لاہور دنیا کا آلودہ ترین شہر، فضائی معیار انتہائی مضرِ صحت قرار

30 نومبر 2022
<p>اسموگ کی وجہ سے آنکھوں کے مسائل، الرجی  جیسے مسائل رپورٹ ہورہے ہیں۔—فوٹو: اے ایف پی</p>

اسموگ کی وجہ سے آنکھوں کے مسائل، الرجی جیسے مسائل رپورٹ ہورہے ہیں۔—فوٹو: اے ایف پی

پنجاب کا دارالحکومت لاہور ایک بار پھر دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں پہلے نمبر آگیا۔

ڈان اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق لاہور کا ایئر کوالٹی انڈیکس مسلسل خطرناک شکل اختیار کر رہا ہے، دنیا کے تمام ممالک میں ایئر کوالٹی کو مانیٹر کرنے والی ویب سائٹ آئی کیو ایئر ڈاٹ کام کے مطابق گزشتہ روز (29 نومبر) کو صبح 9 بجے ائیر کوالٹی انڈیکس 493 تھا، جو انتہائی خطرناک ہے، جس کے بعد رات 8 بجکر 30 منٹ پر ائیر کوالٹی انڈیکس 353 پر تھا۔

لاہور کے بیشتر علاقوں میں بھی ائیر کوالٹی انڈیکس انتہائی خطرناک رہے جن میں سی او آر پی آفس میں رات 8 بجے ائیر کوالٹی انڈیکس 565، سید مراطب علی روڈ میں 480، لاہور امریکن اسکول میں 479، چٹھہ پارک میں 460، وینس ہاؤسنگ سوسائٹی میں 447، بلاک کے میں 445۔ پاکستان انجینئرنگ سروس پرائیویٹ لمیٹڈ میں 413، ڈان بریڈ کوٹ لکھپت میں 401، بلاک اے جوہر ٹاؤن میں 397 اور کنال بینک ہاؤسنگ اسکیم میں 378 ائیر کوالٹی انڈیکس ریکارڈ کیا گیا۔

اس کے علاوہ اگر دنیا بھر کے ممالک کی بات کریں تو ائیر کوالٹی انڈیکس کی فہرست میں پاکستان کے شہر لاہور کے بعد بھارت کے شہر دہلی میں 227، ڈھاکا میں 230، پاکستان کے شہر کراچی میں 188 اور کرغزستان کے دارالحکومت بسکیک میں 176 ائیر کوالٹی انڈیکس ریکارڈ کیا گیا۔

اسموگ کی وجہ سے آنکھوں کے مسائل، الرجی اور آنکھوں میں جلن جیسے مسائل رپورٹ ہورہے ہیں۔

پروفیسر ڈاکٹر عارف ندیم کے مطابق اسموگ کی وجہ سے کینسر اور پھیپڑوں کے امراض میں اضافہ ہوسکتا ہےرہائیشیوں کو چاہیے کہ زیادہ سے زیادہ گھر کے اندر رہیں اور دروازے اور کھڑکیوں کو بند رکھیں۔

انہوں نے بتایا کہ سرکاری ایجنیسی قواعد اور ضوابط کو نافذ کرنے میں ناکام رہیں اور صنعتکاروں نے آلودگی کو کم کرنے کے لیے اینٹی اسموگ ڈیواسز نصب نہیں کی۔

ڈاکٹر عارف ندیم نے دعویٰ کیا کہ اینٹوں کے بھٹے اور فصلوں کی باقیات جلانے سے اسموگ میں اضافہ ہوتا ہے اور حکومت ان اقدامات کو روکنے میں ناکام نظر آرہی ہے۔

یاد رہے کہ دو روز قبل پنجاب چیف سیکریٹری عبداللہ خان سنبل نے محکمہ تحفظ موحولیات کو ہدایات کی تھی کہ فضائی آلودگی (اسموگ) پر قابو پانے کے لیے منصوبے کو جلد از جلد حتمی شکل دی جائے۔

انہوں نے کہا تھا کہ ماحولیاتی پالیسی میں ترامیم اور فضائی آلوگی (اسموگ) کو کنٹرول کرنے کے لیے منصوبے کو ماہرین اور اسٹیک ہولڈرز کی مشاور ت سے حتمی شکل دی جائے۔

انہوں نے مزید کہا تھا کہ اسموگ پر قابو پانے کے لیے کیے گئے اقدامات کے بعد حواصلہ افزا نتائج سامنے آئے ہیں اور گزشتہ سال کے مقابلے رواں سال صورتحال بہتر ہے تاہم اس میں مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ پنجاب گرین ڈویلپمنٹ پروگرام صوبے میں ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانے میں مؤثر ثابت ہوگا۔

انہوں نے بتایا کہ فصلوں کی باقیات کو جلانے کے واقعات کو روکنے کے لیے فارم میکانائزیشن پر کام جاری ہے۔

تحفظ ماحول کے سیکرٹری عثمان علی خان نے کہا کہ لاہور میں ائیر کوالٹی انڈیکس کو مانیٹر کیا جارہا ہے، بروقت کارروائی کی وجہ سے فصلوں کی باقیات جلانے کے واقعات میں کمی آئی ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبے میں ماحولیاتی آلودگی کا باعث بننے والے ایک ہزار 521 صنعتی یونٹ کو سیل کردیا گیا ، ایک ہزار 172 ایف آئی آر درج ہوئی اور 50 لاکھ روپے سے زائد جرمانے عائد کیے گئے، اس کے علاوہ صرف لاہور میں 348 صنعتی یونٹ کو سیل کیا گیا اور 2 کروڑ 26 لاکھ سے زائد جرمانے عائد کیے گئے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ 8 لاکھ 50 ہزار معائنے کیے گئے اور 5 ہزار 755 دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کو قبضے میں لےلیا گیا جبکہ کچرا جلانے پر 29 مقدمات بھی درج کیے گئے

تبصرے (0) بند ہیں