ٹی ٹی پی کا سیزفائر ختم کرنے کا اعلان، دہشتگردوں کو ’ملک بھر میں حملوں کا حکم‘

اپ ڈیٹ 28 نومبر 2022
<p>ٹی ٹی پی نے کہا کہ ان کے خلاف آپریشنز ہو رہے ہیں — فائل/فوٹو: ڈان</p>

ٹی ٹی پی نے کہا کہ ان کے خلاف آپریشنز ہو رہے ہیں — فائل/فوٹو: ڈان

کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے حکومت کے ساتھ جون میں طے پانے والا سیز فائر ختم کرتے ہوئے اپنے دہشت گردوں کو ملک بھر میں حملوں کا حکم دے دیا۔

ٹی ٹی پی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ’تحریک طالبان پاکستان کی وزارت دفاع تحریک کے تمام گروپ لیڈرز، مسئولین تحصیل اور والیان کو حکم دیا جاتا ہے کہ ملک بھر میں جہاں بھی آپ کی رسائی ہوسکتی ہے حملے کریں‘۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ’بنوں کے ضلع لکی مروت سمیت مختلف علاقوں میں عسکری اداروں کی طرف سے مسلسل آپریشنز ہو رہے ہیں اور اقدامی حملوں کا نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہوچکا ہے‘۔

پاکستان کے عوام کو مخاطب کرکے کالعدم ٹی ٹی پی نے کہا کہ ’ہم نے بارہا آپ کو خبردار کیا اور مسلسل صبر سے کام لیا تاکہ مذاکراتی عمل کم از کم ہماری طرف سے سبوتاژ نہ ہو، مگر فوج اور خفیہ ادارے باز نہ آئے اور حملے جاری رکھے‘۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ ’اب ملک بھر میں ہمارے انتقامی حملے بھی شروع ہوں گے‘۔

دوسری جانب حکومت اور سیکیورٹی فورسز کی جانب سے اس حوالے سے کوئی بیان تاحال سامنے نہیں آیا۔

یاد رہے کہ کالعدم ٹی ٹی پی کے ساتھ پاکستانی حکومت کے مذاکرات گزشتہ برس اکتوبر میں شروع ہوئے تھے لیکن دسمبر میں معطل ہوگئے تھے۔

بعد ازاں رواں برس مئی میں یہ مذاکرات دوبارہ شروع ہوئے لیکن اختلاف رائے کی وجہ سے ناکامی ہوئی کیونکہ ان کا مطالبہ تھا کہ خیبر پختونخوا کے ضم شدہ اضلاع کی حیثیت ختم کردی جائے۔

مذاکرات میں ناکامی کے نتیجے میں کالعدم ٹی ٹی پی نے حملے شروع کردیے جن میں ستمبر میں اضافہ ہوا اور اکثر حملے خیبرپختونخوا کے اضلاع ڈیرہ اسمٰعیل خان، ٹانک، جنوبی وزیرستان اور شمالی وزیرستان میں ہوئے۔

وفاقی وزارت داخلہ نے اکتوبر میں خبردار کیا تھا کہ ٹی ٹی پی اور حکومت پاکستان کے درمیان ایک برس سے زائد عرصے تک رہنے والے امن مذاکرات تعطل کا شکار ہیں اور ٹی ٹی پی کے اندر اختلافات پائے جاتے ہیں۔

اس حوالے سے ٹی ٹی پی نے حکومت پاکستان پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ بنیادی مطالبات پورے کرنے میں ناکام ہوگئی ہے، جس میں خیبر پختونخوا کے ساتھ سابق فاٹا کا انضمام ختم کردیا جائے اور اس کے ساتھ ساتھ ٹی ٹی پی کے گرفتار اراکین کو رہا کردیا جائے حالانکہ اس وقت مذاکرات جاری تھے۔

وزارت داخلہ نے ٹی ٹی پی کے ذیلی گروپس کی نشان دہی بھی کی تھی جو داعش سے الگ ہوگئے ہیں اور دہشت گردی کی سرگرمیوں کے لیے حافظ گل بہادر گروپ کے ساتھ مل رہے ہیں۔

دوسری جانب وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے رواں ماہ کے شروع میں پریس کانفرنس میں مطالبہ کیا تھا کہ حکومت کو دہشت گرد گروپ کے ساتھ اپنی حکمت عملی پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔

انہوں نے کہا تھا کہ وقت آگیا ہے کہ ہمیں اپنے فیصلوں یا اندورنی سیکیورٹی اور دہشت گردی کے حوالے سے کیے گئے اقدامات کا جائزہ لینا چاہیے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا تھا کہ یہ اعتراف کرنے میں کوئی عار نہیں کہ ہم چند چیزوں میں غلطی پر تھے اور کہیں درست تھے اور اب اپنی حکمت عملی کا جائزہ لینا چاہیے۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں