عدنان صدیقی قومی ترانے کے ریمکس سے ناخوش

25 نومبر 2022
<p>—فوٹو: انسٹاگرام</p>

—فوٹو: انسٹاگرام

مقبول اداکار عدنان صدیقی نے حال ہی میں ہونے والے سالانہ 21 ویں لکس اسٹائل ایوارڈز میں ریمکس انداز میں قومی ترانے کو پیش کیے جانے پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی کو بھی تخلیقیت کے نام پر قومی ترانے کو تبدیل کرنے کی اجازت نہیں۔

قومی ترانے کے ریمکس کو لاہور میں منعقد ہونے والے ملک کے بڑے ایوارڈ شو میں 24 اور 25 نومبر کی درمیانی شب پیش کیا گیا تھا۔

ریمکس قومی ترانے کو معروف گلوکار شہزاد رائے اور بلوچ فوک فنکار عبدالوہاب بگٹی نے گایا تھا۔

عبدالوہاب بگٹی نے رواں برس کوک اسٹوڈیو کے ’کنا یاری‘ سے شہرت حاصل کی تھی۔

قومی ترانے کو دونوں گلوکاروں نے ریمکس میوزک کے ساتھ پیش کیا اور ترانے کی ویڈیو کے دوران ملک کے مختلف علاقوں کے مناظر دکھائے گئے۔

ریمکس قومی ترانے کے دوران ایوارڈ شو کے مہمان ادب میں کھڑے ہوگئے اور بعد ازاں ترانے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد عدنان صدیقی نے اس پر اپنی رائے کا اظہار کیا۔

اداکار نے انسٹاگرام پر اپنی پوسٹ میں واضح کیا کہ انہیں قومی ترانے کا ریمکس اچھا نہیں لگا، انہیں سن کر مایوسی ہوئی۔

انہوں نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ قومی ترانے کو آج تک تمام تقریبات، کھیلوں اور ایوارڈز شو میں اصل موسیقی کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے، جس سے عوام میں حب الوطنی بیدار ہوتی ہے۔

اداکار نے لکھا کہ قومی ترانے کو شاندار موسیقی کے ساتھ لوگوں میں حب الوطنی کا جذبہ پیدا کرنے کے لیے تخلیق کیا گیا تھا۔

انہوں نے سوال کیا کہ کیا پاکستانی آئین کسی کو تخلیقیت کے نام پر قومی ترانے کو ریمکس کی صورت میں پیش کرنے کی اجازت دیتا ہے؟

ساتھ ہی عدنان صدیقی نے واضح کیا کہ ممکن ہے کہ ان کی رائے غلط بھی ہو لیکن انہیں قومی ترانے کا ریمکس اچھا نہیں لگا، قومی ترانے کی پرانی دھن سنتے ہی حب الوطنی کا جذبہ بیدار ہوتا ہے۔

عدنان صدیقی کی پوست پر متعدد افراد نے کمنٹس کرتے ہوئے ان کی بات سے اتفاق بھی کیا۔

لوگوں نے عدنان صدیقی کی بات سے اتفاق کیا—اسکرین شاٹ
لوگوں نے عدنان صدیقی کی بات سے اتفاق کیا—اسکرین شاٹ

خیال رہے کہ رواں برس یوم آزادی کے موقع پر حکومت پاکستان نے اصل قومی ترانے کی نئی ریکارڈنگ کو ریلیز کیا تھا۔

قومی ترانے کو 68 سال بعد دوبارہ پرانی دھن پر ہی ریکارڈ کیا گیا تھا اور اس بار ملک کے چاروں صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سمیت اسلام آباد کے گلوکاروں نے اس میں اپنی آواز کا جادو جگایا تھا۔

دوبارہ ریکارڈ کیے گئے قومی ترانے کی دھن کو 48 موسیقاروں نے پرانی دھن کی طرح جدید انداز میں پیش کیا اور اسے ملک کے تمام علاقوں کے 155 گلوکاروں نے گایا۔

دو منٹ سے بھی کم دورانیے کی قومی ترانے کی ویڈیو میں 600 سے زائد افراد کو وطن سے محبت کا اظہار کرتے ہوئے بھی دکھایا گیا تھا۔

قومی ترانے کو پہلی بار قیام پاکستان کے چند سال بعد 1953 میں ریکارڈ کیا گیا تھا اور رواں برس 75 ویں یوم آزادی پر ترانے کی نئی ریکارڈنگ کی گئی تھی۔

نئی ریکارڈنگ میں پرانی دھن اور انداز کو برقرار رکھا گیا تھا، جس وجہ سے لوگوں نے قومی ترانے کی تعریفیں بھی کی تھیں۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں