میئر کراچی انتخاب میں 43 پی ٹی آئی یوسی چیئرمینز کی اکثریت جماعت اسلامی کو ووٹ نہیں دے گی، سعید غنی

اپ ڈیٹ 22 مئ 2023
سعید غنی نے کہا کہ عمران خان اور حافظ نعیم کا ایک ہی مسئلہ ہے، دونوں مایوسی کا شکار ہیں—فوٹو:اے پی پی
سعید غنی نے کہا کہ عمران خان اور حافظ نعیم کا ایک ہی مسئلہ ہے، دونوں مایوسی کا شکار ہیں—فوٹو:اے پی پی

وزیر محنت اور انسانی وسائل سندھ سعید غنی نے دعویٰ کیا ہے کہ 43 یونین کمیٹی (یو سی) کے چیئرمینوں کی اکثریت میئر کراچی کی نشست کے لیے جماعت اسلامی کے امیدوار کو ووٹ نہیں دے گی۔

میئر کراچی کے انتخابات کے حوالے سے سیاسی صورتحال نے ہفتے کے آخر میں اس وقت دلچسپ موڑ اختیار کیا جب اپوزیشن پی ٹی آئی نے سٹی میئر کے عہدے کے لیے جماعت اسلامی کے امیدوار کی غیر مشروط حمایت کا اعلان کردیا۔

پی ٹی آئی کے اس فیصلے کے بعد 2 جماعتی اتحاد کو اتنی عددی اکثریت ملتی ہے کہ وہ مقامی حکومت کے سیٹ اپ کے مرکزی عہدے کے لیے اپنا مشترکہ امیدوار کامیاب کراسکیں۔

پی ٹی آئی کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ پی ٹی آئی میئر کے انتخاب میں جماعت اسلامی کے امیدوار کو سپورٹ کرے گی۔

پیپلز پارٹی سندھ کے جنرل سیکریٹری سینیٹر وقار مہدی، ڈپٹی انفارمیشن سیکریٹری و کنونئر پی پی پی ایسٹ آصف خان کے ہمراہ آج کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سعید غنی نے سابق وزیراعظم عمران خان اور جماعت اسلامی کراچی کے امیر کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی اور حافظ نعیم کا ایک ہی مسئلہ ہے، دونوں مایوسی کا شکار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کے 86 ارکان ہیں پہلے وہ اپنے ارکان تو پورے کر لیں کہ وہ تمام حافظ نعیم کو ووٹ بھی دیں گے یا نہیں، جماعت کے دوست بتاتے ہیں جماعت اسلامی میں حافظ نعیم کے رویے پر لوگوں کو اعتراض ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کے زیادہ تر کامیاب چیئرمینز نے اپنی پارٹی کے اجلاس میں واضح کیا ہے کہ جماعت اسلامی کو سپورٹ نہیں کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ میئر کراچی کے امیدوار پر پارٹی میں مشاورت جاری ہے، وزیر اعلیٰ سندھ نے گزشتہ روز جو بات کی تھی وہ انہوں نے مذاق کے زمرے میں کی تھی اورپارٹی میں کوئی گروپنگ نہیں، پوری تنظیم ایک پیج پر ہے۔

سعید غنی نے کہا کہ میں نے آج اخبار میں پڑھا ہے کہ حافظ نعیم نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کی حمایت کے بعد ان کی اکثریت ہوگئی ہے اور بقول ان کے191 ارکان ان کے ساتھ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کے ایم سی کے ایوان کی کل تعداد367 ہے، اس میں اگر ان کے 191 ممبران ان کے ساتھ ہیں تو بقیہ 176 بچتے ہیں، مجھے نہیں معلوم کہ یہ ہندسہ وہ کہاں سے لے آئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی اور ہمارے حمایتی ٹوٹل نمبر 173 ہیں، سعید غنی نے کہا کہ ہمارے حساب سے تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کے ارکان ملا کر 193 بنتے ہیں اور ہمارے 173 بنتے ہیں اورہمارے صرف 9 ارکان کم بنتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جب سے انتخابات ہوئے ہیں، ہم نے کبھی تحریک انصاف سے سپورٹ کی بات ہی نہیں کی، کل حافظ صاحب فرما رہے تھے کہ سندھ حکومت تحریک انصاف کے ارکان کو پکڑ کر ووٹ دینے سے روک رہے ہیں۔

سعید غنی نے کہا کہ 18 جنوری سے کہہ رہا ہوں کہ ہمیں خود اعتماد ہے کہ مئیر پیپلز پارٹی کا آئے گا ہمارے پاس اکثریت ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے منتخب چیئرمینز نے ان کی پارٹی کی ہونے والی مٹینگز میں واضح کیا ہے کہ وہ جماعت اسلامی کو سپورٹ نہیں کیا جائے گا۔

صوبائی وزیر نے کہا کہ اگر تحریک انصاف نے جماعت اسلامی کی حمایت کا اعلان کر بھی دیا ہے تو بھی ان کے 43 ارکان میں زیادہ تر جماعت اسلامی کو ووٹ نہیں دینا چاہتے اوراکثریت کی رائے یہ ہے کہ ایک طرف ہوکر بیٹھ جائیں۔

انہوں نے کہا کہ حافظ نعیم الرحمن المعروف مئیر صاحب نے یہ بھی الزام عائد کیا ہے کہ سندھ حکومت نے حلقہ بندیاں اپنی مرضی سے کی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ 2013 سے قبل بلدیاتی الیکشن کی حلقہ بندیاں ہمیشہ صوبے کی حکومت کرتی تھی، تاہم 2013 کے قانون کو عدالت میں چیلنج کیا گیا اور معزز عدلیہ نے یہ اختیار الیکشن کمیشن کو دے دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 2013 میں پیپلز پارٹی نے تاریخ میں پہلی مرتبہ حلقہ بندی کی اور 2015 کے بلدیاتی انتخابات الیکشن کمیشن کی بنائی گئی حلقہ بندیوں پر ہوئے اور اس بار بھی حلقہ بندیاں الیکشن کمیشن نے کی تھی البتہ صوبے میں کونسلز کتنی ہوں گی اس کا فیصلہ سندھ حکومت نے قانون کے مطابق کیا ہے۔

صوبائی وزیر نے کہاکہ میں حافظ صاحب کو مشورہ دیتا ہوں کہ وہ بلاوجہ غلط بیانی سے گریز کریں۔

انہوں نے کہا کہ اگر میئر کے انتخاب میں جماعت اسلامی کو اکثریت ملتی ہے تو وہ ضرور میئر بنے اور اگر نہیں ملتی تو وہ دوسرے کو تسلیم بھی کریں۔

پی پی پی رہنما نے کہا کہ مسئلہ یہ ہے کہ عمران خان اور حافظ نعیم دونوں مایوسی کا شکار ہیں اور حافظ صاحب اپنے آپ کو میئر کے علاوہ کسی اور کو میئر تسلیم کرلینے کو تیار نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حافظ صاحب اگر میئر بنے تو شہر پر کسی کا قبضہ نہیں اور اگر پیپلز پارٹی کا میئر آجائے تو کراچی پر قبضہ کا الزام۔

ان کا کہنا تھا کہ الطاف حسین نے جو تباہی اس شہر، صوبے اور ملک میں مچائی تھی، اس سے اللہ نے ہمیں بچا لیا اور حافظ نعیم نیا الطاف حسین بننا چاہتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں حافظ نعیم پر واضح کرنا چاہتا ہوں کہ اس شہر میں پیپلز پارٹی کی ٹکٹ پر کامیاب ہونے والے اسی شہر کے ہیں اور جو منافقت جماعت اسلامی یہاں پھیلانا چاہتی ہے اس کو کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔

اس موقع پر سعید غنی نے عمران خان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بے شرمی کی حد ہوتی ہے وہ آدمی جو ابسولوٹلی ناٹ کا نعرہ لگاتا تھا، پھر کہتا تھا کہ ہم کوئی غلام ہیں ، آج وہ اب اس امریکی خاتون سے منتیں کر رہا ہے، بول رہا ہے کہ صرف ایک بیان دے دو ہمارے لیے۔

انہوں نے کہا کہ اس پاگل اور ذہنی مریض کے پیچھے چل رہے ہیں وہ دیکھیں کہ یہ کیسے جھوٹ بولتا ہے۔

سعید غنی نے کہا کہ عمران خان ملک کے لیے سب سے بڑا سیکیورٹی تھریٹ ہے، اس نے حساس تنصیبات پر حملہ کروایا، اسکول جلوا دیے، مساجد کو نقصان پہنچایا، کونسی جگہ اسکی تخریب کاری سے بچی ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج سے کچھ ماہ قبل جو امریکا پر الزام لگا رہا تھا کہ امریکا نے اس کے خلاف سازش کی، آج امریکی کانگریس کے ارکان کہتے ہیں عمران خان کے معاملے پر بات کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ اب عوام اور میڈیا عمران خان سے سائفر کا پوچھے کہ وہ کہاں ہے اور اس کی حیثیت کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عمران خان اس ملک کی معیشت و فوج کو تباہ کرنے کی سیاست پر چل رہا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ کہا ہے کہ جو جماعتیں جیتی ہیں وہ شہر کی ترقی میں اپنا اپنا حصہ ڈالیں، ہٹ دھرمی اور ضد سب سے بڑا مسئلہ ہے۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ابھی تک جماعت اسلامی کی مرکزی قیادت سے کوئی رابطہ نہیں ہوا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ جماعت اسلامی کے 86 ارکان ہیں پہلے وہ اپنے ارکان تو پورے کر لیں، میئر کراچی کے سوال پر سعید غنی نے کہا کہ کراچی کا میئر شیروانی نہیں سوٹ پہنے گا۔

سینیٹر وقار مہدی سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں وقار مہدی نے کہا کہ مئیر کراچی کے امیدوار پر پارٹی میں مشاورت جاری ہے، گزشتہ روز وزیر اعلیٰ نے مذاق کے زمرے میں بات کی تھی۔

انہوں نے کہا کہ پارٹی میں کوئی گروپنگ نہیں، پوری تنظیم ایک پیج پر ہے، سعید غنی نے کہا کہ سینٹ کا الیکشن خفیہ ہوتا ہے، کیا ہمارا کبھی بھی ایک ووٹ کم ہوا ہے؟ پارٹی جو فیصلہ کرے گی وہ سب مل کر اس امیدوار کو کامیاب بنائیں گے۔

بلدیاتی قانون میں ترمیم کے سوال پر انہوں نے کہا کہ جو ترمیم ہوئی ہے جو شخص کونسل کا حصہ نہیں وہ مئیر کا الیکشن لڑ سکتا ہے لیکن اسے چھ ماہ میں کسی بھی کونسلز سے الیکشن جیتنا ہوگا، اس لئے الیکٹیڈ یا سلیکٹیڈ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

انہوں نے کہا کہ 15 جنوری کو انتخابات ہوئے، اس کے بعد الیکشن کمیشن سے ہم نے بار بار پوچھا کہ 11 سیٹوں پر الیکشن میں تاخیر کیوں، انہوں نے کہا کہ دو روز قبل ہمار ایک وفد الیکشن کمیشن سے ملا اور بتایا کہ یہ عمل جلد مکمل ہو سکتا ہے۔

ضرور پڑھیں

وزیراعظم کا انتخاب کس طرح ہوتا ہے؟

وزیراعظم کا انتخاب کس طرح ہوتا ہے؟

وزارت عظمیٰ کے لیے اگر کوئی بھی امیدوار ووٹ کی مطلوبہ تعداد حاصل کرنے میں ناکام رہا تو ایوان زیریں کی تمام کارروائی دوبارہ سے شروع کی جائے گی۔

تبصرے (0) بند ہیں