سپریم کورٹ کی وفاقی حکومت کو انتخابات کیلئے فنڈز کے اجرا میں تاخیر پر نتائج کی تنبیہ

اپ ڈیٹ 13 اپريل 2023
سپریم کورٹ نے 14 اپریل کو 11 بجے چیمبر میں سماعت مقرر کی ہے—فائل/فوٹو: ڈان
سپریم کورٹ نے 14 اپریل کو 11 بجے چیمبر میں سماعت مقرر کی ہے—فائل/فوٹو: ڈان

سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات کے لیے 21 ارب روپے فراہمی سے متعلق عدالت کے 4 اپریل کے حکم پر عمل نہ کرنے کو بادی النظر میں حکم عدولی قرار دیتے ہوئے وفاقی حکومت کو خبردار کر دیا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ کے رجسٹرار کی جانب سے جاری حکم میں کہا گیا ہے کہ بادی النظر میں سپریم کورٹ کے حکم کی اس طرح عدولی کے نتائج ہو سکتے ہیں جو طے اور متعین ہیں۔

رجسٹرار سپریم کورٹ کے حکم نامے میں گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی)، اٹارنی جنرل (اے جی پی) منصور عثمان اعوان، سیکریٹری خزانہ اور الیکشن کمیشن کے نمائندے کو جمعہ (14 اپریل) کو 11 بجے چیمبر میں پیش ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔

سپریم کورٹ کی جانب سے مذکورہ حکم 4 اپریل کو فیصلہ سنانے والے ججوں کے سامنے چیمبر میں معاملہ بھیجے جانے کے بعد آیا ہے، اس سے قبل منگل کو الیکشن کمیشن نے 4 اپریل کے فیصلے کے حوالے سے دستاویزات اور رپورٹ جمع کرادی تھیں۔

عدالت کے حکم میں کہا گیا ہے کہ جن افراد نے نافرمانی اور عدالت کے حکم سے انکار کے لیے بات شروع کی، حوصلہ افزائی کی یا اکسایا ان کو ذمہ دار اور قابل احتساب گردانا جاسکتا ہے۔

حکم نامے میں کہا گیا کہ موجودہ مبینہ حکم عدولی کے نتیجے میں آئین کی منشا کے مطابق بروقت انتخابات میں تاخیر ہوسکتی ہے، اس طرح کے اہم آئینی مقصد کے لیے فنڈز کے اجرا کے سوال پر فوری توجہ کی ضرورت ہے اور جو لوگ توہین عدالت کے مرتکب ہوسکتے ہیں، ان کے خلاف ترجیحی بنیاد پر سماعت ہوتی ہے۔

عدالت عظمیٰ نے کہا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے گورنر اور اس کے بعد مرکزی بینک کے سینئر ترین عہدیدار جمعہ کو سپریم کورٹ میں چیمبر میں ذاتی حیثیت میں پیش ہوں۔

سپریم کورٹ کے رجسٹرار کی جانب سے جاری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ افسران اپنے ساتھ ریکارڈ اور وفاقی حکومت کے پاس موجود یا زیرانتظام خزانے کی تفصیلات بھی ہمراہ لائیں چاہے وہ کسی بھی قانون، قاعدے یا معاہدے کے تحت بینک کا کنٹرول یا انتظام وفاقی حکومت کو حاصل ہو۔

عدالت نے کہا کہ اس طرح کی دستاویزات میں خاص طور پر وفاقی حکومت کے قواعد 3 اور 4 کے ساتھ رولز 2021 کے تحت وصولیوں اور ادائیگیوں کی شرائط بھی شامل ہونی چاہئیں جو پبلک فنانس ایکٹ 2019 اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان ایکٹ 1956 کے سیکشن 21 کے تحت وضع کیے گئے ہیں۔

حکم نامے میں اٹارنی جنرل فار پاکستان کو اسی وقت عدالت میں پیش ہونے کے لیے نوٹسز جاری کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ سیکریٹری خزانہ اور اسی وزارت کے سیکریٹری کے بعد سینئر عہدیدار متعلقہ ریکارڈ اور تفیصلی رپورٹ کے ساتھ عدالت میں پیش ہوں، جس میں بتایا جائے کہ عدالت کے حکم پر عمل کیوں نہیں ہوا جس کے بارے میں الیکشن کمیشن نے آگاہ کیا ہے۔

عدالتی حکم نامے میں سیکریٹری الیکشن کمیشن اور ڈائریکٹر (لا) کو بھی پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلیوں کے انتخابات کے مکمل ریکارڈ کے ساتھ ذاتی حیثیت میں اسی تاریخ کو عدالت کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔

سپریم کورٹ نے انہیں حکم دیا ہے کہ ’آپ کو اوپر دیے گئے عدالتی احکامات پر من و عن عمل درآمد کرنا ہے‘۔

خیال رہے چیف جسٹس عمر عطابندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے 14 مئی کو پنجاب اسمبلی کے انتخابات کی تاریخ دیتے ہوئے الیکشن کمیشن کو حکم دیا تھا کہ 11 اپریل کو رپورٹ جمع کرائیں، جس میں بتایا جائے کہ آیا وفاقی حکومت کی جانب سے 21 ارب روپے فراہم کیے گئے جو کمیشن کو موصول ہوں، اگر موصول ہوئے ہیں تو وہ پورے ہوئے یا نامکمل ہیں۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں