عمران خان کو اقتدار سے باہر رکھنے کی جدوجہد جاری رہے گی، فضل الرحمٰن

اپ ڈیٹ 27 نومبر 2022
<p>فوٹو:ڈان نیوز</p>

فوٹو:ڈان نیوز

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ عمران خان کو دوبارہ اقتدار میں آنے سے روکنے کے لیے ان کے خلاف ہمارا جہاد جاری رہے گا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم گزشتہ 15 برسوں سے فتنہ (عمران خان ) کے خلاف جہاد کر رہے ہیں اور خبردار کرتا ہوں کہ اگر وہ دوبارہ اقتدار میں آ گیا تو ان کی حکومت ملکی معیشت کو تباہ کر دے گی اور ہماری دفاعی فورسز کو اسی طرح کمزور کر دے گی جس طرح چوری شدہ مینڈیٹ کے ذریعے ان کے وزیر اعظم بننے کے بعد ہوئیں۔

حکمران پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ پی ڈی ایم حکومت ملک کی نجات دہندہ ہے، انہوں نے کہا کہ یہودی ایجنٹ کے 4 سالہ دور اقتدار میں پاکستان دیوالیہ ہونے کے دہانے پر تھا لیکن ہم نے اسے اقتدار سے بے دخل کیا اور ملک کو سیاسی اور معاشی بحران سے نکالا۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ انتظامیہ کے بہتر طرز حکمرانی، گوڈ گورننس اور اچھی پالیسیوں کی وجہ سے ملک فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی گرے لسٹ سے نکلا۔

انہوں نے کہا کہ ملک کو سیاسی اور معاشی بحران سے نکال کر خوشحالی اور استحکام کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے قومی حکومت وقت کی اہم ضرورت تھی اور ہم نے ایسا کیا۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب اور چین ہمارے مشکل وقت میں آزمائے ہوئے دوست ہیں لیکن سابق وزیراعظم نے اپنی ملک دشمن پالیسیوں اور اقدامات سے انہیں ناراض کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔

مولانافضل الرحمٰن نے کہا کہ پی ٹی آئی کا لانگ مارچ فلاپ شو تھا، یہ فلاپ شو حکومت کو عمران خان کی سیاست سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی تبدیل کرنے پر مجبور نہیں کر سکے گا۔

انہوں نے کہا کہ مارچ میں شریک ’مٹھی بھر‘ پی ٹی آئی کارکنان ریلی میں ’موسیقی اور رقص‘ سے لطف اندوز ہونے کے بعد خالی ہاتھ واپس لوٹ جائیں گے۔

توشہ خانہ کیس کے حوالے سے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ کوئی ایماندار لیڈر کبھی کسی مسلمان ملک کی قیادت کی جانب سے برادرانہ تعلقات کی علامت کے طور پر تحفے میں دی گئی گھڑی نہیں چرا سکتا لیکن عمران خان جو اکثر اپنی ایمانداری کی بات کرتا ہے اور شریعت کے حوالے دیتا ہے اس نے سعودی عرب کی جانب سے تحفے میں دی گئی گھڑی چرا کر بیچ دی، ایسا دھوکہ باز شخص امت کا رہنما ہونے کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں