پشاور میں امن و امان کی صورتحال خراب کیے جانے کی ’مصدقہ اطلاعات‘ کے بعد دفعہ 144 نافذ

اپ ڈیٹ 01 مئ 2023
حالیہ مہینوں میں پاکستان دہشت گردی کی سر اٹھاتی لہر سے شدید متاثر ہوا ہے — فائل/فوٹو: ڈان
حالیہ مہینوں میں پاکستان دہشت گردی کی سر اٹھاتی لہر سے شدید متاثر ہوا ہے — فائل/فوٹو: ڈان

پشاور کے ڈپٹی کمشنر نے امن و امان کی صورتحال کو ’خراب‘ کرنے کی کوششوں کی ’قابل اعتبار‘ رپورٹس کے بعد کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو روکنے کے لیے شہر میں 3 مئی بروز بدھ تک تین دن کے لیے دفعہ 144 نافذ کردی۔

ضابطہ فوجداری (سی آر پی سی) کی دفعہ 144 ضلعی انتظامیہ کو عوامی مفاد کے تحفظ کے لیے ایسے احکامات جاری کرنے کا اختیار دیتی ہے جو مخصوص مدت کے لیے کسی سماجی سرگرمی پر پابندی لگا سکتی ہے۔

30 اپریل کو جاری نوٹی فکیشن میں ڈپٹی کمشنر پشاور شاہ فہد نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے قابل اعتماد معلومات فراہم کی ہیں کہ غیر ریاستی عناصر اور شرپسند امن و امان کی صورتحال کو خراب کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امن و امان کو خراب ہونے سے روکنے کے لیے ضروری ہے کہ وسیع تر عوامی مفاد میں غیر معمولی اقدامات کیے جائیں۔

ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ شرپسندوں کی جانب سے غیر قانونی عوامی اجتماعات کو عسکریت پسندانہ سرگرمیوں کے ذریعے نشانہ بنانے کی کوشش ہے۔

انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے ضلع پشاور میں دفعہ 144 نافذ کی جا رہی ہے، اس کے تحت 5 یا زیادہ افراد کے ایک جگہ جمع ہونے پر پابندی ہوگی، خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف دفعہ 188 کے تحت کارروائی کی جائے گی۔

دفعہ 144 پولیس کے ذریعے نافذ کی جاتی ہے جو پابندی کی خلاف ورزی پر پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 188 کے تحت مقدمات درج کرتی ہے، دفعہ 188 کے تحت زیادہ سے زیادہ 6 ماہ قید یا جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جاسکتی ہیں۔

یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پی ٹی آئی نے آج یوم مزدور کے موقع پر شہر میں ریلی نکالنے کا اعلان کیا ہے جس کی قیادت سابق وفاقی وزیر پرویز خٹک کریں گے۔

بڑھتی دہشت گردی

حالیہ مہینوں میں پاکستان دہشت گردی کی سر اٹھاتی لہر سے شدید متاثر ہوا ہے، اس دوران دہشت گردی کے زیادہ تر واقعات خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں ہوئے جبکہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے نومبر میں حکومت کے ساتھ جنگ بندی ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق جنوری 2023، 2018 کے بعد سے مہلک ترین مہینہ رہا جس میں ملک بھر میں کم از کم 44 عسکریت پسندانہ حملوں میں 134 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے اور 254 افراد زخمی بھی ہوئے۔

ابھی حال ہی میں عسکریت پسندوں نے ضلع لکی مروت میں رات بھر میں تین حملے کیے اور سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا، اس دوران فائرنگ کے تبادلے میں تین فوجی شہید اور سات عسکریت پسند مارے گئے۔

یہ کارروائیاں حالیہ مہینوں میں ہونے والے حملوں، جن میں فروری میں پشاور کی مسجد میں ہونے والا بم حملہ بھی شامل ہے جس میں 100 افراد جاں بحق ہوئے تھے، کے بعد عسکریت پسندوں کے خلاف نئے آپریشن کے اعلان کے چند دن بعد ہوئی ہیں۔

ضرور پڑھیں

وزیراعظم کا انتخاب کس طرح ہوتا ہے؟

وزیراعظم کا انتخاب کس طرح ہوتا ہے؟

وزارت عظمیٰ کے لیے اگر کوئی بھی امیدوار ووٹ کی مطلوبہ تعداد حاصل کرنے میں ناکام رہا تو ایوان زیریں کی تمام کارروائی دوبارہ سے شروع کی جائے گی۔

تبصرے (0) بند ہیں