دشمن عوام اور فوج کے درمیان دراڑ ڈالنے کی کوششوں میں سرگرم ہے، آرمی چیف

اپ ڈیٹ 29 اپريل 2023
آرمی چیف نے کہا کہ فوج ہرقسم کی قربانی کے لیے تیار ہے—فوٹو: اے پی پی
آرمی چیف نے کہا کہ فوج ہرقسم کی قربانی کے لیے تیار ہے—فوٹو: اے پی پی
چیف آف آرمی اسٹاف جنرل عاصم منیر نے کاکول اکیڈمی میں خطاب کیا—فوٹو: ڈان نیوز
چیف آف آرمی اسٹاف جنرل عاصم منیر نے کاکول اکیڈمی میں خطاب کیا—فوٹو: ڈان نیوز

چیف آف آرمی اسٹاف جنرل عاصم منیر نے کہا ہے کہ فوج کے لیے اپنے عوام کے تحفظ اور سلامتی سے بڑھ کر کوئی چیز مقدس نہیں ہے جبکہ دشمن اپنے مذموم مقاصد کے لیے عوام اور فوج کے درمیان دراڑ ڈالنے کی کوششوں میں سرگرم ہے۔

پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں 147 ویں پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل عاصم منیر نے کمیشن حاصل کرنے والے کیڈٹس کو مبارک باد دی اور ان سے کہا کہ ملک اور قوم کو آپ سے جو توقعات ہیں اس پر توجہ مرکوز رکھیں۔

انہوں نے کہا کہ ہماری اولین اور اہم ترین ذمہ داری ریاست پاکستان کے ساتھ وفاداری، پاک فوج کو دیے گئے آئینی کردار پر پُرعزم رہنا ہے، جس کے ساتھ اعلیٰ معیار کی تربیت برقرار رکھنا، ٹیکنالوجی کی مدد جدید حربے، ڈسپلن اور اخلاقی اقدار جو ہمارے فوجی کلچر کا حصہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ کمیشن آپ سے ذاتی اور پیشہ ورانہ حیثیت میں اعلیٰ معیار کے رویے کا تقاضا کرتا ہے اور ان لوگوں کی پیروی کرنا ہے جنہوں نے آپ سے پہلے مادر وطن کا دفاع کیا ہے۔

آرمی چیف نے کہا کہ ہمارے جوانوں اور افسروں نے محاذ پر جو قربانیاں دی ہیں اس کی مثال دنیا بھر کی فوج میں نہیں ملتی۔

کیڈٹس کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمارے لیے اپنے عوام کی حفاظت اور سلامتی سے بڑھ کر کوئی چیز مقدس نہیں ہے اور اپنے مادر وطن کے دفاع سے زیادہ اہم کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ فوج اپنے عظیم قائد کے نظریے پر عمل پیرا ہے، جس میں ذات، رنگ، نسل، جنس یا علاقائی کی بنیاد پر کوئی تفریق نہیں ہے، ہمارا نظریہ اسلام کے اصولوں یقین، اتحاد، نظم کی بنیاد پر قائم ہے۔

’خطے میں امن کی کوششوں کا خیرمقدم‘

جنرل عاصم منیر نے کہا کہ ہم امن پسند ملک ہیں اور اقوام متحدہ کے امن مشن کے لیے سب سے زیادہ فوجی فراہم کرنے والے ممالک میں سے ایک ہیں جو اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ریاست کی پالیسی کے حصے کے طور پر پاکستان بلاک کی سیاست اور عالمی طاقت کی مسابقت کا مخالف ہے، ہم تمام ممالک اور بالخصوص اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ تعاون اور ہم آہنگی پر یقین رکھتےہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم حالیہ امن کوششوں کا خیرمقدم کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ اس کے خطے اور خطے سے باہر امن اور سکون کے مثبت اثرات پڑیں گے۔

’دفاع کیلئے کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے‘

انہوں نے کہا کہ اسلام کے سنہری اصولوں کے تحت ہم اپنی پالیسی پر قائم ہیں کہ ہم سب کے ساتھ امن چاہتے ہیں تاہم میں واضح کروں کہ امن کے لیے ہماری کوششوں کو کمزوری کے طور پر نہ لیا جائے۔

آرمی چیف نے کہا کہ فوج اور پوری قوم کسی قسم کی جارحیت کے خلاف یکجا ہے، ہمیں اپنی خود مختاری اور جغرافیائی سالمیت کے تحفظ کی صلاحیت رکھتے ہیں اور ہم اس حوالے سے تمام طریقوں سے آگاہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاک فوج کی جانب سے پاکستان کے عوام یقین دلاتا ہوں کہ ہم ہمہ وقت تیار ہیں اور اپنے مقدس وطن کے دفاع کے لیے درکار کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم تعداد، ہتھیار یا آلات میں برتری سے معیوب یا خوف زدہ نہیں ہوں گے۔

’معاشرتی ہم آہنگی، فوج اور عوام کا رشتہ مضبوط رہے گا‘

آرمی چیف نے کہا کہ ہمارے دشمنوں کی جانب سے ریاست اور عوام میں ہم آہنگی متاثر کرنے کی مختلف کوششیں کی جارہی ہیں، پیشہ ورانہ سپاہی کی حیثیت سے ہم دشمن سے لڑنے کے لیے تربیت یافتہ ہیں لیکن مجھے تشویش انفارمیشن وارفیئر سے ہے تاہم خود آگاہی کے ذریعے تصورات اور حقیقت کا ادراک ممکن ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے منظم دہشت گردی کو شکست دی ہے لیکن اس کا مکمل خاتمہ کرنا ہے، نقصان پہنچانے والوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم اندرونی اور بیرونی خطرات سے آگاہ ہیں اور معاشرے میں عدم استحکام اور دہشت گردی کی اجازت نہیں دیں گے، پاک فوج اس کے لیے تیار ہے۔

انہوں نے کہا کہ عوام ریاست کے اتحاد کا مرکز ہوتے ہیں، جہاں تک ہمارے مستقبل اور ترقی کی بات ہے تو اس کا انحصار اندرونی ہم آہنگی، جمہوریت اور آئین پر ہے۔

آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے کہا کہ دشمن اپنے مذموم مقاصد کے لیے عوام اور فوج کے درمیان دراڑ ڈالنے کی کوششوں میں سرگرم ہے، ہم آئین پاکستان کی جانب سے دی گئی ذمہ داریوں اور فرائض سے اس رشتے کو برقرار اور مزید مضبوط کرنے کو یقینی بنائیں گے۔

’افغانستان کا امن ہماری سلامتی کے لیے اہم ہے‘

انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امن اور استحکام ہماری سلامتی کی بنیاد ہے، افغانستان میں امن عمل کی پاکستان کی کوششیں خطے میں امن اور معاشی طور پر استحکام کی ہماری خواہشات کا مظہر ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دنیا میں پاکستان سے بڑھ کوئی افغان بھائیوں کا میزبان نہیں ہے، گزشتہ 4 دہائیوں سے تقریباً 50 لاکھ افغان مہاجرین کی میزبانی کی ہے۔

’کشمیریوں سے تعاون جاری رکھیں گے‘

چیف آف آرمی اسٹاف نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج نہتے کشمیریوں پر مظالم ڈھا رہی ہیں ، کشمیر کئی دہائیوں سے آزادی کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں، ہم اپنے کشمیری بھائیوں کی سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھیں گے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کشمیر کے بھائیوں کی تاریخی جدوجہد، عوام کے بنیادی انسانی حقوق اور حقِ خودارادیت کے قانونی حق کے لیے کشمیریوں کی منشا اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق ان کے ساتھ ہمیشہ کھڑا رہے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ عالمی برادری کو جان لینا چاہیے کہ مسئلہ کشمیر کے منصفانہ اور پرامن حل کے بغیر خطے کا امن ہمیشہ مبہم رہے گا اور پاکستان اپنے کشمیری بھائیوں سے سیاسی، اخلاقی اور سفارتی تعاون جاری رکھیں گے۔

ضرور پڑھیں

وزیراعظم کا انتخاب کس طرح ہوتا ہے؟

وزیراعظم کا انتخاب کس طرح ہوتا ہے؟

وزارت عظمیٰ کے لیے اگر کوئی بھی امیدوار ووٹ کی مطلوبہ تعداد حاصل کرنے میں ناکام رہا تو ایوان زیریں کی تمام کارروائی دوبارہ سے شروع کی جائے گی۔

تبصرے (0) بند ہیں