پنجاب: سی ٹی ڈی کی خفیہ اطلاع پر کارروائیاں، 17مبینہ دہشت گرد گرفتار

اپ ڈیٹ 28 جولائ 2023
حکام نے بتایا کہ سی ٹی ڈی دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے پرعزم ہے — فائل فوٹو: اے ایف پی
حکام نے بتایا کہ سی ٹی ڈی دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے پرعزم ہے — فائل فوٹو: اے ایف پی

محکمہ انسدادِ دہشت گردی (سی ٹی ڈی) پنجاب نے خفیہ اطلاعات پر مختلف شہروں میں کارروائی کرتے ہوئے کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے 17 مبینہ دہشت گردوں کو گرفتار کرنے کو دعویٰ کیا ہے۔

ترجمان سی ٹی ڈی نے بتایا کہ دہشت گردی کے خدشات کے پیش نظر محکمہ انسدادِ دہشت گردی پنجاب نے مختلف شہروں میں 132 خفیہ آپریشن کیے۔

مزید کہا کہ خفیہ آپریشن کے دوران کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، داعش اور دیگر کالعدم تنظیموں کے 10 دہشت گردوں کو گرفتار کر لیا گیا۔

ترجمان نے بتایا کہ لاہور، ملتان اور ڈی جی خان سے گرفتار دہشت گرد مزارات، عبادت گاہوں پر حملے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

ترجمان سی ٹی ڈی کے مطابق اٹک سے گرفتار کالعدم ٹی ٹی پی کے 2 کمانڈر چینی شہریوں کو نشانہ بنانا چاہتے تھے۔

حکام نے بتایا کہ دہشت گردوں سے بارودی مواد، ڈیٹو نیٹر، اسلحہ، گولیاں، اہم عمارتوں کے نقشے اور نقدی برآمد ہوئی ہے۔

حکام کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کی شناحت عذی، عادل، رمضان، عبدالرحمٰن، عثمان، آصف، معاویہ، اسامہ، رحمٰن اور حضرت شیان کے نام سے ہوئی۔

ترجمان سی ٹی ڈی نے بتایا کہ سوشل میڈیا پر فرقہ واریت پر مبنی نفرت انگیز مواد شیئر کرنے پر 7 دیگر افراد کو بھیگرفتار کیا گیا ہے۔

ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ محکمہ انسدادِ دہشت گردی ساہیوال نے امجد عطاری، الطاف، عدنان، شہریار، اعجاز، حمزہ اور عثمان کو گرفتار کر لیا۔

حکام نے بتایا کہ رواں ہفتے485 کومبنگ آپریشنز کے دوران 36 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا جبکہ آپریشنز کے دوران 21 ہزار 8 افراد سے پوچھ کچھ کی گئی۔

ترجمان کے مطابق سی ٹی ڈی پنجاب نے یہ کارروائیاں لاہور، اٹک، سرگودھا، گوجرانولہ، ملتان اور ڈی جی خان میں کی گئیں۔

حکام نے بتایا کہ سی ٹی ڈی دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے پرعزم ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان میں خاص طور پر خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی میں اُس وقت سے اضافہ دیکھا گیا ہے، جب کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے گزشتہ برس نومبر سے حکومت کے ساتھ فائربندی معاہدے کو ختم کر دیا تھا۔

پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کنفلکٹ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز (پی آئی سی ایس ایس) کی رپورٹ کے مطابق موجودہ سال کی پہلی ششماہی میں دہشت گردی اور خودکش حملوں کا خطرناک رجحان جاری رہا، جس میں ملک بھر میں 389 افراد کی جانیں چلی گئیں۔

پی آئی سی ایس ایس کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ گزشتہ برس کی پہلی ششماہی کے مقابلے میں رواں برس کے ابتدائی 6 ماہ کے دوران خیبرپختونخوا کے قبائلی اضلاع میں دہشت گردی کے حملوں میں 51 فیصد اضافہ ہوا، تاہم ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد میں بالترتیب 10 فیصد یا 15 فیصد کمی آئی ہے۔

پنجاب میں دہشت گردی سے منسلک واقعات میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا، سال 2023 کے ابتدائی 6 ماہ کے دوران 8 حملوں کے نتیجے میں 6 افراد جاں بحق اور 10 زخمی ہوئے۔

ضرور پڑھیں

وزیراعظم کا انتخاب کس طرح ہوتا ہے؟

وزیراعظم کا انتخاب کس طرح ہوتا ہے؟

وزارت عظمیٰ کے لیے اگر کوئی بھی امیدوار ووٹ کی مطلوبہ تعداد حاصل کرنے میں ناکام رہا تو ایوان زیریں کی تمام کارروائی دوبارہ سے شروع کی جائے گی۔

تبصرے (0) بند ہیں