’کھرا سچ‘ بولنے والے بچوں کو ’بدتمیز‘ سمجھا جاتا ہے، تحقیق

اپ ڈیٹ 14 اکتوبر 2022
—فوٹو: آئی اسٹاک
—فوٹو: آئی اسٹاک

ایک حالیہ منفرد تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ جو بچے ’کھرا سچ‘ بولتے ہیں، انہیں والدین یا دوسرے افراد ’بدتمیز‘ سمجھتے ہیں جب کہ بعض اوقات واضح سچ بولنے والے بچوں کے والدین کو شرمساری کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔

بچوں کے سچ، کھرے سچ اور رکھ رکھاؤ سمیت دوسرے لوگوں کا بھرم رکھنے کے لیے جھوٹ بولنے یا غلط بیانی کرنے سے متعلق کی جانے والی تحقیق سے معلوم ہوا کہ ’برملا سچ‘ بولنے والے بچے ’بدتمیز‘ یا خراب سمجھے جاتے ہیں۔

جرنل آف مورل ایجوکیشن میں شائع تحقیق کے مطابق ماہرین نے بچوں کے سچ اور جھوٹ بولنے کے سماجی زندگی پر پڑنے والے اثرات کے لیے 267 بچوں اور بالغ افراد پر تحقیق کی اور رضاکاروں کو مختلف ایک خاص طرح کی ویڈیوز دکھا کر ان سے سوال و جوابات کیے گئے۔

تحقیق میں شامل 171 افراد بالغ تھے، جن کی عمریں 18 سال سے 67 سال تک تھیں جب کہ دو درجن کے قریب رضاکاروں کی عمر 6 سال سے 15 تک تھی اور باقی رضاکار بھی درمیانی عمر کے نابالغ افراد تھے۔

رضاکاروں میں سے نصف خواتین تھیں اور تمام رضاکاروں کو ویڈیوز دکھا کر ان سے سوال و جوابات کیے گئے جب کہ ویڈیوز کے بعد ان سے یہ بھی پوچھا گیا کہ اگر وہ کسی کے والدین ہوتے تو اپنے ہی دیے گئے جواب پر کیا رد عمل دیتے؟

یہ بھی پڑھیں: بچوں کو سمجھیں یا سمجھائیں؟

تحقیق سے معلوم ہوا کہ جن بچوں نے ’دو ٹوک الفاظ‘ میں سچ بولا، انہیں زیادہ ’بدتمیز‘ اور خطرناک سمجھا گیا اور ایسے ہی بچوں کے لیے والدین نے بتایا کہ ان کے ایسے کھرے سچ بولنے کی وجہ سے انہیں بعض اوقات شرمندگی کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔

ماہرین کے مطابق جیسا کہ کوئی بچہ اپنے والدین یا دوسرے رشتے داروں یا دوستوں کی جانب سے ملنے والے کسی تحفے کو ناپسند کرتے ہوئے کوئی لحاظ کیے بغیر دو ٹوک الفاظ میں بولتا ہے کہ اسے مذکورہ تحفہ پسند نہیں، وہ بیکار اور خراب ہے’ تو ایسے کھرے سچ پر والدین کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جب کہ ایسے جواب پر ان بچوں کو ’بدتمیز‘ بھی سمجھا جا سکتا ہے۔

تحقیق میں شامل ماہرین نے بتایا کہ بچوں کو والدین ’جھوٹ‘ نہ بولنے کا مشورہ دیتے رہتے ہیں جب کہ ان سے سچ بولنے کی امید بھی کی جاتی ہے مگر ان میں وقت کے حساب سے سچ اور جھوٹ بولنے کی صلاحیت کی کمی ہے۔

ماہرین کا کہنا تھا کہ بچے یہ سمجھ نہیں سکتے کہ سماجی طور پر کون سی باتیں، سچائی یا جھوٹ قابل قبول ہے اور کون سی بات کس طرح کی جائے، جس وجہ سے وہ عام طور پر دو ٹوک الفاظ میں بات کرتے ہیں، جس سے انہیں ’بدتمیز‘ سمجھا جاتا ہے۔

تحقیق میں شامل ماہرین نے کہا کہ بچوں کو وقت اور موقع کو دیکھتے ہوئے جھوٹ بولنے کی مہارت سیکھنی ہوگی اور اسی عمل سے ہی ان میں ترقی کے امکانات بھی پیدا ہوں گے۔

ماہرین کے مطابق بچوں کو موضوع، وقت اور حالات کو دیکھتے ہوئے دوسروں کا دل یا بھرم رکھنے کے لیے بعض باتوں کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کا فن سیکھنا ہوگا، انہیں مبہم انداز میں سچ بولنا یا پھر جھوٹ بول کر دوسروں کو مطمئن کرنا سیکھنا ہوگا۔

تبصرے (0) بند ہیں