ملتان ٹیسٹ: انجریز اور ناقص کارکردگی کے باعث قومی ٹیم میں تبدیلیوں کا امکان

اپ ڈیٹ 07 دسمبر 2022
<p>انگلش ٹیم نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے پہلا ٹیسٹ 74 ر نز سے جیتا تھا —فوٹو: اے ایف پی</p>

انگلش ٹیم نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے پہلا ٹیسٹ 74 ر نز سے جیتا تھا —فوٹو: اے ایف پی

انگلینڈ کے خلاف جمعہ سے ملتان میں شروع ہونے والے دوسرے ٹیسٹ میچ کے لیے انجریز اور ناقص کارکردگی کے باعث قومی کرکٹ ٹیم میں تبدیلیوں کا امکان ہے جب کہ مہمان ٹیم کو جاندار اور بہتر پچ کی امید ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی خبر کے مطابق پہلے ٹیسٹ میں انگلینڈ نے ٹاس جیتنے کا پورا فائدہ اٹھایا، راولپنڈی کی ایک ایسی مردہ وکٹ پر جہاں گیند بازوں کے لیے کوئی مدد نہیں تھی وہاں اس نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے پہلا ٹیسٹ 74 ر نز سے جیت لیا۔

ملتان میں 16 سال سے کوئی ٹیسٹ میچ نہیں کھیلا گیا، یہاں کھیلے گئے حالیہ ڈومیسٹک میچز کا جائزہ لیا جائے تو اس کی وکٹ اسپنرز کو کچھ مدد فراہم کرتی ہے، راولپنڈی میں پاکستان کی پہلی اننگز میں سنچری بنانے والے پاکستانی کپتان بابر اعظم نے کہا کہ وہ بہتر اور مزید جاندار پچ چاہتے ہیں۔

انہوں نے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم راولپنڈی میں اسپن پچ چاہتے تھے، میں نے اپنی رائے دی لیکن بدقسمتی سے ایسا نہیں تھا جو ہم نے منصوبہ بنایا۔

راولپنڈی ٹیسٹ کی 4 اننگز میں ایک ہزار 768 رنز بنے جو کہ ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں تیسرا سب سے بڑا اسکور ہے، میچ میں 7 سنچریاں اور 5 نصف سنچریاں اسکور کی گئیں لیکن ملتان میں کھیلے گئے آخری فرسٹ کلاس میچ میں پچ نے اسپنرز کو مدد فراہم کی، ٹیسٹ اسپنر یاسر شاہ نے میچ کی ہر اننگ میں 5 وکٹیں حاصل کیں۔

ملتان کی پچ کی صورتحال کو نظر میں رکھنے کے باوجود لیگ اسپنر زاہد محمود جنہوں نے پہلے ٹیسٹ میں مجموعی طور پر 319 رنز دے کر 6 وکٹیں حاصل کیں، انہیں پاکستان پلیئنگ الیون سے ڈراپ کیا جاسکتا ہے جب کہ محمد نواز اور ابرار احمد ٹیم میں اپنی جگہ بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔

اس کے علاوہ فاسٹ باؤلر حسن علی ممکنہ طور پر زخمی حارث رؤف کی جگہ لیں گے، انجری کا شکار حارث رؤف خود ورلڈ کلاس فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی کے متبادل تھے جو پہلے ہی سیریز سے باہر ہیں۔

انگلینڈ کرکٹ ٹیم میں ایک تبدیلی کا امکان ہے، وکٹ کیپر بلے باز بین فوکس ممکنہ طور پر لیام لیونگ اسٹون کی جگہ شامل کیے جاسکتے ہیں جو اپنے گھٹنے کے علاج کے لیے واپس روانہ ہو رہے ہیں۔

ملتان کی پچ کی صوررتحال اور کنڈیشن سے قطع نظر انگلینڈ کے کپتان بین اسٹوکس نے جارحانہ (بیزبال) انداز کو جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا، انگلش ٹیم نے اٹیکنگ کرکٹ کے اس طرز کا نام کوچ برینڈن میک کولم کے ’نک نیم‘ پر رکھا ہے۔

مئی میں کوچ برینڈن میک کولم اور کپتان بین اسٹوکس کی بننے والی شراکت داری کے بعد 8 ٹیسٹ میں سے ساتواں میچ جیتنے کے بعد گفتگو کرتے ہوئے انگلش کپتان کا کہنا تھا کہ ہم ہر میچ جیتنے کے لیے کھیلنے جارہے ہیں، یہ طرز کرکٹ ہمیشہ کام کرنے والا نہیں لیکن اگر آپ بہادر ہیں اور اس طرح سے کھیلنے کے لیے تیار ہیں اور میچ ہار جاتے ہیں تو بھی یہ انداز تفریح فراہم کرے گا۔

ملتان کا موسم بھی میچ میں کردار ادا کرنے والا ایک اہم عنصر ہو سکتا ہے، صوبائی حکام نے آئندہ چند روز کے لیے دھند کا الرٹ جاری کیا ہے جو کہ کھیل کو متاثر کرسکتا ہے جس کے باعث کھیل قبل از وقت بھی ختم کرنا پڑ سکتا ہے۔

پاکستان کرکٹ ٹیم میں بابر اعظم (کپتان)، محمد رضوان، امام الحق، عبداللہ شفیق، اظہر علی، محمد علی، فہیم اشرف، محمد نواز، نعمان علی، سعود شکیل، زاہد محمود، محمد وسیم جونیئر، نسیم شاہ، آغا سلمان، سرفراز احمد، ابرار احمد، شان مسعود شامل ہیں۔

انگلینڈ کرکٹ ٹیم میں بین اسٹوکس (کپتان)، جیمز اینڈرسن، ہیری بروک، زیک کرولی، بین ڈکٹ، بین فوکس، ول جیکس، کیٹن جیننگز، جیک لیچ، جیمی اوورٹن، اولی پوپ، اولی رابنسن، جو روٹ، مارک ووڈ، ریحان احمد شامل ہیں۔

میچ آفیشلز: امپائرز: ماریس ایراسمس اور علیم ڈار: ٹی وی امپائر: جوئل ولسن، میچ ریفری: اینڈی پائکرافٹ ہیں۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں