کوئٹہ میں کالعدم ٹی ٹی پی کا خودکش حملہ، پولیس اہلکار سمیت 4 افراد جاں بحق، متعدد زخمی

اپ ڈیٹ 30 نومبر 2022
<p>ڈی آئی جی کوئٹہ پولیس نے بتایا کہ دھماکہ خودکش تھا جس میں 25 کلو گرام بارودی مواد استعمال ہوا—فوٹو:اے ایف پی</p>

ڈی آئی جی کوئٹہ پولیس نے بتایا کہ دھماکہ خودکش تھا جس میں 25 کلو گرام بارودی مواد استعمال ہوا—فوٹو:اے ایف پی

<p>ڈی آئی جی کوئٹہ پولیس نے بتایا کہ دھماکہ خودکش تھا جس میں 25 کلو گرام بارودی مواد استعمال ہوا—فوٹو:غالب نہاد</p>

ڈی آئی جی کوئٹہ پولیس نے بتایا کہ دھماکہ خودکش تھا جس میں 25 کلو گرام بارودی مواد استعمال ہوا—فوٹو:غالب نہاد

<p>ڈی آئی جی کوئٹہ پولیس نے بتایا کہ دھماکہ خودکش تھا جس میں 25 کلو گرام بارودی مواد استعمال ہوا—فوٹو:اے ایف پی</p>

ڈی آئی جی کوئٹہ پولیس نے بتایا کہ دھماکہ خودکش تھا جس میں 25 کلو گرام بارودی مواد استعمال ہوا—فوٹو:اے ایف پی

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے علاقے بلیلی میں بلوچستان کانسٹیبلری کے ٹرک کے قریب کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے کیے گئے خود کش دھماکے کے نتیجے میں پولیس اہلکار سمیت 4 افراد جاں بحق جب کہ متعدد اہلکار اور شہری زخمی ہوگئے۔

ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس (ڈی آئی جی) پولیس کوئٹہ اظفر مہسر نے جائے وقوع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ دھماکے میں 24 افراد زخمی ہوئے جن میں 20 پولیس اہلکار اور 4 شہری شامل ہیں۔

ڈی آئی جی کوئٹہ پولیس نے بتایا کہ دھماکا خودکش تھا جس میں 25 کلو گرام بارودی مواد استعمال ہوا، انہوں نے کہا کہ پولیس اہلکار پولیو ٹیموں کو سیکیورٹی فراہم کرنے کے لیے جا رہے تھے۔

ڈی آئی جی اظفر مہسر کا کہنا تھا کہ واقعے کے بعد شہر میں سیکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دھماکے میں مجموعی طور پر 3 گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا، پولیس ٹرک، ایک سوزوکی مہران اور ایک ٹویوٹا کرولا کار متاثر ہوئیں، انہوں نے مزید کہا کہ زخمیوں کو سول ہسپتال کوئٹہ منتقل کر دیا گیا۔

فوٹو:غالب نہاد
فوٹو:غالب نہاد

غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کو جاری ایک بیان میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے حملے کی ذمہ داری قبول کی اور کہا گروپ جلد دھماکے سے متعلق مزید تفصیلات جاری کرے گا، آج ہونے والا دھماکا عسکریت پسند گروپ کی جانب سے حکومت کے ساتھ جنگ بندی معاہدہ ختم کرنے اور ملک بھر میں حملے کرنے کی دھمکیوں کے سامنے آنے کے ایک روز بعد کیا گیا ہے۔

ہسپتال میں موجود ڈان نیوز کے رپورٹر کے مطابق دھماکے میں جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد تین ہوگئی ہے جن میں ایک پولیس اہلکار ، خاتون اور بچہ شامل ہیں جب کہ شہید پولیس اہلکار کی شناخت اے ایس آئی ابراہیم کے نام سے ہوئی۔

ہسپتال انتظامیہ کے مطابق دھماکے میں زخمی افراد کی تعداد 28 ہوگئی، زخمیوں میں 22 پولیس اہلکار اور 6 شہری شامل ہیں۔

محکمہ صحت کے میڈیا کوآرڈینیٹر ڈاکٹر وسیم بیگ نے بتایا کہ ایک اور شخص زخمیوں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہو گیا۔

قبل ازیں سینئر سپرنٹینڈنٹ پولیس (ایس ایس پی آپریشن ) عبدالحق عمرانی نے ڈان ڈاٹ کام سے گفتگو کرتے کہا تھا کہ دھماکا کوئٹہ کے علاقے بلیلی میں بلوچستان کانسٹیبلری کے ٹرک کے قریب ہوا۔

فوٹو: اے پی پی
فوٹو: اے پی پی

سینئر پولیس اہلکار نے بتایا کہ دھماکے کے نتیجے میں متعدد پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں جب کہ پولیس، ایف سی سمیت دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران جائے وقوع پر پہنچ گئے ہیں اور علاقے کو گھیرے میں لے کر مزید تفتیش شروع کردی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ دھماکے کی نوعیت کا تاحال اندازہ لگایا نہیں جاسکتا جب کہ زخمیوں کو سول ہسپتال منتقل کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔

صدر، وزیرِ اعظم سمیت دیگر رہنماؤں کی جانب سے دھماکے کی مذمت

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کوئٹہ کے نواحی علاقے بلیلی میں پولیو مہم کے دوران ڈیوٹی پر موجود گاڑی پر دہشت گردحملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سماج دشمن عناصر کو پولیو کے مکمل خاتمے کے مشن میں رخنہ نہیں ڈالنے دیں گے، صدر مملکت نے دھماکے میں بچے اور پولیس اہلکار کے جاں بحق ہونے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا بچے ہمارا بیش قیمت قومی اثاثہ اور مستقبل ہیں۔ پاکستان کے بچوں کو پولیو جیسی بیماری سے محفوظ رکھنے کیلئے پرعزم ہیں ۔

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے بھی دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے واقعہ کی فوری تحقیقات کی ہدایت کی۔

وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق وزیرِ اعظم نے زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی, انہوں نے واقعہ میں پولیس اہلکار سمیت اور ایک بچے کی شہادت پر دلی دکھ کااظہار کرتےہوئے کہا کہ پولیو اہلکار ملک سے اس موذی مرض کے خاتمے کے لیے اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر یہ فریضہ سر انجام دے رہے ہیں جس پر میں انہیں خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ شر پسند عناصر ملک سے پولیو کے خاتمے کی اس مہم کو روکنے میں ہمیشہ ناکام رہیں گے اور پاکستانی قوم، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور پولیو اہلکار شرپسند عناصر کی ان مذموم کوششوں کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔

وزیرِ اعظم نے کہا کہ ملک سے پولیو کا مکمل خاتمہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، حکومت ملک سے پولیو کے خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھے گی، مجھ سمیت پوری قوم کی تمام تر ہمدردیاں شہدا کے اہلِ خانہ کے ساتھ ہیں، وزیرِ اعظم نے واقعہ میں زخمی ہونے والوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی ۔

وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ خان نے دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دھماکا بظاہرخودکش لگتا ہے، بلوچستان حکومت سے وقوعہ کی تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے، دھماکے سے پولیس اہلکاروں اور بچے کی شہادت پر دکھ اور افسوس ہے، دہشت گردی کا ٹارگٹ پولیس پارٹی تھی، پولیس شہداء کوخراج عقیدت پیش کرتا ہوں۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے کوئٹہ میں بلو چستان کانسٹیبلری کے ٹرک کے قریب دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے بزدلانہ کارروائی میں قیمتی جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

اپنے ایک بیان میں وزیراعلیٰ بلوچستان نے زخمیوں کو علاج معالجے کی بہترین سہولتوں کی فراہمی کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں نے سیکیورٹی فورس پر بزدلانہ حملہ کیا، دہشت گردی کی کارروائیوں سے امن کے قیام کے ہمارے عزم کو کمزور نہیں کیا جاسکتا، سیکیورٹی فورسز کے حوصلے بلند اور عزم مضبوط ہے۔

۱.

انہوں نے کہا کہ واقعہ میں ملوث عناصر اور ان کے سرپرستوں کو قانون کی گرفت میں لایا جاۓ گا، وزیراعلئ نے شہدا کے خاندانوں سے تعزیت و ہمدردی کا اظہار کی اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کی دعا کی۔

سابق وفاقی وزیر اور پاکستان تحریک انصاف کے جنرل سیکریٹری اسد عمر نے ٹوئٹر پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ کوئٹہ دھماکے میں سیکیورٹی اہلکاروں کی شہادت ایک بار پھر یاد دہانی ہے کے اس قوم کے بہادر سپوت ہماری حفاظت کے لئے اپنی جان کا نذرانہ بھی پیش کرنے کو ہر وقت تیار ہیں۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں