے اپنے قائد کی بیٹی کے استقبال کے لیے جمع ہوئے۔

ایک روز قبل حسین نواز نے صحافیوں سے بات چتی کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’آخری بار میری اپنی بہن سے ملاقات اس وقت ہوئی تھی جب وہ والد کے ہمراہ پاکستان روانہ ہوئی جہاں لاہور ایئرپورٹ پر انھیں گرفتار کر لیا گیا، اس کے بعد ہم نے اپنی والدہ، اپنی دادی کے انتقال کے صدموں کو ایک دوسرے سے دور رہ کر برداشت کیا۔

یہ بھی پڑھیں: لاہور ہائی کورٹ کی ہدایت پر مریم نواز کو پاسپورٹ واپس دے دیا گیا

عمران خان اور ان کی حکومت کی وجہ سے مریم نواز کو جیل جاتے دیکھنا دل دہلا دینے والا منظر تھا، کسی بھی بھائی کے لیے اپنی ہمشیرہ کو اس کرب سے گزرتے دیکھنا بہت تکلیف دہ ہوتا ہے جب وہ آئیں گی تو ہم ایک دوسرے سے بات چیت کریں گے۔‘‘

یاد رہے کہ ان کی والدہ کلثوم نواز کا ستمبر 2018 میں لندن میں انتقال ہوگیا تھا جب کہ سابق وزیراعظم اور ان کی بیٹی مریم نواز اڈیالہ جیل میں قید تھے، انہیں پےرول پر لاہور میں کلثوم نواز کی آخری رسومات میں شرکت کی اجازت دی گئی۔

لندن روانگی سے قبل لاہور ایئرپورٹ پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مریم نواز کا کہنا تھا کہ میں اس لمحے کی منتظر ہوں کہ کب میرا طیارہ لینڈ کرے اور میں اپنے والد سے ملوں۔

تبصرے (0) بند ہیں