شوکت ترین آڈیو لیک: حکومت کا سابق وزیر خزانہ کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ

اپ ڈیٹ 12 اکتوبر 2022
مرتضیٰ جاوید عباسی نے آئین کے آرٹیکل 62 (1) (جی) کے تحت ریفرنس دائر کیے جانے کا مطالبہ کیا— فائل فوٹو / قومی اسمبلی ٹوئٹر
مرتضیٰ جاوید عباسی نے آئین کے آرٹیکل 62 (1) (جی) کے تحت ریفرنس دائر کیے جانے کا مطالبہ کیا— فائل فوٹو / قومی اسمبلی ٹوئٹر

حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیٹر اور سابق وزیر خزانہ شوکت ترین کے خلاف ملکی سالمیت اور قومی سلامتی کے خلاف کام کرنے کے الزام کے تحت ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق یہ اعلان پی ٹی آئی رہنما زلفی بخاری کی جانب سے توشہ خانہ سے 3 گاڑیاں لینے کے الزام میں پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری کے خلاف قومی اسمبلی کے اسپیکر کے پاس ریفرنس جمع کرانے کے چند گھنٹوں بعد سامنے آیا۔

یہ بھی پڑھیں: 'توشہ خانہ سے گاڑیاں لینے کا الزام'، پی ٹی آئی نے آصف زرداری کے خلاف ریفرنس جمع کرادیا

وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور مرتضیٰ جاوید عباسی نے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس کے دوران پوائنٹ آف آرڈر پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ شوکت ترین کی نااہلی کے لیے باضابطہ طور پر چیئرمین سینیٹ کے پاس ریفرنس جمع کرائیں گے۔

مرتضیٰ جاوید عباسی نے آئین کے آرٹیکل 62 (1) (جی) کے تحت ریفرنس دائر کیے جانے کا مطالبہ کیا جس کے مطابق اگر کوئی رکن پارلیمنٹ ملک کی سالمیت کے خلاف کام کرنے کا مرتکب پایا گیا تو اسے نااہل قرار دیا جا سکتا ہے۔

مرتضیٰ جاوید عباسی نے شوکت ترین اور وزیر خزانہ پنجاب محسن لغاری کے درمیان ٹیلی فونک گفتگو کی لیک ہونے والی آڈیو ٹیپ کا حوالہ دیا جس میں شوکت ترین نے محسن لغاری کو ہدایت دی تھی کہ وہ وفاقی حکومت کو بتائیں کہ تباہ کن سیلاب کی وجہ سے پنجاب بجٹ سرپلس جمع نہیں کرا سکتا جوکہ پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کے بیل آؤٹ پیکج کے اجرا کی اہم شرط ہے۔

مزید پڑھیں: شوکت ترین کی ’آڈیو لیک‘ میں کوئی غلط بات نہیں ہے، اسد عمر

اسی آڈیو کلپ میں شوکت ترین نے مبینہ طور پر محسن لغاری کو بتایا تھا کہ انہوں نے وزیر خزانہ خیبر پختونخوا تیمور خان جھگڑا کو بھی ایسا کرنے کو کہا ہے۔

مرتضٰی جاوید عباسی نے الزام عائد کیا کہ اس آڈیو سے ثابت ہوا کہ شوکت ترین ایک سازش کے تحت آئی ایم ایف ڈیل کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہے تھے اور ملکی سالمیت اور قومی سلامتی کے خلاف کام کر رہے تھے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ سابق وزیر خزانہ نے پاکستان میں سری لنکا جیسی صورتحال پیدا کرنے اور ملک کو نادہندہ کرنے کی سازش کی تھی۔

خیبرپختونخوا میں دہشت گردی، وفاق سے کارروائی کا مطالبہ

قبل ازیں پوائنٹ آف آرڈر پر بات کرتے ہوئے عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے سینیٹر ہدایت اللہ نے سوات میں اسکول وین پر ہونے والے حملے کی مذمت کی اور پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کی خاموشی اور بے عملی پر تنقید کی۔

انہوں نے کہا کہ ’خیبرپختونخوا میں دہشت گردی ایک بار پھر سر اٹھا رہی ہے، وفاقی حکومت سے اس معاملے میں مداخلت کرنی چاہیے، بروقت کارروائی نہ کی گئی تو کل اسلام آباد یا لاہور میں رہنے والے بھی محفوظ نہیں رہیں گے‘۔

وزیرستان سے آزاد رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ نے رکن اسمبلی علی وزیر کے پروڈکشن آرڈر جاری نہ کرنے پر ایک بار پھر اسپیکر کے سامنے اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا۔

مزید پڑھیں: حکومت کا شوکت ترین اور تیمور جھگڑا کی آڈیو ٹیپ کے فارنزک آڈٹ کا فیصلہ

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی رہنما شہباز گل کو ضمانت دے دی گئی جبکہ انہوں نے فوج کے خلاف بات کی تھی، علی وزیر کو بھی ان ہی الزامات کا سامنا ہے لیکن ان کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے۔

دریں اثنا متعدد اقلیتی اراکین اسمبلی نے ملک کے مختلف حصوں بالخصوص پنجاب میں اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والوں کو مبینہ طور پر نشانہ بنائے جانے کی شکایت کی۔

بعد ازاں اسپیکر نے ایوان سے ڈسلیکسیا اسپیشل میژرز بل 2022، ٹریڈ آرگنائزیشن (ترمیمی) بل 2022 اور اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری ڈومیسٹک ورکرز بل 2022 کی منظوری کے بعد اجلاس 18 نومبر تک ملتوی کر دیا۔

تبصرے (0) بند ہیں