سپریم کورٹ کے حکم پر معروف صحافی ارشد شریف کے قتل کا مقدمہ درج

اپ ڈیٹ 06 دسمبر 2022
<p>ارشد شریف کو کینیا میں قتل کیا گیا تھا —فوٹو: ٹوئٹر</p>

ارشد شریف کو کینیا میں قتل کیا گیا تھا —فوٹو: ٹوئٹر

اسلام آباد پولیس نے سپریم کورٹ کے حکم پر معروف صحافی ارشد شریف کے قتل کا مقدمہ تھانہ رمنا میں پولیس کی مدعیت میں درج کرلیا۔

اسلام آباد کے تھانہ رمنا میں پولیس کی مدعیت میں تعزیرات پاکستان کی دفعات 302، 34 کے تحت درج کیا گیا ہے اور خرم احمد، وقار احمد اور طارق احمد وصی کو نامزد کیا گیا ہے۔

ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ انسپکٹر میاں محمد شہباز اطلاع ملنے پر اسلام آباد کے پمز ہسپتال پہنچے جہاں ارشد شریف کا جسد خاکی بیرون ملک سے پاکستان پہنچایا گیا تھا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ارشد شریف کا میڈیکل بورڈ کے ذریعے پوسٹ مارٹم کیا گیا اور بورڈ نے نمونوں کے 4 پارسلز اور ایک سکہ گولی کا نمونہ حوالے کیا، تاہم اس وقت پوسٹ مارٹم کی رپورٹ نہیں دی جبکہ جسد خاکی لواحقین کے حوالے کردیا گیا۔

پولیس نے کہا ہے کہ ارشد شریف کا قتل بیرون ملک ہوا اور اس کی انکوائری اعلیٰ سطح پر ہو رہی ہے جبکہ میڈیکل بورڈ کی جانب سے دیے جانے والے نمونوں کے پارسل تھانے میں رکھے گئے۔

مقدمے میں کہا گیا ہے کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق ارشد شریف کی موت آتشیں اسلحے کا فائر لگنے سے ہوئی۔

تھانہ رمنا میں درج مقدمے میں خرم احمد، وقار احمد اور طارق احمد وصی کو ارشد شریف کے قتل کے ملزمان کے طور پر نامزد کیا گیا ہے اور تفتیش تعزیرات پاکستان کی دفعات 34، 302 کے تحت ہوگی۔

اسلام آباد پولیس نے رپورٹ میں کہا ہے کہ ہومی سائیڈیونٹ کے انچارج انسپکٹر میاں محمد شہباز کو تفتیش کے لیے مقرر کردیا گیا ہے۔

قبل ازیں سپریم کورٹ نے ارشد شریف قتل کے معاملے پر از خود نوٹس لیتے ہوئے مقدمہ درج کرنے کا حکم دے دیا تھا۔

چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی اور جسٹس محمد علی مظہر پر مشتمل لارجر بینچ نے از خود نوٹس کیس کی سماعت کی تھی۔

سماعت کے دوران سیکریٹری خارجہ اسد مجید، ڈی جی ایف آئی ایف محسن بٹ، سیکریٹری اطلاعات شاہیرہ شاہد، پی ایف یو جے کے صدر افضل بٹ، ڈی جی آئی بی، سیکریٹری داخلہ، صدر پی یو ایف جے سپریم کورٹ پہنچے تھے۔

چیف جسٹس نے کہا تھا کہ تحقیقاتی رپورٹ تک رسائی سب کا حق ہے، صحافی قتل ہوگیا، سامنے آنا چاہیے کہ کس نے قتل کیا۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ارشد شریف کی میڈیکل رپورٹ غیر تسلی بخش ہے، معاملے کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں، 5 رکنی بینچ حالات کی سنگینی کی وجہ سے ہی تشکیل دیا ہے، صحافیوں کے ساتھ کسی بھی صورت بدسلوکی برداشت نہیں کی جائے گی، کوئی غلط خبر دیتا ہے تو اس حوالے سے قانون سازی کریں۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ ہماری معلومات کے مطابق کوئی مقدمہ درج نہیں ہوا، دفتر خارجہ کل تک کینیا میں تحقیقات اور مقدمہ درج ہونے سے متعلق جواب جمع کرائے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ صحافی سچائی کی آواز ہیں، انسانی زندگی کا معاملہ ہے، ارشد شریف نامور صحافی تھے، صحافی ہی معلومات کا ذریعہ ہیں، قتل سے متعلق عوام کو بہت خدشات ہیں، ارشد شریف قتل کے تمام حقائق کو سامنے لانا ہوگا، ارشد شریف کے قتل پر کس کس پر انگلی نہیں اٹھائی گئی۔

عدالت عظمیٰ نے متعلقہ حکام کو آج رات تک ارشد شریف کے قتل کا مقدمہ درج کرنے کا حکم دیتے ہوئے انکوائری رپورٹ بھی آج (6 دسمبر کو) ہی جمع کرانے کا حکم دیا تھا۔

ارشد شریف کا قتل

ارشد شریف اگست میں اپنے خلاف کئی مقدمات درج ہونے کے بعد پاکستان چھوڑ گئے تھے، ابتدائی طور پر وہ متحدہ عرب امارات میں رہے، جس کے بعد وہ کینیا چلے گئے جہاں انہیں قتل کیا گیا تھا۔

ابتدائی طور پر کینیا کے میڈیا نے مقامی پولیس کے حوالے سے کہا کہ ارشد شریف کو پولیس نے غلط شناخت پر گولی مار کر ہلاک کر دیا، بعد میں کینیا کے میڈیا کی رپورٹس نے قتل سے متعلق واقعات کی رپورٹنگ کرتے ہوئے بتایا کہ ارشد شریف کے قتل کے وقت ان کی گاڑی میں سوار شخص نے پیراملٹری جنرل سروس یونٹ کے افسران پر گولی چلائی۔

اس کے بعد حکومت پاکستان نے تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی جو قتل کی تحقیقات کے لیے کینیا گئی تھی۔

قتل کے فوری بعد جاری بیان میں کینیا پولیس نے کہا تھا کہ پولیس نے ان کی گاڑی پر رکاوٹ عبور کرنے پر فائرنگ کی، نیشنل پولیس سروس (این پی ایس) نیروبی کے انسپکٹر جنرل کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ’50 سالہ پاکستانی شہری ارشد محمد شریف گاڑی نمبر کے ڈی جی 200 ایم پر سوار مگادی، کاجیادو کی حدود میں پولیس کے ایک واقعے میں شدید زخمی ہوگئے تھے‘۔

کینیا کی پولیس نے واقعے کے لواحقین سے اظہار افسوس کرتے ہوئے بیان میں مزید کہا تھا کہ ’این پی ایس اس بدقسمت واقعے پرشرمندہ ہے، متعلقہ حکام واقعے کی تفتیش کر رہی ہیں تاکہ مناسب کارروائی ہو‘۔

کینیا کے میڈیا میں فوری طور پر رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ارشد شریف کے قتل کا واقعہ پولیس کی جانب سے شناخت میں ’غلط فہمی‘ کے نتیجے میں پیش آیا۔

پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ ارشد شریف اور ان کے ڈرائیور نے ناکہ بندی کی مبینہ خلاف ورزی کی جس پر پولیس کی جانب سے فائرنگ کی گئی، سر میں گولی لگنے کی وجہ سے ارشد شریف موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے جبکہ ان کے ڈرائیور زخمی ہوگئے۔

تبصرے (0) بند ہیں