ایران: مظاہرین پر حکومتی تشدد، سپریم لیڈر خامنہ ای کی بہن کا اظہار مذمت

07 دسمبر 2022
<p>خامنہ کی بہن نے بھائی کی حکومت پر سخت تنقید کی ہے—فوٹو: رائٹرز</p>

خامنہ کی بہن نے بھائی کی حکومت پر سخت تنقید کی ہے—فوٹو: رائٹرز

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی بہن نے ملک میں جاری مظاہروں پر حکومت کے تشدد کی مذمت کرتے ہوئے پاسداران انقلاب سے عوام کے خلاف ہتھیار استعمال نہ کرنے کا مطالبہ کردیا۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ کے مطابق ایرانی سپریم لیڈر کی بہن بدری حسینی خامنہ ای کے فرانس میں مقیم بیٹے محمود مرادخانی کی طرف سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری کردہ خط کے مطابق بدری حسینی نے اسلامی جمہوریہ ایران کے بانی آیت اللہ روح اللہ خامنہ ای سے لے کر اپنے بھائی کی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

محمود مرادخانی کی طرف سے جاری کردہ خط میں خامنہ ای کی بہن نے لکھا ہے کہ ’میں اب یہ واضح کرنا مناسب سمجھتی ہوں کہ میں اپنے بھائی کے اقدامات کی مخالفت کرتی ہوں اور اسلامی جمہوریہ کے بانی سے لے کر آیت اللہ خامنہ کی جابرانہ خلافت کے موجودہ دور میں اسلامی جمہوریہ ایران کے ظالمانہ کارروائیوں پر سوگ منانے والی ماؤں سے بھی اظہار ہمدردی کرتی ہوں۔‘

خامنہ کی بہن نے اپنے خط میں لکھا کہ ’آیت اللہ خامنہ ای کے پاسداران انقلاب اور فوجیوں کو چاہیے کہ جتنا جلدی ہو غیر مسلح ہو کر لوگوں سے مل جائیں اس سے پہلے کے بہت دیر ہوجائے۔‘

خیال رہے کہ 16 ستمبر کو ایران کی اخلاقی پولیس کی تحویل میں 22 سالہ مہسا امینی کی ہلاکت کے بعد ملک بھر میں پرتشدد مظاہرون نے ایرانی حکومت کو سخت پریشان کر رکھا ہے جہاں سماجی طور پر غیریقینی صورتحال پیدا ہوگئی ہے جبکہ اب سماج کے دیگر شعبہ زندگی نے بھی پیر سے عام ہڑتال کی تحریک شروع کردی ہے جس سے حکومت کو مزید دباؤ کا سامنا ہے۔

خیال رہے کہ پاسداران انقلاب ایران کی ایلیٹ فورس ہے جس نے ملک کو مشرق وسطیٰ میں پراکسی قائم کرنے میں مدد کی ہے اور ایک وسیع کاروباری سلطنت چلا رہی ہے۔

گزشتہ روز ایران کی ایلٹ فورس نے اپنے جاری کردہ بیان میں عدالت سے مطالبہ کیا کہ فسادیوں اور دہشت گردوں پر کوئی رحم نہ کیا جائے، اور اشارہ دیا کہ حکام کے اختلاف پر شدید کریک ڈاؤن میں نرمی کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

ایران کی عدلیہ کے ترجمان مسعود ستائشی نے کہا کہ پاسداران انقلاب کی بسیج فورس کے رکن روح اللہ عجمیان کے قتل میں ملوث پانچ افراد کو فیصلے میں سزائے موت سنائی گئی ہے مگر سزا کے خلاف وہ اب بھی اپیل کر سکتے ہیں۔

نومبر میں بدری حسینی خامنہ ای کی بیٹی فریدہ مرادخانی کو حکام نے غیر ملکی حکومتوں سے ایران کے ساتھ تعلقات منقطع کرنے کے مطالبے کے بعد گرفتار کیا تھا۔

ایران کے مظاہروں پر معلومات جاری کرنے والے ایک ٹوئٹر اکاؤنٹ ’1500 تسویر‘ کی طرف سے ایک وڈیو شیئر کی گئی جس میں تہران، اصفہان، الہام، کرمانشاہ، نجف آباد، اراک، بابول اور شیراز کی تجارتی گلیوں میں بند دکانیں دکھائی گئی ہیں جہاں سیکورٹی فورسز دکانداروں کو اپنے دکان کھولنے پر مجبور کر رہے ہیں۔ تاہم رائٹرز وڈیوز کی تصدیق نہ کر سکی۔

اسی ٹوئٹر اکاؤنٹ سے ایک اور وڈیو شیئر کی گئی جس میں صدر ابراہیم رئیسی تہران یونیورسٹی میں یوم طلبہ کے موقع پر خطاب کر رہے تھے اور وہاں کچھ طلبہ نے مرکزی استقبالیہ ہال کے باہر ’بے عزت‘ اور ’طلبہ مر جائیں گے مگر حکومت کو تسلیم نہیں کریں گے‘ جیسے حکومت مخالف نعرے لگائے۔

بعدازاں طلبہ کو سادہ کپڑوں میں ملبوس سیکیورٹی فورسز سے زبانی جھگڑا کرتے دیکھا گیا۔

طلبہ نے ایران بھر کی متعدد جامعات میں احتجاج کیا ہے جہاں انہوں نے حکومت کے مکمل خاتمے کا مطالبہ کیا جبکہ 1500 تسویر نامی اکاؤنٹ سے جاری کردہ فوٹیجز کے مطابق طلبہ نے ’ خامنہ ای مردہ آباد’ کے نعرے لگائے۔

مشہد کے شمال مشرقی شہر میں طلبہ فردوسی یونیورسٹی کے باہر جمع ہوئے جہاں ایک پک اپ ٹرک میں سوار افراد کی طرف سے انہیں دھمکیاں دی گئیں اور خبردار کیا کہ انہیں (طلبہ) کو طلب کیا جائے گا اور یہ ان کے لیے بری طرح سے اختتام ہوگا۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں