بھارت کی نریندر مودی سے متعلق دستاویزی فلم نشر کرنے پر پابندی کی کوشش

اپ ڈیٹ 22 جنوری 2023
<p>’انڈیا: دی مودی کوئسچن‘ نامی دستاویزی فلم کا پہلا حصہ 17 جنوری کو بی بی سی پر نشر کیا گیا تھا — فائل فوٹو: رائٹرز</p>

’انڈیا: دی مودی کوئسچن‘ نامی دستاویزی فلم کا پہلا حصہ 17 جنوری کو بی بی سی پر نشر کیا گیا تھا — فائل فوٹو: رائٹرز

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سے متعلق برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) کی دستاویزی فلم ریلیز ہونے کے بعد بھارت میں ہنگامہ برپا ہوگیا، بھارتی حکومت نے سوشل میڈیا پر فلم پر تبصرہ کرنے والی ٹوئٹس اور مواد کو بلاک کرنے کی ہدایات جاری کردیں۔

ڈان اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق دو قسطوں پر مبنی ’انڈیا: دی مودی کوئسچن‘ نامی دستاویزی فلم کا پہلا حصہ 17 جنوری کو بی بی سی پر نشر کیا گیا تھا جبکہ دوسری قسط 24 جنوری کو نشر کی جائے گی۔

فلم کی پہلی قسط میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے عروج، راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے ساتھ تعلقات اور 2002 کے گجرات فسادات کے دوران ان کے کردار پر سوال اٹھائے گئے تھے۔

خیال رہے کہ 2002 میں اس وقت نریندر مودی بھارت کی مغربی ریاست گجرات کے وزیر اعلیٰ تھے۔

یاد رہے کہ گجرات کے ان فسادات کے دوران ایک ہزار سے زیادہ لوگ مارے گئے تھے جب کہ مارے جانے والے زیادہ افراد مسلمان تھے۔

یہ فسادات اس وقت پھوٹ پڑے تھے جب ہندو زائرین کو لے جانے والی ٹرین میں آگ لگنے سے 59 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

دستاویزی فلم کے مطابق ’مغرب، نریندر مودی کو ایشیا میں چینی تسلط کے خلاف دفاع کے طور پر دیکھتا ہے، انہیں امریکا اور برطانیہ دونوں اہم اتحادی کے طور پر دیکھتے ہیں تاہم نریندر مودی کی حکومت پر الزامات لگتے رہے ہیں اور اس کی وجہ بھارت کی مسلم آبادی سے متعلق اس کا رویہ ہے۔‘

دستاویزی فلم میں ان الزامات کی حقیقت پر تحقیقات کی گئی ہے۔

دستاویزی فلم میں نریندر مودی کی جانب سے برطانوی صحافی کو دیا گیا غیر معمولی انٹرویو بھی شامل ہے، اس صحافی نے بعد میں نریندر مودی کو طاقتور، خطرناک قرار دیا تھا۔

صحافی کی جانب سے بھارت کی سب سے بڑی مذہبی اقلیت سے متعلق سوال پر نریندر مودی نے عدم دلچسپی ظاہر کرتے ہوئے اسی جھوٹا پروپیگنڈا قرار دیا تھا۔

اگرچہ دستاویزی فلم کا بڑا حصہ محفوظ شدہ (آرکائیو) فوٹیج اور مودی کی اپنی ویڈیو پر مبنی ہے، لیکن اس میں گجرات فسادات کی خفیہ برطانوی تحقیقات کے بارے میں چونکا دینے والا انکشاف بھی شامل ہیں۔

برطانوی دفتر خارجہ کی جانب سے ’بی بی سی‘ کو حاصل ہونے والی غیر شائع شدہ رپورٹ میں 2002 کے گجرات فسادات میں مودی کے کردار کے حوالے سے سوالات اٹھائے گئے تھے، رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ 2002 میں گجرات میں پُرتشدد ماحول پیدا کیا گیا اور مودی اس کے ’براہ راست قصوروار‘ تھے۔

دستاویزی فلم میں برطانوی وزیر خارجہ جیک اسٹرا نے تحقیقات کے نتائج کے حوالے سے بات کی، انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اس حوالے سے میں بہت پریشان تھا، میں اس میں بہت زیادہ ذاتی دلچسپی لے رہا تھا کیونکہ بھارت ہمارے لیے بہت اہم ملک ہے جس کے ہمارے ساتھ تعلقات ہیں، ہمیں بہت محتاط طریقے سے تحقیقات کرنی تھیں‘۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ہم نے اس پر تحقیقات کا آغاز کیا اور ایک ٹیم تشکیل دی جسے گجرات روانہ ہونا تھا اور وہاں خود جاکر اصل حقائق کو معلوم کرنا تھا، جس کے بعد ہماری ٹیم نے تفصیلی رپورٹ تیار کی تھی جو انتہائی حیران کن تھیں۔

انہوں نے بتایا کہ رپورٹ میں اس وقت کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی کے کردار کے حوالے سے سنجیدہ دعوے کیے گئے تھے اور یہ باتیں سامنے آئی تھیں کہ پولیس کو پیچھے رکھا گیا جبکہ ہندو انتہا پسندوں کو اُکسایا گیا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ یہ اداروں میں سیاست ملوث ہونے کی نمایاں مثال تھی جہاں پولیس کو اپنا کام کرنے سے روکا گیا جس کا اصل مقصد ہندوؤں اور مسلمانوں کی حفاظت کرنا ہے، ہمارے پاس محدود راستے تھے، ہم کبھی بھارت کے ساتھ سفارتی تعلقات توڑ نہیں سکتے تھے لیکن یہ مودی کی ساکھ کے لیے نقصان دہ رہا۔

بھارت کا ردعمل

بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان ارندم باغچی نے وزیر اعظم نریندر مودی سے متعلق دستاویزی فلم کو پروپیگنڈا قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا۔

انہوں نے کہا کہ ’ہمارے خیال میں یہ فلم پروپیگنڈا پر مبنی ہے، متعصب اور نوآبادیاتی ذہنیت کو فروغ دینے کی کوشش کی گئی، فلم کو مزید اہمیت دینے کے لیے ہم اس پر مزید جواب نہیں دینا چاہتے۔‘

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارت کے وزارت اطلاعات و نشریات نے 2 معروف سوشل میڈیا ویب سائٹ کو بی بی سی کی دستاویزی فلم پر پابندی عائد کرنے کا کہا ہے۔

بھارتی چینل ’این ڈی ٹی وی‘ کے مطابق بھارتی وزارت اطلاعات نے سوشل میڈیا ویب سائٹ ٹوئٹر سے برطانوی قومی نشریاتی ادارے کی جانب سے دستاویزی فلم سے متعلق 50 سے زائد ٹوئٹس ہٹانے کی درخواست کی ہے۔

مودی کے حمایتی برطانوی شہریوں اور بھارتیہ جنتا پارٹی (پی جے پی) کے حامی میڈیا نے دستاویزی فلم پر تنقید کرتے ہوئے سوال کیا کہ ’مودی مخالف بیانیہ‘ کیوں پیش کیا جارہا ہے؟

تاہم نریندر مودی اور بی جے پی کی حکومت پر تنقید کرنے والے صحافیوں نے کہا کہ دستاویزی فلم میں کئی انکشافات سامنے آئے اور مودی حکومت کی جانب سے ٹوئٹس اور یوٹیوب ویڈیوز کو بلاک (ہٹانا) کرنا بھارت کے لیے اچھا نہیں ہے۔

برطانوی وزیراعظم وزیر اعظم رشی سونک کا ردعمل

دوسری جانب برطانوی وزیر اعظم رشی سوناک نے پارلیمنٹ کے رکن عمران حسین کے گجرات میں ہونے والے فسادات اور اس میں نریندر مودی کے کردار کے حوالے سے سوال کو نظرانداز کردیا۔

رشی سوناک نے کہا کہ ’ایک طویل عرصے سے برطانوی حکومت کا مؤقف واضح رہا ہے اور یہ آج بھی تبدیل نہیں ہوا، ہم دنیا میں کہیں بھی ظلم کو برداشت نہیں کرتے، تاہم میں معزز ایم پی کی جانب سے کی گئی بات سے بالکل اتفاق نہیں کرتا۔‘

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں