• KHI: Fajr 4:30am Sunrise 5:56am
  • LHR: Fajr 3:39am Sunrise 5:13am
  • ISB: Fajr 3:36am Sunrise 5:14am
  • KHI: Fajr 4:30am Sunrise 5:56am
  • LHR: Fajr 3:39am Sunrise 5:13am
  • ISB: Fajr 3:36am Sunrise 5:14am

پنجاب اسمبلی کے انتخابات ملتوی، 8 اکتوبر کو کرانے کا اعلان

شائع March 22, 2023 اپ ڈیٹ March 23, 2023
—فوٹو: ڈان نیوز
—فوٹو: ڈان نیوز

الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے 30 اپریل بروز اتوار کو پنجاب میں صوبائی اسمبلی کے عام انتخابات ملتوی کردیے۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پنجاب اسمبلی کے انتخابات 8 اکتوبر کو ہوں گے۔

الیکشن کمیشن نے اپنے حکم نامے میں کہا کہ آئین کےتحت حاصل اختیارات کے انتخابی شیڈول واپس لیا گیا اور نیا شیڈول بعد میں جاری کیا جائے گا۔

اس میں کہا گیا ہے کہ اس وقت فی پولنگ اسٹیشن اوسطاً صرف ایک سیکیورٹی اہلکار دستیاب ہے جب کہ پولیس اہلکاروں کی بڑے پیمانے پر کمی اور ’اسٹیٹک فورس‘ کے طور پر فوجی اہلکاروں کی عدم فراہمی کی وجہ سے الیکشن ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ اس صورتحال میں الیکشن کمیشن انتخابی مواد، پولنگ عملے، ووٹرز اور امیدواروں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے متبادل انتظامات کرنے سے قاصر ہے۔

اس میں مزید کہا گیا ہے کہ وزارت خزانہ نے ’ملک میں غیر معمولی معاشی بحران کی وجہ سے فنڈز جاری کرنے میں ناکامی‘ کا اظہار کیا۔

حکم نامے میں نشاندہی کی گئی کہ الیکشن کمیشن کی کوششوں کے باوجود ایگزیکٹو اتھارٹیز، وفاقی اور صوبائی حکومتیں پنجاب میں آزادانہ، منصفانہ اور شفاف انتخابات کے انعقاد میں انتخابی ادارے کے ساتھ تعاون کرنے کے قابل نہیں تھیں۔

اس میں مزید کہا گیا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور وفاقی وزارتوں کی بریفنگ کے بعد الیکشن کمیشن نے 20، 21 اور 22 مارچ کو پنجاب کے انتخابات کے معاملے پر تفصیلی غور کے لیے اہم اجلاس بلائے۔

اس میں کہا گیاہے کہ پیش کی گئی رپورٹس، بریفنگ اور مواد پر غور کرنے کے بعد الیکشن کمیشن اس نتیجے پر پہنچا کہ اس تمام صورتحال میں انتخابات کا شفاف، منصفانہ اور آئین و قانون کے مطابق انعقاد ممکن نہیں ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل رواں ماہ ہی الیکشن کمیشن آف پاکستان نے 30 اپریل بروز اتوار پنجاب میں صوبائی اسمبلی کے عام انتخابات پر پولنگ کے لیے شیڈول جاری کر دیا تھا۔

خیال رہے کہ 3 مارچ کو صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے پنجاب اسمبلی کے عام انتخابات 30 اپریل بروز اتوار کرانے کی تجویز دی تھی۔

ایوان صدر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ صدر مملکت نے تاریخ کا اعلان الیکشن کمیشن کی جانب سے تجویز کردہ تاریخوں پر غور کرنے کے بعد کیا۔

قبل ازیں 3 مارچ کو ہی الیکشن کمیشن نے 30 اپریل سے 7 مئی کے دوران پنجاب اسمبلی کے عام انتخابات کرانے کے لیے تاریخ تجویز کی تھی، الیکشن کمیشن نے انتخابات ترجیحاً اتوار کے روز کرانے کی تجویز بھی دی تھی۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے جاری پریس ریلیز میں بتایا گیا تھا کہ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس کے بعد الیکشن کمیشن نے صدر مملکت اور گورنر خیبرپختونخوا کو مراسلے تحریر کیے ہیں۔

الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے کی روشنی میں صدر مملکت کو مراسلہ ارسال کیا تھا جس میں صوبہ پنجاب کے انتخابات کے انعقاد کے لیے مورخہ 30 اپریل سے 7 مئی 2023 تک کی تاریخیں تجویز کی گئی ہیں۔

الیکشن کمیشن نے کہا تھا کہ صدر مملکت کی طرف سے تاریخ کے انتخاب کے بعد الیکشن کمیشن اپنے آئینی اور قانونی فرائض انجام دینے کے لیے تیار ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ الیکشن کمیشن نے گورنر خیبر پختونخوا کو بھی مراسلہ بھیجا ہے جس میں تحریر کیا گیا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے آرڈر کی روشنی میں الیکشن کمیشن آپ کے جواب کا منتظر ہے۔

واضح رہے کہ الیکشن کمیشن کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا تھا جب اس سے ایک روز قبل ہی پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلیوں کے انتخابات میں تاخیر سے متعلق از خود نوٹس کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد مسلسل دوسرے روز ہونے والے مشاورتی اجلاس میں الیکشن کمیشن نے پنجاب میں عیدالفطر کے تقریباً ایک ہفتے بعد انتخابات کرانے کی تجویز دینے کا فیصلہ کیا تھا۔

انہوں نے کہا تھا کہ پنجاب اسمبلی کے انتخابات کی تاریخ تجویز کرنے کے لیے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کو ارسال کیے گئے خط کی منظوری کے بعد پولنگ کا شیڈول جلد جاری کر دیا جائے گا۔

سپریم کورٹ کا 90 روز میں انتخابات کا حکم

سپریم کورٹ نے بدھ کے روز جاری ہونے والے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ پنجاب اور خیبر پختونخوا اسمبلیوں کے انتخابات 90 روز کی مقررہ مدت میں کرائے جائیں، تاہم عدالت عظمیٰ نے الیکشن کمیشن کو اجازت دی کہ وہ پولنگ کی ایسی تاریخ تجویز کرے جو کہ کسی بھی عملی مشکل کی صورت میں 90 روز کی آخری تاریخ سے ’کم سے کم‘ تاخیر کا شکار ہو۔

سپریم کورٹ نے اس میں یہ بھی کہا تھا کہ صدر مملکت اور گورنر خیبر پختونخوا الیکشن کمیشن پاکستان کی مشاورت سے بالترتیب پنجاب اور خیبر پختونخوا اسمبلیوں کی تاریخیں طے کریں گے۔

پنجاب اور خیبر پختونخوا کی اسمبلیاں بالترتیب 14 اور 18 جنوری کو تحلیل ہوئیں، قانون کے تحت اسمبلیاں تحلیل ہونے کے بعد 90 روز کے اندر انتخابات کرانا ہوتے ہیں۔

اس حساب سے 14 اپریل اور 17 اپریل پنجاب اور خیبر پختونخوا اسمبلیوں کے عام انتخابات کے انعقاد کی آخری تاریخ تھی لیکن دونوں گورنرز نے الیکشن کمیشن کی جانب سے پولنگ کی تاریخ مقرر کرنے کی تجویز ملنے کے بعد انتخابات کی تاریخیں طے کرنے کے بجائے الیکشن کمیشن کو اسٹیک ہولڈرز سے مشورہ کرنے کا مشورہ دیا۔

دونوں صوبوں کے چیف سیکریٹریز اور انسپکٹرز جنرل نے الیکشن کمیشن سے ملاقاتوں کے دوران کہا تھا کہ ان کے پاس پولیس فورس کی کمی ہے اور انہوں نے دہشت گردی کے خطرات کے بارے میں بات کرتے ہوئے الیکشن ملتوی کرنے کا مقدمہ بنایا۔

فنانس ڈویژن نے فنڈز فراہم کرنے سے معذوری کا اظہار کیا اور وزارت داخلہ نے الیکشن کمیشن کو بتایا کہ فوج اور سول آرمڈ فورسز دستیاب نہیں ہوں گی۔

یاد رہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے سے قبل الیکشن کمیشن نے دونوں صوبوں کے گورنرز کو خط میں لکھا تھا کہ پنجاب میں انتخابات 13 اپریل سے پہلے کرانا لازمی ہیں، انتخابات کی تاریخ کے لیے الیکشن کمیشن سے مشاورت ضروری ہے، پنجاب میں انتخابات 13 اپریل سے پہلے کرائے جانے لازمی ہیں، پنجاب میں انتخابات کے لیے 9 اپریل سے 13 اپریل کی تاریخ موزوں ہیں، گورنر پنجاب 9 اپریل سے 13 اپریل کے درمیان کی تاریخ الیکشن کے لیے اعلان کریں۔

کارٹون

کارٹون : 22 جولائی 2024
کارٹون : 21 جولائی 2024