• KHI: Maghrib 7:14pm Isha 8:40pm
  • LHR: Maghrib 6:58pm Isha 8:33pm
  • ISB: Maghrib 7:08pm Isha 8:48pm
  • KHI: Maghrib 7:14pm Isha 8:40pm
  • LHR: Maghrib 6:58pm Isha 8:33pm
  • ISB: Maghrib 7:08pm Isha 8:48pm

غیر معمولی سیلاب کے چند ماہ بعد ہی ملک میں پانی کی شدید قلت کا خدشہ

شائع March 29, 2023
پانی کی نقل و حمل کے نقصانات پر دو بڑے اسٹیک ہولڈرز، سندھ اور پنجاب، کا مؤقف ایک دوسرے سے مختلف ہے — فائل فوٹو: پی پی آئی
پانی کی نقل و حمل کے نقصانات پر دو بڑے اسٹیک ہولڈرز، سندھ اور پنجاب، کا مؤقف ایک دوسرے سے مختلف ہے — فائل فوٹو: پی پی آئی

سندھ اور جنوبی پنجاب میں غیر معمولی سیلاب کے نتیجے میں زمینوں کا بڑا حصہ زیر آب آنے کے صرف چند ماہ بعد یکم اپریل سے شروع ہونے والے خریف کے سیزن میں ملک ’بڑے پیمانے پر پانی کی قلت‘ کی جانب بڑھ رہا ہے جو کہیں 27 فیصد تو کہیں 35 فیصد ہوسکتی ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق زیادہ قلت کے پیش نظر انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) صوبوں میں پانی کی تقسیم کے لیے پانی کے متنازع تین درجاتی انتظام کے طریقہ کار کی پیروی کرنے پر مجبور ہو گی اور اہم اتحادی شراکت داروں، پنجاب میں مسلم لیگ (ن) اور سندھ میں پیپلز پارٹی کے درمیان اختلافات کا باعث بنے گی۔

باخبر ذرائع نے بتایا کہ پانی کی نقل و حمل کے نقصانات پر دو بڑے اسٹیک ہولڈرز، سندھ اور پنجاب کا مؤقف ایک دوسرے سے مختلف ہے، دستیاب پانی کی وہ مقدار جو چوری، رساو، بخارات یا مٹی یا نہروں کے ذریعے جذب ہونے اور کھیت کی زمینوں تک نہیں پہنچ سکتی، وہ بے حساب رہتی ہے۔

پنجاب کا خیال ہے کہ ربیع کے موسم میں آنے والے سیلاب کے نتیجے میں کھیتوں میں پانی کی بڑی مقدار کے حساب سے نظام یا نقل و حمل کے نقصانات تقریباً 7 سے 8 فیصد ہیں، جب کہ سندھ کا اصرار ہے کہ خاص کر اس کے علاقوں چشمہ اور کوٹری بیراج میں نظام کے نقصانات 35 سے 40 فیصد کے درمیان ہیں۔

ارسا کی ٹیکنیکل کمیٹی کا 24 مارچ کو ہونے والا اجلاس خریف 2023 کے لیے پانی کی مجموعی دستیابی کے تخمینے کو حتمی شکل نہیں دے سکا جس کی بنیادی وجہ نظام کے نقصانات کے معاملے پر وفاقی اکائیوں کے درمیان وسیع خلیج ہے۔

پانی کی دستیابی کے تخمینے آبی ذخائر میں کیری اوور اسٹوریج، متوقع بارش کے نمونوں اور اس کے نتیجے میں دریا کے بہاؤ اور نقل و حمل کے تخمینے کے نقصانات کی بنیاد پر لگائے جاتے ہیں۔

ارسا نے اب اپنی مشاورتی کمیٹی کا اجلاس جمعرات (30 مارچ) کو بلایا ہے تاکہ ارسا کی ٹیکنیکل کمیٹی اور دیگر اسٹیک ہولڈرز بالخصوص پنجاب، سندھ اور واپڈا کی جانب سے پانی کی دستیابی کے تخمینے کا جائزہ لیا جاسکے۔

چیئرمین ارسا کی زیر صدارت مشاورتی کمیٹی میں چاروں صوبائی اراکین، صوبائی محکمہ آبپاشی کے سیکریٹریز اور واپڈا، صوبوں اور میٹ آفس کے تکنیکی ماہرین شرکت کریں گے۔

باخبر ذرائع نے بتایا کہ سندھ حکومت، 1991 کے پانی کی تقسیم کے معاہدے کے پیرا 2 کے تحت پانی کی تقسیم کا مطالبہ کرے گی لیکن ارسا جاری خریف سیزن میں پانی کی قلت کو پورا کرنے کے لیے صوبوں میں پانی کی تقسیم کے لیے تین درجاتی فارمولے کو جاری رکھے گی۔

خریف کی فصل کا موسم اپریل تا جون سے شروع ہوتا ہے اور ملک کے مختلف حصوں میں اکتوبر تا دسمبر تک جاری رہتا ہے، چاول، گنا، کپاس، مکئی اور ماش اس موسم کی اہم فصلیں ہیں۔

1991 کے پانی کے معاہدے کے تحت پانی کی تقسیم اس معاہدے کے پیرا 2 کے تحت کی گئی تھی جس میں صوبائی حصوں کا تعین کیا گیا تھا۔

تاہم پانی کی قلت کی وجہ سے یہ پیرا فی الحال ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے لاگو نہیں ہوا کیونکہ ارسا نے 2002 میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی شمولیت سے قلت کی روشنی میں صوبوں کے درمیان پانی کی تقسیم کا علیحدہ طریقہ کار وضع کیا تھا۔

کارٹون

کارٹون : 24 مئی 2024
کارٹون : 23 مئی 2024