گپٹل کی سنچری کی بدولت گلیڈی ایٹرز کامیاب، کراچی کنگز کو لگاتار تیسری شکست

اپ ڈیٹ 18 فروری 2023
مارٹن گپٹل نے 67 گیندوں پر 5 چھکوں اور 12 چوکوں کی مدد سے 117 رنز بنائے— فوٹو: پی ایس ایل
مارٹن گپٹل نے 67 گیندوں پر 5 چھکوں اور 12 چوکوں کی مدد سے 117 رنز بنائے— فوٹو: پی ایس ایل

پاکستان سپر لیگ (پٌی ایس ایل) کے آٹھویں ایڈیشن کے گروپ میچ میں مارٹن گپٹل کی شان دار سنچری کی بدولت کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے کراچی کنگز کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد 6 رنز سے شکست دے کر ایونٹ میں پہلی کامیابی حاصل کر لی۔

کراچی کے نیشنل بینک کرکٹ ارینا میں کھیلے گئے پاکستان سپر لیگ کے آٹھویں ایڈیشن کے چھٹے میچ میں کراچی کنگز کے کپتان عماد وسیم نے ٹاس جیت کر کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی۔

کوئٹہ کی اننگز کا آغاز سی ڈراؤنے خواب سے کم نہ تھا اور پہلے ہی اوور میں کپتان عماد وسیم نے جیسن روئے کے ساتھ ساتھ عبدل بنگلزئی کو بھی چلتا کردیا۔

عمر اکمل کو ترقی دیتے ہوئے اوپری نمبروں پر بیٹنگ کے لیے بھیجا گیا لیکن وہ اس موقع سے فائدہ نہ اٹھا سکے اور عماد کو ایک چوکا لگانے کے بعد اگلی ہی گیند پر بولڈ ہو گئے۔

کپتان سرفراز احمد بھی وکٹ پر قیام کے دوران جدوجہد کرتے نظر آئے اور جب عامر یامین کی وکٹ بنے تو کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی ٹیم 6.1 اوورز میں 23 رنز پر چار وکٹیں گنوا چکی تھی۔

اس مرحلے پر گہٹل کا ساتھ دینے افتخار احمد آئے اور دونوں نے ذمے دارانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 59 رنز کی شراکت قائم کی لیکن اس سے قبل کہ یہ شراکت خطرناک ثابت ہوتی، عامر نے اس شراکت کا خاتمہ کر کے 32 رنز بنانے والے افتخار کو چلتا کردیا۔

دوسرے اینڈ سے مارٹن گپٹل نے اپنی ففٹی مکمل کی اور انہیں اس وقت نئی زندگی ملی جب اینڈریو ٹائی کی گیند پر پوائنٹ پر کھڑے فیلڈر ان کا کیچ نہ لے سکے۔

اس موقع پر کیوی بلے باز نے بھرپور فائدہ اٹھایا اور جارحانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی اگلی ففٹی صرف 18 گیندوں پر مکمل کرتے ہوئے پاکستان سپر لیگ کے آٹھویں ایڈیشن کی پہلی سنچری بنانے کا اعزاز حاصل کر لیا۔

گپٹل نے کراچی کنگز کے تمام باؤلرز کو آڑے ہاتھوں لیا اور اینڈریو ٹائی کے ایک اوور میں تین چھکے لگاتے ہوئے 30 رنز بھی بٹورے۔

وہ اننگز کی آخری گیند پر عامر یامین کی وکٹ بنے لیکن اس سے قبل ہی وہ 67 گیندوں پر 5 چھکوں اور 12 چوکوں کی مدد سے 117 رنز بنا چکے تھے۔

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے مقررہ اوورز میں 7 وکٹوں کے نقصان پر 168 رنز بنائے۔

کراچی کنگز کی جانب سے عماد وسیم نے بہترین باؤلنگ کرتے ہوئے 16 رنز کے عوض 3 وکٹیں لیں جبکہ عامر یامین نے بھی تین وکٹیں اپنے نام کیں۔

ہدف کے تعاقب میں کراچی کنگز کا آغاز کچھ اچھا نہ تھا اور شرجیل خان اور حیدر علی بغیر کوئی رنز بنائے پویلین لوٹ گئے۔

جیمز ونس نے 22 رنز کی اننگز کھیلی لیکن جب وہ نسیم شاہ کی گیند پر بولڈ ہوئے تو میزبان ٹیم 35 رنز پر تین وکٹیں گنوا چکی تھی۔

اس موقع پر شعیب ملک کا ساتھ دینے میتھیو ویڈ آئے اور دونوں نے اسکور کو مل کر 70 تک پہنچا دیا اور یہ شراکت گلیڈی ایٹرز کے لیے خطرناک ثابت ہوتی جا رہی تھی لیکن اسی مرحلے پر محمد حسنین نے آسٹریلین بلے باز کی 15 رنز کی اننگز کا خاتمہ کرنے کے ساتھ ساتھ اسی اوور میں کنگز کے کپتان عماد وسیم کو بھی چلتا کردیا۔

75 رنز پر آدھی ٹیم کے آؤٹ ہونے کے بعد شعیب کا ساتھ نبھانے نوجوان عرفان نیازی آئے اور دونوں نے اپنی ٹیم کو ہدف تک پہنچانے کا بیڑا اٹھایا۔

عرفان نے شعیب ملک کا خوب ساتھ نبھایا جنہوں نے اپنے تجربے کو بروکار لاتے ہوئے نصف سنچری اسکور کی۔

ایک مرحلے پر دونوں کھلاڑیوں کی جارحانہ بیٹنگ کو دیکھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا تھا کہ کراچی کنگز کی ٹیم ہدف حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گی لیکن نسیم شاہ اور حسنین نے بالترتیب 18ویں اور 19ویں اوور میں نپی تلی باؤلنگ کر کے کنگز کی ہدف کے حصول کی کوشش کو شدید نقصان پہنچایا۔

آخری اوور میں میزبان ٹیم کو فتح کے لیے 24 رنز درکار تھے لیکن وہ اوڈین اسمتھ کی جانب سے کرائے گئے اوور میں 17 رنز ہی بنا سکی اور اس طرح گلیڈی ایٹرز نے میچ میں چھ رنز سے فتح حاصل کر کے ٹورنامنٹ میں پہلی کامیابی بھی اپنے نام کر لی۔

کراچی کنگز کی جانب سے شعیب ملک نے 49 گیندوں پر 71 اور عرفان نیازی نے 26 گیندوں پر 37 رنز کی اننگز کھیلی۔

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی جانب سے محمد حسنین دو وکٹیں لے کر سب سے کامیاب باؤلر رہے جبکہ نسیم شاہ، محمد نواز، قیس احمد نے ایک، ایک وکٹ حاصل کی۔

مارٹن گپٹل کو ان کی شاندار سنچری پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

میچ کیلئے دونوں ٹیمیں ان کھلاڑیوں پر مشتمل تھیں۔

کراچی کنگز: عماد وسیم(کپتان)، جیمز ونس، شرجیل خان ، حیدر علی، شعیب ملک، میتھیو ویڈ، عرفان نیازی، عامر یامین، اینڈریو ٹائی، عمران طاہر اور محمد عامر۔

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز: سرفراز احمد(کپتان)، جیسن روئے، مارٹن گپٹل، عبدل بنگلزئی، عمر اکمل، افتخار احمد، محمد نواز، اوڈین اسمتھ، محمد حسنین، نسیم شاہ اور قیس احمد۔

ضرور پڑھیں

وزیراعظم کا انتخاب کس طرح ہوتا ہے؟

وزیراعظم کا انتخاب کس طرح ہوتا ہے؟

وزارت عظمیٰ کے لیے اگر کوئی بھی امیدوار ووٹ کی مطلوبہ تعداد حاصل کرنے میں ناکام رہا تو ایوان زیریں کی تمام کارروائی دوبارہ سے شروع کی جائے گی۔

تبصرے (0) بند ہیں