کراچی کی بندرگاہوں پر 50 لاکھ ڈالر سے زائد مالیت کی سبزیاں پھنس گئیں

اپ ڈیٹ 07 دسمبر 2022
<p>سبزیوں کے 417 کنٹینرز کراچی کے مختلف پورٹس پر روک لیے گئے ہیں—فائل فوٹو: ڈان اخبار</p>

سبزیوں کے 417 کنٹینرز کراچی کے مختلف پورٹس پر روک لیے گئے ہیں—فائل فوٹو: ڈان اخبار

انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی کمی کی وجہ سے اشیائے خورو نوش اور ادویہ بنانے والی کمپنیوں کو خام مال اور تیار مصنوعات کی درآمد کے سلسلے میں لیٹر آف کریڈٹ (ایل سی) کھولنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹیبل ایکسپورٹرز، امپورٹرز اینڈ مرچنٹس ایسوسی ایشن (پی ایف وی اے) کے چیئرمین محمد شہزاد شیخ نے وزارت تجارت کو بتایا کہ 50 لاکھ 40 ہزار ڈالر سے زائد مالیت کے 417 کنٹینرز کراچی کے مختلف پورٹس پر روک لیے گئے ہیں-

ان پھنسے ہوئے کنٹینرز میں پیاز کے 250 کنٹینرز ہیں جن کی مالیت 20 لاکھ ڈالرز سے زائد ہے، اسی طرح ادرک کے 63 کنٹینرز ہیں جن کی مالیت 80 ہزار ڈالر ہے اور 104 کنٹینرز میں لہسن موجود ہے جس کی مالیت 25 لاکھ ڈالرز ہے۔

ان کنٹینرز کو روکے جانے کی وجہ زرمبادلہ کی کمی کی وجہ سے کمرشل بینکوں کی جانب سے دستاویزات جاری کرنے سے انکار بتایا جاتا ہے۔

محمد شہزاد شیخ نے کہا کہ سبزیوں کی کلیئرنس میں غیر معمولی تاخیر کے باعث ٹرمینل اور شپنگ چارجز کی وجہ سے ان کے اخراجات میں غیر معمولی اضافہ ہوجائے گا جس کے نتیجے میں صارفین کو مہنگی اشیا خریدنی پڑیں گی، انہوں نے وزارت پر زور دیا کہ وہ صورتحال کا فوری نوٹس لے۔

اسٹیل سیکٹر بھی مشکلات کا شکار

دوسری جانب پاکستان ایسوسی ایشن آف لارج اسٹیل پروڈیوسرز (پی اے ایل ایس پی) کے سیکریٹری جنرل واجد بخاری کا کہنا ہے کہ ہمارے ممبران کو بھی خام مال کی درآمدات کے لیے ایل سی کھولنے میں مشکلات کا سامنا ہے، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بینکوں کے پاس ڈالر ختم ہو گئے ہیں۔

اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ایل سی کھولنے اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے منظوری میں تاخیر اسٹیل کی پیداوار کو متاثر کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ خام مال کی عدم دستیابی کی وجہ سے کئی اسٹیل ملیں بند ہونے کے دہانے پر ہیں، کچھ کمپنیاں پہلے ہی پیداوار میں بڑی حد تک کمی کر چکیں جبکہ اسٹیل کی صنعت درآمد شدہ خام مال پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے ایل سی کی منظوری میں تاخیر اور کرنسی مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے اسٹیل بنانے والوں کو مشکلات کا سامنا ہے جبکہ کنٹینر چارجز میں بھی اضافہ ہورہا ہے، پیداوار میں تعطل کے نتیجے میں مقامی مارکیٹ میں اس اضافی لاگت کا دباؤ پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ اسٹیل انڈسٹری سمجھتی ہے کہ اگر مسئلہ حل نہ ہوا تو اسٹیل کی قیمتوں میں 2 لاکھ 30 ہزار سے 2 لاکھ 40 ہزار روپے فی ٹن تک اضافہ ہو سکتا ہے جب کہ رواں سال گزشتہ سال کے مقابلے میں اس کی درآمدات میں 29 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔

ڈرگز کے لیے خام مال کی عدم دستیابی’

ادھر، دوا ساز کمپنیوں نے بھی خبردار کیا کہ خام مال کی درآمد کے لیے لیٹر آف کریڈٹ نہ کھولے جانے کی صورت میں دوا ساز کمپنیاں 2 ہفتے کے بعد پیداوار جاری نہیں رکھ سکیں گی جس سے ملک میں ادویات کی سنگین قلت پیدا ہو جائے گی۔

دوا سازی کی صنعت نے یہ تازہ انتباہ ڈاکٹروں کی تنظیموں - پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے) اور پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن (پیما) کی جانب سے ریٹیل مارکیٹ میں ادویات کی قلت سے متعلق خطرناک صورتحال کی نشاندہی کے ایک روز بعد سامنے آیا ہے اور انہوں نے حکومت سے نوٹس لینے اور ادویات سازی کی صنعت کو سہولت فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ وہ خام مال کی درآمد کے لیے ایل سی کھول سکیں۔

مقامی دوا ساز کمپنی کے سینئر ایگزیکٹو نے بتایا کہ صرف میری پروڈکشن لائن ملک میں کم از کم2 جان بچانے والی ادویات کی سپلائی میں حصہ ڈالتی ہے، مجھے خدشہ ہے کہ 10 یا 12 روز بعد مجھے اپنی زیادہ تر مصنوعات کی پیداوار بند کرنی پڑے گی، میرے پاس خام مال موجود نہیں ہے اور جان بچانے والی دونوں ادویات بھی ان دواؤں میں شامل ہوں گی جن کی پیداوار بند کی جائے گی، یہ صرف ایک کیس ہے جب کہ سیکڑوں کمپنیاں ہیں جو اسی طرح کے بحران کا سامنا کر رہی ہیں۔

پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پی پی ایم اے) کے دعوے کے مطابق ملک میں 600 سے زیادہ فارماسیوٹیکل کمپنیاں کام کر رہی ہیں، جن میں سے زیادہ تر کے پاس صرف 2 ہفتے کا پیداواری خام مال رہ گیا ہے۔

پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن دعوے کے مطابق یہ صورتحال اس وجہ سے درپیش ہے کیونکہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے تمام مقامی بینکوں کو زبانی طور پر مطلع کیا گیا کہ وہ ڈالر کی کمی کی وجہ سے ایل سی نہ کھولیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر ایل سی جلد نہ کھولے گئے تو اس کے نتیجے میں ادویات کی قلت ہو سکتی ہے کیونکہ زیادہ تر فارماسیوٹیکل کمپنیوں کے پاس صرف دو ماہ کا خام مال موجود ہے اور وہ مستقبل کے لیے خام مال کے آرڈر دینے سے قاصر ہیں۔

پی ایم اے کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر عبدالغفور شورو نے ایک بیان میں کہا کہ اگر آنے والے دنوں میں ادویات کی قلت سے بچنے کے لیے مناسب اقدامات نہ کیے گئے تو خدشہ ہے کہ یہ صورتحال بلیک مارکیٹنگ اور اسمگلنگ کا باعث بنے گی اور قیمتوں میں اضافے کے بعد ادویات غریب عوام کی پہنچ سے باہر ہو جائیں گی۔

ضرور پڑھیں

کیا زبان بولتے ہوئے لہجے کی مقامیت آنی چاہیے؟

کیا زبان بولتے ہوئے لہجے کی مقامیت آنی چاہیے؟

زبان بولتے ہوئے لہجے کی مقامیت آنی چاہیے۔ تلفظ اور معنی کے رشتے کو ضرور ملحوظ رکھا جانا چاہیے اور ہمیں لہجوں کی مقامیت مزاح میں استعمال کرتے ہوئے لسانی و ثقافتی بالادستی کا تاثر نہیں دینا چاہیے۔

تبصرے (0) بند ہیں