روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے یوکرین سے قبضے میں لیے گئے 4 الحاق شدہ علاقوں میں مارشل لا نافذ کر دیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ کے مطابق روس نے یوکرین کے چار علاقوں کھیرسن، زپوریزہیا، ڈونیٹسک اور لوہانسک کے ساتھ الحاق کا دعویٰ کیا تھا۔

روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے نیشنل سیکیورٹی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں روس کے ان چار علاقوں میں مارشل لا کے حکم نامے پر دستخط کردیے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: روس کا یوکرین کے 4 علاقوں کے انضمام کے اعلان کا فیصلہ

کریملین نے حکم جاری کرتے ہوئے کہا کہ مارشل لا جمعرات کی صبح سے لگایا جائے گا۔

ولادیمیر پیوٹن کی جانب سے یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یوکرین کی فورسز کی ماسکو کی جانب سے زیرقبضہ علاقوں میں پیش قدمی جاری ہے۔

70 سالہ روسی رہنما نے بتایا کہ کیف نے لوگوں کی خواہش کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے، اور بات چیت کرنے کے امکانات کو مسترد کرد یا ہے جبکہ جنگ جاری رکھے ہوئے ہے، جس کی وجہ سے شہری مر رہے ہیں۔

انہوں نے یوکرین پر دہشت گردی کے طریقے استعمال کرنے کا الزام عائد کیا۔

انہوں نے الزام عائد کہا کہ ہماری سرزمین پر تخریب کار گروپس کو بھیج رہے ہیں، جبکہ ماسکو نے کریمیا پل کو ٹارگٹ کرنے کے بعد متعدد حملوں کو ناکام بنانے کا دعویٰ کیا جس میں نیوکلیئر پاور کی سہولت پر حملہ بھی شامل تھا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ روسی قوانین میں مارشل لا فوج کو مضبوط کرنے کی اجازت، کرفیو، محدود نقل و حرکت اور غیر ملکی شہریوں کو داخلے پر پابندی کی اجازت دیتا ہے۔

ولادیمیر پیوٹن کا کہنا تھا کہ بڑے اور پیچدہ مسئلے کو حل کرنے پر کام کررہے ہیں تاکہ سیکیورٹی کو یقینی بنا کر روس کا مستقبل محفوظ بنایا جاسکے۔

مزید پڑھیں: روسی صدر نے یوکرین کے 4 علاقوں کے الحاق کی باضابطہ منظوری دے دی

حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ روس کے اندر سیکیورٹی کو مضبوط کیا جائے گا، جس سے ماسکو سے الحاق شدہ کریمیا اور کراسنودار، بیلگوروڈ، برائنسک، وورونز، کرسک اور روسٹو کے جنوبی علاقوں کو درمیانے درجے کے ردعمل پر رکھا گیا۔

مزید کہا گیا کہ اس میں چند رہائشیوں کی محفوظ علاقوں میں منتقلی بھی شامل ہوگی اور انفرااسٹرکچر پر نظر رکھ کر علاقوں کی سیکیورٹی کو بھی مضبوط کرنا شامل ہے۔

حکم نامے میں کہا گیا کہ وسطی وفاقی ضلع، جس میں ماسکو بھی شامل ہے، اس میں ‘مضبوط الرٹ’ کا نظام متعارف کرایا گیا ہے۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں