فلپائن: منیلا میں بچی کی پیدائش کے بعد دنیا کی آبادی 8 ارب ہوگئی

اپ ڈیٹ 16 نومبر 2022
<p>— فوٹو: فلپائن اسٹار / ویب سائٹ</p>

— فوٹو: فلپائن اسٹار / ویب سائٹ

اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ دنیا کی آبادی 8 ارب تک پہنچ چکی ہے جو کہ 11 برس قبل 7 ارب تھی، منیلا میں پیدا ہونے والی بچی کو علامتی طور پر 8 ارب واں بچہ قرار دیا گیا۔

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق 20 ویں صدی کے وسط میں آبادی میں تیزی سے اضافہ ہوا تاہم آبادی بڑھنے کی رفتار کم ہو رہی ہے اور دنیا کی آبادی 9 ارب تک پہنچنے میں 15 سال لگیں گے جبکہ اقوام متحدہ کو 2080 سے پہلے آبادی 10 ارب ہونے کا امکان نہیں ہے۔

لیکن 15 نومبر کو دنیا کی آبادی 8 ارب سے تجاوز کر گئی، اقوام متحدہ نے پانچویں، چھٹے اور ساتویں ارب آبادی کی تکمیل کرنے والے بچوں کی نمائندگی کے لیے چند بچوں کو منتخب کیا تھا، ان کی کہانیاں آبادی میں اضافے کے حوالے سے کیا کہتی ہیں؟

منیلا کے ضلع ٹونڈو میں بچی کی پیدائش پر فلپائنی میڈیا نے اسے علامتی طور پر 8 ارب واں بچہ قرار دیا۔

فلپائن کے انگریزی اخبار فلپائن اسٹار نے اس حوالے سے ٹوئٹ بھی کی۔

جولائی 1987 میں کروشیا میں پیدا ہونے والے پانچواں ارب بچہ متیج گاسپر کو پیدائش کے چند منٹوں بعد ہی کیمروں نے گھیر لیا تھا۔

35 سال بعد دنیا کے پانچویں ارب بچے نے اپنے دنیا میں آنے والی تقاریب کو بھولنے کی کوشش کی، ان کے فیس بک پیچ کے مطابق وہ کروشیا کے دارالحکومت زگریب میں رہتے ہیں، وہ شادی شدہ اور کیمیکل انجینئر ہیں لیکن وہ انٹرویو دینے کو ترجیح نہیں دیتے انہوں نے بی بی سی سے بات نہیں کی۔

اس کے بعد سے دنیا میں 3 ارب لوگوں کا اضافہ ہو چکا ہے لیکن اگلے 35 برسوں میں 2 ارب لوگوں کے اضافے کا امکان ہے۔

چھٹا ارب بچہ بوسنیا ہرزیگوینا میں پیدا ہونے والا عدنان میوک تھا، ان کی والدہ فاطمہ نے بتایا کہ مجھے محسوس ہوا کہ کچھ عجیب ہورہا ہے کیونکہ ڈاکٹرز اور نرسز ہمارے قریب جمع ہو گئے تھے لیکن میں نہیں بتا سکتی کہ کیا ہو رہا تھا۔

فاطمہ نے بتایا کہ جب عدنان دنیا میں آئے تو اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان بھی موجود تھے، میں بہت تھکی ہوئی تھی، نہیں بتا سکتی کہ کیا محسوس کیا تھا۔

لیکن چھٹا ارب بچہ ہونے کا ایک فائدہ بھی ہوا، جب وہ 11 سال کے تھے تو انہیں اپنے ہیرو رونالڈو سے ملنے کا دعوت نامہ ملا۔

بوسنیا ہرزیگونیا کا شمار آبادی تیزی سے کم ہونے والے ممالک میں ہوتا ہے، عدنان میوک نے بتایا کہ تمام نوجوان ختم ہو جائیں گے اور ریٹائرڈ لوگوں کو پنشن دینے کے لیے کوئی بھی نہیں بچے گا۔

انہوں نے معاشیات میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی ہے اور اب نوکری ڈھونڈ رہے ہیں، اگر انہیں ملازمت نہیں ملتی تو وہ یورپ چلے جائیں گے۔

2011 میں بنگلہ دیش میں پیدا ہونے والی سعدیہ سلطانہ کو سات ارب واں بچہ قرار دیا گیا تھا۔

سعدیہ سلطانہ رات 12 بجے کے بعد دنیا میں آئی تو اس کے اردگرد مقامی حکام اور ٹی وی کیمرے تھے، ان کے اہل خانہ حیران لیکن خوش تھے۔

11 سالہ سعدیہ ڈھاکا سے باہر رات کا کھانا پکانے کے لیے آلو چھیلنے میں اپنی والدہ کی مدد کر رہی تھی، جب کورونا کی وجہ سے ان کے کپڑے بیچنے کا بزنس متاثر ہوا تو وہ یہاں چلے آئے کیونکہ دیہاتوں میں اسکول کی فیس کم ہے۔

ان کے والد کو لڑکا پیدا ہونے کی امید تھی لیکن وہ اب تین ذہین اور محنتی لڑکیوں کو دیکھ کر خوش ہیں، سعدیہ کی بڑی بہن پہلے ہی یونیورسٹی میں ہے اور ڈاکٹر بننا چاہتی ہے، ان کے والد نے بتایا کہ ہم امیر نہیں ہیں، کوویڈ-19 نے صورت حال کو مشکل بنا دیا ہے لیکن میں ان کے خواب پورے کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کروں گا۔

اقوام متحدہ نے اپنی ویب سائٹ پر 15 نومبر کو 8 ارب آبادی کا دن بھی قرار دیا ہے۔

تبصرے (0) بند ہیں