کراچی: مقررہ وقت کے علاوہ ہیوی ٹریفک کے داخلے پر پابندی پر عملدرآمد کا حکم

اپ ڈیٹ 08 دسمبر 2022
<p>سندھ ہائی کورٹ نے مقررہ اوقات کے علاوہ ہیوی ٹریفک کے داخلے پر پابندی کا حکم دے دیا — فائل فوٹو</p>

سندھ ہائی کورٹ نے مقررہ اوقات کے علاوہ ہیوی ٹریفک کے داخلے پر پابندی کا حکم دے دیا — فائل فوٹو

سندھ ہائی کورٹ نے ٹریفک پولیس کو کراچی میں مقررہ اوقات کے علاوہ ہیوی ٹریفک کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے فیصلے پر عمل درآمد کرانے کا حکم دے دیا۔

سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس ندیم اختر نے کراچی میں دن کی اوقات کے دوران ہیوی ٹریفک کے داخلے کے خلاف درخواست پر سماعت کی، جہاں ڈی آئی جی ٹریفک عدالت میں پیش ہوئے۔

ڈی آئی جی ٹریفک کی جانب سے رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی جس پر سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس ندیم اختر نے استفسار کیا کہ پہلے والے ڈی آئی جی ٹریفک کہاں ہیں۔

جسٹس ندیم اختر نے استفسار کیا کہ کیا پہلے والے ڈی آئی جی کا تبادلہ ہو چکا ہے اور کیا عدالت سے ان کے تبادلے کی اجازت لی گئی تھی۔

جسٹس ندیم اختر نے ٹریفک پولیس پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سے یہ پتا چلتا ہے کہ محکمہ، عدالت کے احکامات کو کتنا سنجیدہ لیتا ہے۔

عدالت نے ڈی آئی جی ٹریفک سے استفسار کیا کہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے ہیوی ٹریفک کے احکامات کا آپ کو علم ہے۔

ڈی آئی جی ٹریفک نے کہا کہ رات 11 بجے سے صبح 6 بجے تک ہیوی ٹریفک شہر میں داخل ہو سکتا ہے۔

ڈی آئی جی نے کہا کہ سپر ہائی وے سے نیو کراچی، نیشنل ہائی وے سے منزل پمپ، کے پی ٹی سی ناردرن بائی پاس تک ہیوی ٹریفک جاسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ میٹنگ ہوئی تھی۔

اس پر جسٹس ندیم اختر نے استفسار کیا کہ ہمیں صرف سپریم کورٹ کے احکامات پر عملدرآمد کرانا ہے۔

عدالت نے کہا کہ اگر ان تین روٹس پر ہیوی ٹریفک چلے تو شہر میں ہیوی ٹریفک نظر نہیں آنا چاہیے۔

عدالت نے استفسار کیا کہ ایم نائن سے نیشنل ہائی وے کے لیے لنک روڈ تعمیر ہونا تھا، اس پر ڈی آئی جی نے کہا کہ اس کے لیے اسٹڈی کی ضرورت ہے۔

جسٹس ندیم اختر نے کہا کہ اسٹڈی کرنی ہے جو کرنا ہے کریں، حادثات کی وجہ سے لوگوں کی جانیں جارہی ہیں، لہٰذا مقررہ اوقات کے بعد کسی کو شہر میں داخلے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔

ڈی آئی جی نے کہا کہ اگر اوقات کے علاوہ خلاف ورزی ہوتی ہے تو 10 ہزار روپے سے زائد جرمانہ کیا جاتا ہے مگر جرمانے کی رقم کم ہے اس لیے یہ اتنا مؤثر نہیں ہو رہا۔

ڈی آئی جی نے کہا کہ ہم عدالتی احکامات پر عمل درآمد کے لیے مزید توجہ دیں گے۔

جسٹس ندیم اختر نے کہا کہ ہیوی ٹریفک کی وجہ سے کالج، اسکول، ہسپتال، نوکری یا عدالت جانے والے شہری وقت پر نہیں پہنچ سکتے اور یہ آئین کے آرٹیکل 9 کی خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے ڈی آئی جی سے استفسار کیا کہ آپ ایک ذمہ دار افسر ہیں، آپ عمل درآمد نہیں کریں گے تو کون کرے گا۔

ڈی آئی جی نے کہا کہ سندھ میں ٹریفک کی خلاف ورزی بہت زیادہ ہے مگر جرمانہ بہت کم ہے کیونکہ موٹر سائیکل سوار کو بھی اتنا جرمانہ ہوتا ہے جتنا 22 ویلر کو ہوتا ہے۔

انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ہم خلاف وزری پر ایف آئی آر بھی درج کریں گے اور ان کو بند کریں گے۔

ڈی آئی جی ٹریفک نے مزید کہا کہ مقررہ اوقات کے علاوہ ہیوی ٹریفک کا داخلہ نہیں ہوتا۔

جسٹس ندیم اختر نے ڈی آئی جی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ داخلہ پوائنٹس پر توجہ دیں، آپ کا کورس اور طریقہ کار صحیح نہیں ہے۔

عدالت نے کہا کہ یا تو شہریوں کو کہیں کہ وہ سوشل میڈیا پر ڈیٹ اور ٹائم کے ساتھ ویڈیوز اپ لوڈ کریں۔

درخواست گزار نے کہا کہ کنٹینرز کو کراچی پورٹ سی مقررہ وقت سے پہلے نکلنے نہ دیا جائے۔

جسٹس ندیم اختر نے کہا کہ شہر میں جنگل کا قانون ہے، پولیس والی لائٹس، فینسی نمبر پلیٹس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جارہی اس پر ڈی آئی جی نے کہا کہ فینسی نمبر پلیٹ پر پندرہ ہزار گاڑیوں کے خلاف کارروائی کی ہے۔

جسٹس ندیم اختر نے کہا کہ کسی مہذب معاشرے میں ایسا نہیں ہوتا جو یہاں ہو رہا ہے۔

عدالت نے حکم دیا کہ خلاف ورزی کرنے والوں کی گاڑیاں بند کریں اور رکن قومی اسمبلی ہوں یا صوبائی کسی کے بھی دباؤ میں نہ آئیں۔

عدالت نے کہا کہ کہ عوامی آگاہی کے لیے اخبارات میں اشتہار شائع کرائیں۔

ڈی آئی جی ٹریفک نے عدالت کو یقین دہانی کروائی کہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر مقدمہ درج ہوگا۔

تبصرے (0) بند ہیں