الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کے مزید 43 اراکین قومی اسمبلی کو ڈی نوٹیفائی کردیا

اپ ڈیٹ 25 جنوری 2023
<p>آج ڈی نوٹیفائی اراکین کے ساتھ پی ٹی آئی کے مستعفی قانون سازوں کی تعداد 122 ہوگئی ہے— فائل فوٹو: ٹوئٹر</p>

آج ڈی نوٹیفائی اراکین کے ساتھ پی ٹی آئی کے مستعفی قانون سازوں کی تعداد 122 ہوگئی ہے— فائل فوٹو: ٹوئٹر

اسپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مزید 43 اراکین قومی اسمبلی کے استعفے منظور کیے جانے کے بعد الیکشن کمیشن آف پاکستان نے انہیں ڈی نوٹیفائی کردیا۔

اسپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے یہ استعفے منظور کرنے کی خبر گزشتہ روز ایسے وقت میں سامنے آئی تھی جب 2 روز قبل ہی پاکستان تحریک انصاف کے تمام 45 اراکین قومی اسمبلی نے اپنے استعفے واپس لینے کی درخواست الیکشن کمیشن میں جمع کرائی تھی۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے آج جن اراکین کو ڈی نوٹیفائی کیا گیا ان میں محمد یعقوب شیخ، گل ظفر خان، جواد حسین، ذلقرنین علی خان، حاجی امتیاز احمد، ملک محمد احسان اللہ ٹواناہ، رضا نصرالدین، محمد ریاض خان، محمد یعقوب سلطان، محمد امیر سلطان، راحت امان اللہ، رائے محمد مرتضیٰ اقبال، میاں محمد شفیق، فاروق اعظم ملک شامل ہیں۔

دیگر اراکین میں جاوید اقبال، شبیر علی، خواجہ شیراز، سردار محمد خان لغاری، سردار نصراللہ شریشک، منزہ حسان، ڈاکٹر سیمیں عبدالرحمٰن ، ثوبیہ کمال، نوشین حامد، ربینہ جمیل فوزیہ بہرام، رخسانہ نوید، تاشفین صفدر، صائمہ ندیم، غزالہ سیفی، نصرت واحد، نفیسہ عنایت اللہ، ساجدہ بیگم، طارق صادق، نورین فاروق، عظمیٰ ریاض، ظل ہما، شاہین ناز سیف اللہ، لال چند، شنیلا رتھ، جئے پرکاش اور جمشید تھومس شامل ہیں۔

پی ٹی آئی رہنما عامر ڈوگر اور ریاض فتیانہ پر مشتمل 2 رکنی وفد کی جانب سے الیکشن کمیشن میں جمع کرائی گئی درخواست میں کہا گیا تھا کہ ہم 45 اراکین قومی اسمبلی اپنے استعفے واپس لے رہے ہیں، اسپیکر اور قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کو استعفی واپس لینے سے متعلق آگاہ کردیا ہے۔

درخواست میں کہا گیا تھا کہ اسپیکر قومی اسمبلی اگر ہمارے استعفے منظور کرتے ہیں تو ہمیں ڈی نوٹیفائی نہ کیا جائے۔

یاد رہے کہ پی ٹی آئی کی جانب سے یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا تھا جب 17 جنوری کو اسپیکر قومی اسمبلی راجا پرویز اشرف نے پاکستان تحریک انصاف کے 34 اراکین اسمبلی کے استعفے منظور کرنے کے تین روز بعد یعنی 20 جنوری کو اس کے مزید 35 اراکین کے استعفے منظور کرلیے تھے۔

اس کے بعد پی ٹی آئی کے مستعفی اراکین کی تعداد 79 ہوگئی تھی، آج ڈی نوٹیفائی اراکین کے ساتھ اس کے مستعفی قانون سازوں کی تعداد 122 ہوگئی ہے۔

پی ٹی آئی نے گزشتہ سال اپریل میں پی ٹی آئی سربراہ عمران خان کی برطرفی کے بعد پارلیمنٹ کے ایوان زیریں سے اجتماعی استعفے دے دیے تھے۔

بعد ازاں اسپیکر قومی اسمبلی نے صرف 11 ارکان کے استعفے منظور کیے تھے اور کہا تھا کہ باقی ارکان اسمبلی کو تصدیق کے لیے انفرادی طور پر طلب کیا جائے گا جب کہ کراچی سے رکن اسمبلی شکور شاد نے اپنا استعفیٰ واپس لے لیا تھا۔

تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی کے استعفے

پی ٹی آئی کے اراکین اسمبلی نے 11 اپریل 2022 کو پارلیمنٹ میں اعتماد کے ووٹ کے ذریعے پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان کو وزیر اعظم کے عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد اپنے استعفے جمع کرائے تھے۔

اسمبلی سے بڑے پیمانے پر مستعفی ہونے کے فیصلے کا اعلان پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے 11 اپریل کو وزیر اعظم شہباز شریف کے انتخاب سے چند منٹ قبل اسمبلی کے فلور پر کیا تھا۔

قومی اسمبلی سیکریٹریٹ نے اپنے خط میں کہا کہ اس نے پی ٹی آئی کے اراکین اسمبلی کو 30 مئی کو طلب کیا اور انہیں 6 سے 10 جون تک ذاتی طور پر پیش ہونے اور استعفوں کی تصدیق کا وقت دیا تھا لیکن ان میں سے کوئی نہیں آیا۔

اسپیکر نے جولائی میں پی ٹی آئی کے 11 اراکین کے استعفے قبول کرنے کی کوئی واضح وجہ بتائے بغیر ہی قومی اسمبلی کے استعفے منظور کر لیے تھے جن میں ڈاکٹر شیریں مزاری، علی محمد خان، فخر زمان خان اور فرخ حبیب بھی شامل تھے۔

اس کے بعد تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی مسلسل مزید ارکان کے استعفوں کی منظوری کا مطالبہ کرتے رہے لیکن اسپیکر قومی اسمبلی اس بات پر اصرار کرتے رہے کہ اراکین اسمبلی ذاتی حیثیت میں پیش ہو کر استعفوں کے لیے ملاقات کریں۔

اسپیکر نے پارٹی سے پہلے ہی پوچھا تھا کہ قومی اسمبلی کے رولز آف پروسیجر اینڈ کنڈکٹ آف بزنس 2007 کے رول 43 کے مطابق انہیں پارٹی کے چیئرمین عمران خان سمیت 127 اراکین قومی اسمبلی سے انفرادی طور پر ملاقات کرنی تھی، تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ آیا انہوں نے استعفے آزادانہ اور کسی دباؤ کے بغیر دیے ہیں یا نہیں۔

گزشتہ ماہ قومی اسمبلی کے اسپیکر نے پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کو خط لکھ کر ان سے کہا تھا کہ وہ پارٹی کے تمام اراکین قومی اسمبلی کو انفرادی طور پر استعفوں کی تصدیق کے لیے بھیجیں۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں