استنبول: میلجم کارویٹ خیبر کا افتتاح، وزیراعظم کی دفاعی پیداوار میں اضافے کی تجویز

اپ ڈیٹ 25 نومبر 2022
<p>وزیراعظم نے تقریب سے خظاب کیا—فوٹو: وزیراعظم آفس</p>

وزیراعظم نے تقریب سے خظاب کیا—فوٹو: وزیراعظم آفس

<p>ترک صدر اردوان اور وزیراعظم شہباز شریف نے پاک بحریہ کے جہاز کا افتتاح کیا — فوٹو: مریم اورنگزیب ٹوئٹر</p>

ترک صدر اردوان اور وزیراعظم شہباز شریف نے پاک بحریہ کے جہاز کا افتتاح کیا — فوٹو: مریم اورنگزیب ٹوئٹر

<p>وزیراعظم شہباز شریف نے پاک بحریہ کے جہاز کی افتتاحی تقریب سے خطاب کیا—فوٹو: ڈان نیوز</p>

وزیراعظم شہباز شریف نے پاک بحریہ کے جہاز کی افتتاحی تقریب سے خطاب کیا—فوٹو: ڈان نیوز

<p>وزیراعظم ترکیہ میں 25 سے 27 نومبر تک سرکاری دورے کے دوران اعلیٰ سطح کے وفد کی قیادت کریں گے — فوٹو: اے پی پی</p>

وزیراعظم ترکیہ میں 25 سے 27 نومبر تک سرکاری دورے کے دوران اعلیٰ سطح کے وفد کی قیادت کریں گے — فوٹو: اے پی پی

وزیراعظم شہباز شریف نے ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان کے ہمراہ استنبول میں پاک بحریہ کے جہاز میلجم کارویٹ خیبر کا افتتاح کیا اور دونوں ممالک کو مل کر دفاعی پیداواری صلاحیت میں اضافے کی تجویز دی۔

استنبول شپ یارڈ پاک بحریہ کے میلجم پی این ایس خیبر کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے ترک صدر رجب طیب اردوان اور وزرا کا شکریہ ادار کرتے ہوئے کہا کہ اپنے دوسرے گھر کا دورہ کرتے ہوئے مجھے بڑی خوشی ہے۔

انہوں نے کہا کہ تاریخی اور برادرانہ تعلقات کے لیے آج ایک اور عظیم دن ہے، ہم پاک بحریہ کے لیے دوسری میلجم کارویٹ خیبر کا افتتاح کر رہے ہیں، یہ موقع ہمیں 1920 میں لے گیا جب ترکیہ میں ہمارے بھائی اور بہن آزادی کی جنگ لڑ رہے تھے، برصغیر کے مسلمان ان کے حق میں مہم چلا رہے تھے اور ترک بہن بھائیوں کے لیے عطیات جمع کر رہے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس طرح ہمارے تعلقات کی تاریخ مضبوط ہوتی گئی ہے، اپنے ترک بہن بھائیوں کے لیے جو بھی ہمدردانہ تعاون کیا گیا اس کو نہ صرف یاد رکھا گیا بلکہ ترکیہ ہمیشہ پاکستان کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا رہا، ترکیہ زلزلے اور سیلاب کے دوران پاکستان کے ساتھ کھڑا رہا اور ترکیہ نے ہر عالمی فورم پر پاکستان کے ساتھ دینے کے لیے ہچکچاہٹ کا اظہار نہیں کیا۔

—فوٹو: ڈان نیوز
—فوٹو: ڈان نیوز

وزیراعظم نے کہا کہ آج ہم یہاں پاک بحریہ کے لیے جہاز کے افتتاح کے لیے اکٹھے ہوئے ہیں اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان اور ترکیہ دفاعی صلاحیت کے فروغ کے لیے وسیع بنیاد پر ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور یہ جارحیت کے خلاف امن کے لیے ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر آپ امن چاہتے ہیں تو آپ کو جنگ کے لیے تیار رہنا چاہیے تو یہ منصوبہ بھی جارحیت کے لیے نہیں بلکہ دفاع کے لیے ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ میں رجب طیب اردوان کو تجویز دینا چاہتا ہوں کہ پاکستانی اور ترک ماہرین اور ورکرز نے اس جہاز کی تیاری میں شان دار کام کیا ہے اور آئیے ہم اپنی پیداواری صلاحیت میں مزید اضافہ کرتے ہیں اور اس شعبے میں مزید تعاون بڑھاتے ہیں۔

شہباز شریف نے کہا کہ آج دنیا میں کشیدگی کا ماحول ہے، روس اور یوکرین کے درمیان تنازع نے دنیا میں کئی قسم کے مسائل کھڑے کر دیے ہیں اور اس حوالے سے اردوان کی کوششوں کو سراہتا ہوں کیونکہ انہی کوششوں کی وجہ سے یوکرین سے گندم کی درآمد ہوئی اور پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک بڑے بحران سے بچ گئے۔

انہوں نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کا ہماری درآمدی بل گزشتہ برس کے دوران 25 ارب ڈالر تک پہنچ گیا تھا، اسی لیے ہم فوری طور پر شمسی اور پن بجلی اور ہائیڈل توانائی کی طرف جانا چاہتے ہیں اور اس شعبے میں ترکیہ کے سرمایہ کاروں کے لیے بہت مواقع ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ میں صدر اردوان کو تجویز دینا چاہتا ہوں کہ آئیں مل کر کاربن کے اخراج کو روکیں اور ان شعبوں میں سرمایہ کی حوصلہ افزائی کریں اور یہ بہترین وقت ہے اور ہم اپنے تعلقات کو مزید جدت بخشیں۔

وزیراعظم نے ملک میں سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا تذکرہ کیا اور ترک صدر کے تعاون کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ہمارے منفرد تعلقات ہیں اور دنیا کی کوئی طاقت ہمارے تعلقات کو کمزور نہیں کرسکتی اور ہم مل کر اس موقع کا جشن منائیں گے اور دونوں ممالک کے عوام خوش حال ہوں گے۔

وزیر اعظم دو روزہ دورے پر ترکیہ آمد

قبل ازیں وزیر اعظم شہباز شریف ترک صدر رجب طیب اردوان کی دعوت پر دو روزہ دورے پر ترکیہ پہنچے۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی ’اے پی پی‘ کے مطابق شہباز شریف 25 سے 27 نومبر تک سرکاری دورے کے دوران اعلیٰ سطح کے وفد کی قیادت کریں گے۔

دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق وزیر اعظم، استنبول شپ یارڈ میں پاکستان نیوی کے لیے چار میلجم کارویٹ جہازوں میں سے تیسرے جہاز ’پی این ایس خیبر‘ کا مشترکہ طور پر افتتاح کریں گے۔

روانگی سے قبل وزیراعظم نے ٹوئٹ میں کہا کہ تیسرے میلجم کارویٹ جہاز کا افتتاح ترکیہ اور پاکستان کے درمیان گہرے دفاعی تعاون کی نمائندگی کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اعلیٰ سطح کے رابطے ہماری شراکت داری کی امتیازی خصوصیات ہیں، صدر اردوان کی قیادت میں ہمارے دوطرفہ تعلقات اسٹریٹجک شراکت داری کے نئے دور میں داخل ہوگئے ہیں۔

دورے کا ایجنڈا

دفتر خارجہ نے کہا کہ دو روزہ دورے کے دوران وزیر اعظم شہباز شریف ترک تاجر برادری کے رہنماؤں سے بھی بات چیت کریں گے اور ملک کے شہری مرکز استنبول میں قیام کے دوران ای سی او ٹریڈ اینڈ ڈیولپمنٹ بینک کے صدر سے بھی ملاقات کریں گے۔

دفتر خارجہ نے کہا کہ اس کے بعد شہباز شریف اور رجب طیب اردوان دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر وسیع پیمانے پر تبادلہ خیال کریں گے۔

میلجم پروجیکٹ

ترکیہ اور پاکستان کے درمیان مشترکہ تعاون پر مبنی میلجم پروجیکٹ پر 2018 میں ترکیہ کی سرکاری دفاعی کنٹریکٹر فرم (ASFAT inc) کے ساتھ دستخط کیے گئے تھے جس کے مطابق پاکستان نیوی، ترکیہ سے میلجم کلاس کے چار جہاز حاصل کرے گی۔

میلجم کے جہاز 99 میٹر لمبے ہیں، ان کی نقل مکانی کی صلاحیت 2400 ٹن ہے اور ان کی رفتار 29 ناٹیکل میل ہے، یہ اینٹی سب میرین جنگی فریگیٹس ہیں جنہیں ریڈار سے چھپایا جاسکتا ہے اور اس سے پاک بحریہ کی دفاعی صلاحیت میں مزید اضافہ ہوگا۔

دفتر خارجہ کے مطابق پاک بحریہ کے لیے پہلے کارویٹ پی این ایس بابر کی لانچنگ تقریب اگست 2021 میں استنبول میں کی گئی تھی جبکہ دوسرے جہاز پی این ایس بدر کا سنگ بنیاد مئی 2022 میں کراچی میں رکھا گیا تھا۔

بیان میں انہوں نے مزید کہا کہ یہ منصوبہ پاک ۔ ترک اسٹریٹجک پارٹنرشپ میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے اور یہ شراکت داری مستقل بہتری کی جانب گامزن ہے۔

تبصرے (0) بند ہیں