تاجر برادری کا شہباز شریف، آصف زرداری اور عمران خان سے اختلافات ختم کرنے کا مطالبہ

17 مئ 2023
تاجر برادری نے پاک فوج کے ساتھ اظہار یکجہتی اور 9 مئی کے واقعات کی مذمت کی—فائل فوٹو: اے پی پی/پی ایم او/اے ایف پی
تاجر برادری نے پاک فوج کے ساتھ اظہار یکجہتی اور 9 مئی کے واقعات کی مذمت کی—فائل فوٹو: اے پی پی/پی ایم او/اے ایف پی

تاجر برادری نے پاک فوج کے ساتھ اظہار یکجہتی اور 9 مئی کے واقعات سمیت فوجی اہلکاروں اور ریاستی تنصیبات پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف، سابق صدر آصف زرداری اور سابق وزیراعظم عمران خان سے اختلافات ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق لاہور، کراچی، ملتان، فیصل آباد اور دیگر صنعتی مراکز سے تعلق رکھنے والے ممتاز تاجر گزشتہ روز لاہور میں ایک اجلاس کے لیے جمع ہوئے جس میں ان المناک واقعات کے بعد کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اجلاس کے دوران انہوں نے موجودہ سیاسی عدم استحکام سے نمٹنے کے لیے اسٹیک ہولڈرز کے درمیان قومی اتفاق رائے کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے تسلیم کیا کہ عوامی اعتماد کی بحالی، معاشی سرگرمیوں کو بحال کرنا اور جمہوری عمل کو مضبوط بنانا ناگزیر ترجیحات ہیں، انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس انتہائی ضروری اتفاق رائے کو حاصل کرنے کے لیے کی جانے والی تمام کوششوں کی حمایت کرتے ہیں۔

تاجر برادری نے ان واقعات کو قومی یکجہتی کے لیے انتہائی نقصان دہ قرار دیتے ہوئے مذمت کی، انہوں نے اس حوالے سے سیاسی رہنماؤں کے ساتھ بات چیت کرنے کا ارادہ بھی ظاہر کیا اور وزیر اعظم شہباز شریف، سابق صدر آصف زرداری اور پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان پر زور دیا کہ وہ وسیع تر قومی مفاد میں اپنے اختلافات کو بالائے طاق رکھیں۔

انہوں نے اس یقین کا اظہار بھی کیا کہ عوام کی بھرپور حمایت سے پاک فوج ملک کے خلاف کسی بھی ناپاک عزائم کو ناکام بنا دے گی۔

موجودہ سیاسی بحران اور معیشت پر اس کے اثرات کو تسلیم کرتے ہوئے، انہوں نے اس غیر مستحکم صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جس نے معیشت کو تباہی کے دہانے پر دھکیل دیا۔

ان کے مطابق اس سب کے نتیجے میں وسیع پیمانے پر بے روزگاری اور عام آدمی کے لیے مشکلات پیدا ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستان کی برآمدات میں بھی رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے۔

میاں عامر نے ملک میں انتشار اور مستقل نقصان کے خطرے کو اجاگر کیا، جبکہ میاں ادریس نے تسلی بخش حل تلاش کرنے کے لیے سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مزاکرات کی سہولت فراہم کرنے کی پیشکش کی۔

میاں احسن نے ملک کو درپیش چیلنجز پر قابو پانے کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز بالخصوص سیاسی جماعتوں کو لچک پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

الماس حیدر نے تاجر بتادری کی اس خواہش کا اعادہ کیا کہ اداروں کو مضبوط ہونا چاہیے، خرم مختار نے اتحاد اور تعاون کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے پاکستان کی صلاحیت پر اعتماد کا اظہار کیا۔

ضرور پڑھیں

وزیراعظم کا انتخاب کس طرح ہوتا ہے؟

وزیراعظم کا انتخاب کس طرح ہوتا ہے؟

وزارت عظمیٰ کے لیے اگر کوئی بھی امیدوار ووٹ کی مطلوبہ تعداد حاصل کرنے میں ناکام رہا تو ایوان زیریں کی تمام کارروائی دوبارہ سے شروع کی جائے گی۔

تبصرے (0) بند ہیں