الیکشن کمیشن نے پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کی تیاری شروع کردی

قانون کے تحت سیاسی جماعت یا گروپ کے علاوہ کوئی فرد آزادانہ طور پر الیکشن نہیں لڑسکے گا—فائل فوٹو: ٹوئٹر
قانون کے تحت سیاسی جماعت یا گروپ کے علاوہ کوئی فرد آزادانہ طور پر الیکشن نہیں لڑسکے گا—فائل فوٹو: ٹوئٹر

پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے لیے الیکشن کمشنر نے انتخابی گروپوں/پینلز کی رجسٹریشن کا شیڈول جاری کر دیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق الیکشن کمیشن نے انتخابی گروپوں کی فہرست سازی کے لیے عہدیداروں کے تقرر کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا، قانون کے تحت سیاسی جماعت یا گروپ کے علاوہ کوئی فرد آزادانہ طور پر الیکشن نہیں لڑسکے گا۔

الیکشن کمیشن نے پنجاب میں بلدیاتی الیکشن کی تیاری پر کام شروع کر دیا تاہم حلقہ بندیوں کا عمل پرانی مردم شماری کے تحت کیا گیا، نئی مردم شماری کا نتیجہ ایک دو ہفتے میں سامنے آ جائے گا۔

الیکشن کمیشن نے بلدیاتی انتخابات میں حصہ لینے والے آزاد امیدواروں سے کہا ہے کہ وہ انتخابی گروپس/پینل بنائیں کیونکہ کسی بھی آزاد امیدوار کو الیکشن لڑنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

شیڈول کے مطابق رجسٹریشن فارم 5 جون کو مجاز حکام سے وصول کرکے 6 جون سے 12 جون تک الیکشن کمیشن میں جمع کرائے جاسکتے ہیں، درخواستوں کی اسکروٹنی 19 جون کو ہوگی۔

27 جون سے 3 جولائی تک مجاز حکام الیکٹورل گروپ انرولمنٹ کنفرمیشن فارم 3 جاری کریں گے، درخواستوں پر الیکشن کمیشن حکام کے فیصلوں کے خلاف اعتراضات اور شکایات جمع کرانے کی تاریخ 4 سے 10 جولائی مقرر کی گئی ہے جبکہ اعتراضات پر فیصلہ 17 جولائی تک کیا جائے گا۔

راولپنڈی میٹروپولیٹن کارپوریشن (آر ایم سی) کے لیے درخواستیں راولپنڈی الیکشن کمیشن-ون کے دفتر میں جمع کرائی جائیں گی، راولپنڈی الیکشن کمیشن-2 ضلع کونسل کے امیدواروں سے درخواستیں وصول کرے گا اور 7 تحصیلوں کے اسسٹنٹ کمشنرز اپنے اپنے علاقوں میں انتخابی گروپس/پینلز کو رجسٹر کریں گے۔

راولپنڈی کے الیکشن کمشنر رائے سلطان بھٹی نے کہا کہ پنجاب لوکل گورنمنٹ آرڈیننس 2021 کے سیکشن 47 (5) کے تحت صرف سیاسی جماعتیں یا الیکٹورل پینلز/گروپ ہی بلدیاتی انتخابات میں حصہ لے سکتے ہیں۔

رائے سلطان بھٹی نے کہا کہ نئے قانون کے تحت کسی بھی آزاد امیدوار کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت نہیں ہوگی، یہ نظام پہلی بار صوبے میں متعارف کرایا گیا ہے اور زیادہ تر لوگ اس سے لاعلم ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نئے قانون کے تحت جو لوگ کسی سیاسی جماعت کے پلیٹ فارم سے الیکشن نہیں لڑنا چاہتے انہیں اپنا پینل بنانا ہوگا جس کی الیکشن کمیشن میں رجسٹریشن لازمی ہے۔

انہوں نے کہا کہ انتخابی گروپوں/پینلز کی رجسٹریشن کے لیے الیکشن کمیشن نے 9 سینیئر افسران کو تعینات کیا ہے، انہیں ایک فارم پُر کرنا ہوگا جس میں انتخابی گروپ کے سربراہ، دیگر عہدیداران اور امیدواروں کی تعداد سمیت دیگر تفصیلات درج کی جائیں گی۔

پنجاب میں بلدیاتی حکومت کی مدت یکم جنوری 2022 کو ختم ہو گئی تھی، قانون کے مطابق مدت ختم ہونے کے 120 دن کے اندر انتخابات ہونے تھے تاہم گزشتہ ایک سال میں الیکشن کمیشن 2 بار پنجاب کے بلدیاتی انتخابات ملتوی کر چکا ہے، دسمبر 2022 میں الیکشن کمیشن نے اپریل کے آخری ہفتے میں بلدیاتی انتخابات کرانے کا فیصلہ کیا لیکن بعد میں اسے ملتوی کر دیا۔

الیکشن کمیشن نے اب انتخابات کی تیاریوں پر کام شروع کر دیا ہے تاہم حلقہ بندیاں پرانی مردم شماری کے تحت کی گئیں، نئی مردم شماری کا نتیجہ جلد آ جائے گا، پرانے مردم شماری کے اعداد و شمار کے مطابق جنوری 2023 تک راولپنڈی میٹروپولیٹن کارپوریشن کی کل آبادی 19 لاکھ 58 ہزار 374 ہے، جس کی بنیاد پر الیکشن کمیشن نے 78 یوسیز بنائیں۔

اسی طرح ضلع کونسل کی شہری آبادی 2 لاکھ 96 ہزار 776 ہے جو 12 یونین کونسلز پر مشتمل ہے، اس کے علاوہ ضلع کونسل دیہی کی آبادی 14 لاکھ 7 ہزار 157 ہے جو کہ 58 یوسیز پر مشتمل ہے، دیہی علاقوں میں تحصیل راولپنڈی شہر کی آبادی 15 ہزار 208 ہے جبکہ تحصیل کنٹونمنٹ کی آبادی 9 ہزار 964 ہے، دونوں کی ایک ایک یونین کونسل بنائی گئی ہے۔

بلدیاتی انتخابات ایکٹ کے سیکشن 10 کے تحت حلقہ بندی صرف الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے لیکن یہ ضلعی انتظامیہ اور ڈپٹی کمشنر کے فراہم کردہ ڈیٹا کے مطابق کی جاتی ہے۔

تبصرے (0) بند ہیں