اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وفاقی وزیر و رہنما پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) فواد چوہدری کو فوری رہا کرنے کا حکم دے دیا لیکن وہ دوبارہ گرفتاری کی کوشش پر بھاگ کر پھر کمرہ عدالت پہنچ گئے تاہم رات گئے وہ گھر واپس روانہ ہوگئے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ میرا تعلق جہلم سے ہے اور ہمارا ضلع شہیدوں اور غازیوں کا مسکن ہے، ہمارا ایسا کوئی قبرستان نہیں جہاں شہید دفن نہ ہو۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے خاندانوں اور لہو یہ رشتہ، ہر رشتے سے مقدم ہے۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ 9 مئی کو جو واقعات پیش آئے، جس طرح کور کمانڈر لاہور کے گھر پر جو واقعہ پیش آیا، جی ایچ کیو میں جو معاملہ پیش آیا، ہر وہ شخص جس کا تعلق پاکستان اور پاکستان کی فوج سے ہے وہ اس پر رنجیدہ ہے اور اس کا دل خون کے آنسو رو رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ میں پی ٹی آئی کے ترجمان کی حیثیت سے سمجھتا ہوں کہ یہ واقعات انتہائی قابل شرم تھے اور یہ کبھی بھی نہیں ہونے چاہئیں۔

پی ٹی آئی کے رہنما نے مطالبہ کیا کہ اس پر تحقیقات ہوں اور جو بھی لوگ ملوث ہیں، چاہے پی ٹی آئی کے لوگ ہوں یا پی ٹی آئی سے تعلق نہ ہوں، اس انکوائری کے نتیجے میں انہیں قرار واقعی سزا ملنی چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ جہاں تک معاملات کا تعلق ہے تو اس کی اہم وجہ یہ ہے کہ ہمارا پاکستان سے تعلق ہے اور جس کا پاکستان سے تعلق ہے وہ سمجھتا ہے کہ پاکستان کی فوج سے اس کا تعلق ہے کیونکہ فوج ہے تو پاکستان ہے اور پاکستان ہے تو ہم سب ہیں۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ اسی نکتہ نظر سے ہمیں اپنی پالیسیاں بنانی چاہیے اور اس کے مطابق ہی آگے بڑھنا ہے۔

عمران خان کی جانب سے مذمت نہ کرنے سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ میرا خیال ہے انہوں نے بھی کیا ہے اور ہم بھی کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے گرفتار کرنا ہے تو ہم یہی پر ہیں تاہم اس کے بعد وہ واپس گھر کی طرف روانہ ہوگئے۔

فواد چوہدری اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیش

اس سے قبل صبح فواد چوہدری کو بکتر بند گاڑی میں اسلام آباد ہائی کورٹ پیش کیا گیا جہاں جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے مذکورہ درخواست پر سماعت کی۔

فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فواد چوہدری کی گرفتاری کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔

بعد ازاں عدالت نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے نقص امن کے تحت فواد چوہدری کی گرفتاری کالعدم قرار دے دی اور ان کو رہا کرنے کا حکم دے دیا۔

تحریک انصاف کے رہنما کی رہائی کا حکم جاری کیے جانے کے چند لمحے بعد ہی دارالحکومت کی پولیس نے انہیں پھر گرفتار کرنے کی کوشش کی۔

ڈان نیوز کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے رہائی کا حکم صادر کیے جانے کے بعد فواد چوہدری اپنے گھر جانے ہی والے تھے کہ ایلیٹ فورس نے ان کی گاڑی کا راستہ روکا جس کے بعد تحریک انصاف کے رہنما نے فوراً اپنی گاڑی کا دروازہ کھولا اور دوڑتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطے میں داخل ہو گئے۔

فواد چوہدری وہاں سے بھاگتے ہوئے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کی عدالت میں پہنچے، جہاں اُن کی حفاظتی ضمانت کی منظوری کے حوالے سے عدالتی حکم کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

کمرہ عدالت میں فواد چوہدری روسٹرم پر آگئے اور بتایا کہ باہر پولیس نے ایک مرتبہ پھر گرفتاری کی کوشش کی۔

اس پر جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ آپ خود پریکٹیشنر ہیں، آپ تحریری حکم نامے کا انتظار تو کرتے۔

فواد چوہدری نے کہا کہ ہم اس حوالے سے توہین عدالت کی درخواست دائر کرنے جارہے ہیں، جس پر عدالت نے کہا کہ آپ توہین عدالت کی درخواست دائر کریں اور تحریری حکم نامے کی کاپی لے لیں۔

پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری کو رہا کردیا گیا تھا — فوٹو: ڈان نیوز
پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری کو رہا کردیا گیا تھا — فوٹو: ڈان نیوز

فواد چوہدری کی اہلیہ نے بھی سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام میں کہا کہ فواد چوہدری کو دوبارہ گرفتار کرنے کی کوشش کی گئی۔

خیال رہے کہ 9 مئی کو پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کی القادر ٹرسٹ کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ سے گرفتاری کے بعد تحریک انصاف کی طرف سے ملک بھر میں پرتشدد مظاہرے کیے گئے تھے جس میں ملک کی دفاعی تنصیبات کو نذرآتش کیا گیا تھا جس کے بعد پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فواد چوہدری سمیت پی ٹی آئی کے کئی رہنماؤں کو گرفتار کرلیا تھا۔

شیریں مزاری کو فوری رہا کرنے کا حکم

دوسری جانب اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیر انسانی حقوق و رہنما تحریک انصاف شیریں مزاری کو بھی فوری رہا کرنے کا حکم دے دیا۔

شیریں مزاری کی گرفتاری کے خلاف درخواست پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے سماعت کی۔

درخواست گزار کی جانب سے زینب جنجوعہ ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئیں اور کہا کہ شیریں مزاری پر کارکنوں کو اکسانے اور اشتعال دلانے کا الزام ہے جبکہ وہ 9 مئی کے بعد سے گھر پر تھیں، کوئی پبلک بیان بھی نہیں دیا، سی سی ٹی وی فوٹیج اور سی ڈی آر ریکارڈ سے بھی گھر پر موجودگی کو چیک کیا جاسکتا ہے۔

عدالت نے استفسار کیا کہ یہ بتائیے کہ ان کی عمر کیا ہے؟ زینب جنجوعہ ایڈووکیٹ نے جواب دیا ان کی عمر 72 سال ہے، میڈیکل ایشوز بھی ہیں۔

بعد ازاں عدالت نے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کا آرڈر کالعدم قرار دیتے ہوئے شیریں مزاری کو فوری رہا کرنے کا حکم دے دیا، علاوہ ازیں عدالت نے سینیٹر فلک ناز کو بھی فوری رہا کرنے کا حکم دے دیا۔

بعد ازاں شیریں مزاری کی بیٹی ایمان زینب مزاری نے ٹوئٹر پر بیان میں کہا کہ ان کی والدہ اور سینیٹر فلک ناز کو اڈیالہ جیل سے رہائی کے فوری بعد دوبارہ گرفتار کرلیا گیا ہے۔

ایمان زینب مزاری نے کہا ہے کہ ان کی والدہ کو اڈیالہ جیل سے رہائی کے بعد دوبارہ گرفتار کرکے ڈپلومیٹک انکلیو منتقل کردیا گیا ہے۔

اسد قیصر کی حفاظتی ضمانت کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ

اسلام آباد ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر کی حفاظتی ضمانت کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب اور جسٹس ارباب محمد طاہر نے اسد قیصر پر صوابی میں دہشت گردی کی دفعات کے تحت دو مقدمات میں حفاظتی ضمانت کی درخواست پر سماعت کی، جہاں اسد قیصر اپنی وکیل آمنہ علی کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے۔

اسد قیصر کے وکیل نے استدعا کی کہ دو ہفتوں کی ضمانت دی جائے تاکہ متعلقہ عدالت میں پیش ہو سکیں جس پر عدالت نے کہا کہ کیوں آپ نے پیدل چل کر صوابی جانا ہے۔

بعد ازاں عدالت نے سابق اسپیکر قومی اسمبلی کی حفاظتی ضمانت کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

تبصرے (0) بند ہیں