حکومتِ پنجاب اور پی سی بی کے درمیان سیکیورٹی اخراجات پر تناؤ، پی ایس ایل کی رونقیں دھندلا گئیں

پی سی بی کا کہنا ہے کہ ٹیموں کو تحفظ فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے—فائل فوٹو: اے پی
پی سی بی کا کہنا ہے کہ ٹیموں کو تحفظ فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے—فائل فوٹو: اے پی

حکومتِ پنجاب اور پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے درمیان تناؤ برقرار ہے، دونوں فریقین کے درمیان سیکیورٹی اخراجات کے حوالے سے کوئی معاہدہ طے نہ ہوسکا جس سے بظاہر ایسا لگ رہا ہے کہ پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کو لاہور اور راولپنڈی سے کراچی منتقل کردیا جائے گا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق حکومتِ پنجاب نے سیکیورٹی فنڈز کا مطالبہ 45 کروڑ روپے سے کم کر کے 25 کروڑ روپے کر دیا لیکن پی سی بی نے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ 2014 میں طے پانے والے معاہدوں کے مطابق ٹیموں کو تحفظ فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔

پی سی بی نے اس حوالے سے وزیر اعظم شہباز شریف سے بھی رجوع کیا لیکن فی الوقت لاہور پی ایس ایل کے رواں سیزن میں صرف 2 میچوں کی میزبانی کرے گا، آج اور کل ہوے والے یہ دونوں میچز لاہور قلندرز کے ہوں گے۔

حکومت پنجاب کی وزارتی کمیٹی کے فوکل پرسن منصور قادر نے بتایا کہ لائٹس نصب رہیں گی کیونکہ حکومت لاہور کے شہریوں سے پی ایس ایل کی رونقیں چھیننا نہیں چاہتی۔

تاہم انہوں نے واضح کیا کہ صوبائی کابینہ اس وقت تک پی سی بی کے ساتھ مزید بات چیت نہیں کرے گی جب تک کہ بورڈ مستقبل میں استعمال کے لیے سیکیورٹی لائٹس کی خریداری کے لیے 25 کروڑ روپے ادا کرنے کا وعدہ نہیں کرتا۔

گزشتہ روز پنجاب کابینہ کے اجلاس کے بعد اس معاملے پر اپنے مؤقف کو باضابطہ طور پر بیان کرنے کے بعد پی سی بی نے اس معاملے پر بات کرنے کے لیے اجلاس منعقد کیا، بورڈ کے ذرائع نے تصدیق کی کہ اسے حکومت کی جانب سے 25 کروڑ روپے کی رقم کم کرنے کی زبانی پیشکش موصول ہوئی تھی لیکن بورڈ نے اس پر اتفاق نہیں کیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پی سی بی کا مؤقف واضح ہے لیکن حکومت پنجاب واضح نہیں ہے، پہلے اس نے ایک بجٹ بھیجا جس میں پی سی بی کو 90 کروڑ روپے ادا کرنے کا کہا گیا، پھر آہستہ آہستہ اسے کم کیا گیا اور اب معاملہ 25 کروڑ روپے پر آ گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم اتوار اور پیر کو لاہور میں پی ایس ایل کے 2 میچ منعقد کریں گے، اگر حکومت اپنا مطالبہ واپس نہیں لے گی تو منگل سے شیڈول کے مطابق ہونے والے آئندہ میچز کراچی منتقل کردیے جائیں گے۔

منصور قادر نے تصدیق کی کہ بل 37 کروڑ روپے تک کم کردیا گیا ہے لیکن پی سی بی کی جانب سے ادائیگی ضروری ہے تاکہ حکومت پنجاب آنے والے برسوں میں ٹورنامنٹس میں استعمال کرنے کے لیے بورڈ کے ساتھ مل کر لائٹس خرید سکے، یہ لائٹس پی سی بی کا اثاثہ بن جائیں گی جو ضرورت پڑنے پر حکومت کو کرایہ پر دی جا سکتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’میں نے فوکل پرسن ہونے کے ناطے پی سی بی کے چیف ایگزیکٹو کو اس پیشکش سے آگاہ کیا جس کی ہمیں ضرورت ہے اور انہوں نے مجھے بتایا کہ وہ مجھے حتمی جواب (ہفتہ کی رات) یا اتوار کی صبح تک دے دیں گے، پی سی بی نے اب تک 10 کروڑ روپے دینے پر رضامندی ظاہر کی ہے، ہم پی سی بی کے جواب کا انتظار کر رہے ہیں‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ پی سی بی کو ابتدائی طور پر ایک ارب 20 کروڑ روپے کے اخراجات کا تخمینہ دیا گیا تھا اور صوبائی حکومت نے بل کو کم کرکے 70 کروڑ روپے کرنے کی کوشش کی تھی اور بالآخر اسے 50 کروڑ روپے تک لے آیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ اس لاگت میں مزید کمی کا مطلب پی ایس ایل ٹیموں کی سیکیورٹی پر سمجھوتہ کرنا ہوگا جس کی ذمہ داری کوئی نہیں لینا چاہتا۔

دریں اثنا پی سی بی ذرائع نے بتایا کہ حکومت پنجاب کے مؤقف کے سبب غیر ملکی کھلاڑیوں کو ممکنہ طور پر اپنی متعلقہ فرنچائزز سے نکلتے دیکھا جاسکتا ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ حکومت کو واضح پیغام دیا گیا ہے کہ اگر حکومت غیر ملکی کھلاڑیوں کو صدارتی سطح کی سیکیورٹی فراہم نہیں کرے گی تو فیڈریشن آف انٹرنیشنل کرکٹرز ایسوسی ایشن (فیکا) تمام غیر ملکی کھلاڑیوں کو واپس بلالے گی۔

ضرور پڑھیں

وزیراعظم کا انتخاب کس طرح ہوتا ہے؟

وزیراعظم کا انتخاب کس طرح ہوتا ہے؟

وزارت عظمیٰ کے لیے اگر کوئی بھی امیدوار ووٹ کی مطلوبہ تعداد حاصل کرنے میں ناکام رہا تو ایوان زیریں کی تمام کارروائی دوبارہ سے شروع کی جائے گی۔

تبصرے (0) بند ہیں