چینی آئی پی پی کا عدم ادائیگی پر سینٹرل پاور پرچیزنگ کمپنی کو ڈیفالٹ کا نوٹس

یہ آئی پی پی پاک چین اقتصادی راہداری کے ابتدائی منصوبوں کا حصہ تھی— فائل فوٹو: ڈان نیوز
یہ آئی پی پی پاک چین اقتصادی راہداری کے ابتدائی منصوبوں کا حصہ تھی— فائل فوٹو: ڈان نیوز

درآمدی کوئلے سے ایک ارب 90 کروڑ ڈالر کا ایک ہزار 320 میگا واٹ کا پاور پلانٹ چلانے والی پورٹ قاسم الیکٹرک پاور کمپنی لمیٹڈ نے سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی کو ادائیگی کے نادہندہ ہونے کا باضابطہ نوٹس جاری کردیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق کمپنی کے چیف ایگزیکٹیو افسر گوو گوانگلنگ کا کہنا تھا کہ 15 مئی تک ریاستی حمایت یافتہ، واحد بجلی کے خریدار پر خود مختار پاور پروڈیوسر (آئی پی پی) کی کل تصدیق شدہ واجب الادا رقم 7 ارب 73 کروڑ روپے یا 26 کروڑ 35 لاکھ ڈالر تھی۔

چین کے سائنوہائیڈرو ریسورسز لمیٹڈ اور قطر کی المرقاب کیپٹل لمیٹڈ کی ملکیت والی یہ آئی پی پی پاک-چین اقتصادی راہداری کے ابتدائی منصوبوں کا حصہ تھی۔

اس کے پاور پرچیز ایگریمنٹ میں کہا گیا تھا کہ نوٹس کے 35 دنوں کے اندر سی پی پی اے کی جانب سے غیر متنازع رقم ادا کرنے میں ناکامی پاور خریدار کے نادہندہ ہونے کی صورت میں تشکیل پائے گی۔

آئی پی پی نے مطالبہ کیا کہ بجلی کے خریدار کو 31 مئی سے پہلے 7 کروڑ 36 لاکھ ڈالر کی اصل ادائیگی کرنی چاہیے تاکہ’سہولت کے معاہدے ڈیفالٹ’ کے ساتھ ساتھ حکومت پاکستان ڈیفالٹ سے بچ سکے۔

کمپنی سی ای او نے کہا کہ ہائیڈرو، ونڈ اور سولر پاور پروجیکٹس کے برعکس، کمپنی کو بطور (ایک) درآمد شدہ کوئلہ پاور پروجیکٹ، کوئلے کی خریداری کے لیے مستقل اور بڑی مقدار میں کیش فلو کی ضرورت ہوتی ہے اور پائیدار آپریشنز کے لیے کوئلے کے سپلائرز کے ساتھ واجب الادا رقم کو ادا کیا جانا ہوتا ہے۔

اس کے علاوہ اینگرو پاور جن تھر لمیٹڈ، جو کہ مقامی کوئلے پر 660 میگاواٹ کا 99 کروڑ 54 لاکھ ڈالر کا پاور پلانٹ چلاتی ہے، نے سی پی پی اے کو بتایا ہے کہ وہ نقدیت کے شدید بحران کی وجہ سے آپریشن مکمل طور پر بند کر سکتی ہے جس کی وجہ سے آئی پی پی کو قرض دہندگان اور سپلائرز دونوں کے لیے اپنی ذمہ داریاں طے کرنا مشکل ہو گیا ہے۔

لکی الیکٹرک پاور کمپنی لمیٹڈ، جو ایک ارب ڈالر کا کوئلے سے چلنے والا 660 میگاواٹ کا پلانٹ چلاتی ہے، نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ آئی پی پیز کو ادائیگیوں کے لیے مختص کرنے کے فارمولے کو تبدیل کرے، جو فی الحال واجب الادا رقوم پر مبنی ہے اور توانائی اور قرض کی فراہمی کی ضروریات کو ترجیح نہیں دیتا۔

دوسرے لفظوں میں، موجودہ طرز عمل اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ سی پی پی اے تمام پاور پلانٹس میں سبسڈی سمیت ادائیگیوں کو تقسیم کرتا ہے، جس میں وہ بھی شامل ہیں جو اپنے یونٹ کی زیادہ لاگت کی وجہ سے بیکار رہے ہیں۔

نتیجتاً پرانے آئی پی پیز جنہوں نے پہلے ہی اپنے قرض ادا کر دیے ہیں اور فی الحال اپنی ایکویٹی پر واپسی اور فکسڈ آپریشن اینڈ مینٹیننس اجزا کے لیے صرف صلاحیت کی ادائیگیوں کا بل دیتے ہیں غیر متناسب طور پر زیادہ ادائیگیاں وصول کرتے ہیں۔

اس کے برعکس سستے ایندھن پر نئے پلانٹس جو باقاعدگی سے بھیجے جاتے ہیں وہ اسی پی پی اے کو موصول ہونے والی زیادہ تر ادائیگیاں اپنے ایندھن فراہم کرنے والوں اور او اینڈ ایم ھیکیداروں پر خرچ کرتے ہیں۔

بجلی کے خریدار کے نام ایک حالیہ خط میں، آئی پی پی نے مطالبہ کیا ہے کہ موجودہ مختص فارمولے میں ترمیم کرکے دوسرے طریقہ کار کو شامل کیا جائے یعنی ایسا طریقہ جو مستثنیات اور قابلیت کے باوجود ترجیحی ترتیب کے مطابق ادائیگی کرے۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں