لاہور طوفانی بارش کے بعد اربن فلڈنگ کی وارننگ جاری

این ڈی ایم اے نے کہا کہ موسلا دھار بارشوں سے نشیبی علاقوں میں اربن فلڈنگ آ سکتی ہے— فوٹو: ڈان نیوز
این ڈی ایم اے نے کہا کہ موسلا دھار بارشوں سے نشیبی علاقوں میں اربن فلڈنگ آ سکتی ہے— فوٹو: ڈان نیوز

لاہور میں ہفتے کے روز بھی موسلادھار بارش کا سلسلہ جاری رہا جس کے بعد محکمہ موسمیات نے پنجاب کے صوبائی دارالحکومت میں اربن فلڈنگ کی وارننگ جاری کردی ہے۔

لاہور کے واٹر اینڈ سینی ٹیشن ایجنسی (واسا) کی جانب سے جاری کیے گئے اعدادوشمار کے مطابق شہر میں دن بھر سب سے زیادہ بارش گلشن راوی میں 155 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی، پانی والا تالاب میں 146 ملی میٹر، قرطبہ چوک میں 109 ملی میٹر، نشتر ٹاؤن ڈائریکٹر آفس میں 104 ملی میٹر، لکشمی چوک میں 101 ملی میٹر، جوہر ٹاؤن ایس ڈی او آفس میں 96 ملی میٹر، تاج پورہ ایس ڈی او آفس میں 80 ملی میٹر، اقبال ٹاؤن ایس ڈی او آفس میں 52 ملی میٹر، سمن آباد ایس ڈی او آفس میں 44 ملی میٹر، اپر مال اور مغلپورہ میں 40 ملی میٹر، ایس ڈی او آفس میں 35 ملی میٹر، گلبرگ، جیل روڈ پر 30 ملی میٹر، فرخ آباد میں 27 ملی میٹر، ناخدا چوک میں 24 ملی میٹر اور ایئر پورٹ کے علاقے میں 16.55 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔

لاہور کے کمشنر محمد علی رندھاوا نے کہا کہ بارش کے باوجود محرم کے جلوس کے راستے صاف تھے اور سیکیورٹی، ریسکیو اور میونسپل عملہ بھی تعینات تھا۔

دریں اثنا، صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ نے لاہور کے نشیبی علاقوں میں اربن فلڈنگ کے ساتھ ساتھ شہر کے نالے میں اچانک سیلاب کی وارننگ جاری کردی ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ موسلا دھار بارشوں سے نشیبی علاقوں میں اربن فلڈنگ آ سکتی ہے اور 29 جولائی کو پشاور، مردان، ایبٹ آباد، مانسہرہ، کرم، لکی مروت، کرک، وزیرستان، کوہاٹ، ٹانک، بنوں، ڈیرہ اسماعیل خان، خوشاب، میانوالی، بھکر، سرگودھا، منڈی بہاؤالدین، حافظ آباد، گوجرانوالہ، گجرات، نارووال، سیالکوٹ، لاہور، قصور، فیصل آباد، جھنگ، ٹوبہ ٹیک سنگھ اور ساہیوال کے مقامی نالوں میں سیلابی کیفیت پیدا ہو سکتی ہے۔

اس میں مزید کہا گیا ہے کہ 29 جولائی کو موسلادھار بارشوں سے ڈیرہ غازی خان اور شمال مشرقی بلوچستان کے مقامی نالوں میں طغیانی آ سکتی ہے۔

اس پیش گوئی کے مطابق بحیرہ عرب سے مون سون کی ہوائیں ملک کے بالائی علاقوں میں داخل ہو رہی ہیں اور وسطی اور بالائی علاقوں میں مغربی لہر بھی موجود ہے۔

اس کے نتیجے میں پنجاب، اسلام آباد، خیبر پختونخوا، شمال مشرقی بلوچستان، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں کہیں کہیں تیز ہواوٴں/آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔

اس کے علاوہ ڈیرہ اسماعیل خان، خوشاب، میانوالی، بھکر، سرگودھا، منڈی بہاؤالدین، حافظ آباد، گوجرانوالہ، گجرات، نارووال، سیالکوٹ، لاہور، قصور، فیصل آباد، جھنگ، ٹوبہ ٹیک سنگھ اور ساہیوال میں موسلا دھار بارش کے باعث نشیبی علاقے زیر آب آنے جبکہ مری، گلیات، کشمیر، گلگت بلتستان اور خیبر پختو نخواہ کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ اور مقامی اور برساتی ندی نالوں میں طغیانی کا بھی خطرہ ہے۔

دریں اثنا، نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی(این ڈی ایم اے) نے کہا کہ 27 سے 30 جولائی تک دریائے کابل کی معاون ندیوں اور ڈیرہ غازی خان کے پہاڑی علاقوں میں سیلاب آنے کا امکان ہے۔

محکمے کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق دریائے سندھ میں تونسہ اور گڈو جبکہ دریائے ستلج میں سلیمانکی کے مقامات پر اس وقت درمیانے درجے کا سیلاب ہے، دریائے سندھ میں تربیلا ، کالا باغ ، چشمہ اور سکھر ، دریائے کابل میں نوشہرہ، دریائے چناب میں مرالہ اور دریائے راوی میں بلوکی اور سدھنائی کے مقامات پر نچلے درجے کا سیلاب ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگلے 24 گھنٹوں کے دوران ڈیرہ غازی خان کے پہاڑی علاقوں جبکہ دریائے کابل کے معاون ندی نالوں میں بھی معتدل سیلاب کا خطرہ ہے۔

دوسری جانب سرکاری نشریاتی ادارے ریڈیو پاکستان کے مطابق اسلام آباد کے راول ڈیم میں پانی کی سطح 1749.65 فٹ تک پہنچنے کے بعد اس کے اسپل ویز کو کھول دیا گیا۔

وزیر موسمیاتی تبدیلی شیری رحمٰن نے کہا کہ پانی کی سطح کو کم کرنے کے لیے راول ڈیم کے اسپل ویز رات 9 بجے تک کھلے رہیں گے اور لوگوں پر زور دیا کہ وہ اپنی مقامی حکومت کے احکامات پر عمل کریں اور دریاؤں سے محفوظ فاصلہ رکھیں۔

شیری رحمٰن نے ملک میں 25 جون سے اب تک مون سون کے دوران ہونے والے جانی نقصان اور زخمی ہونے والوں کے اعداد و شمار بتاتے ہوئے کہا کہ اب تک بارشوں سے پیش آنے والے حادثات میں 160 افراد ہلاک اور 256 زخمی ہوئے جبکہ 1404 مکانات کو نقصان پہنچا۔

این ڈی ایم اے نے لوگوں کو دارالحکومت میں دریائے کورنگ میں جانے کی کوشش کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اس مقام پر دفعہ 144 نافذ کر دی ہے۔

بلوچستان میں سڑکیں بند

دریں اثنا، بلوچستان میں متعدد سڑکیں بند رہیں جہاں گزشتہ روز سیلابی بارش کے باعث ہنگامی حالت کے نفاذ کا اعلان کر دیا گیا تھا۔

بلوچستان کی صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے بیان میں کہا گیا کہ صوبے کو سندھ سے ملانے والی شاہراہ سمیت اہم سڑکوں پر ٹریفک بدستور معطل ہے۔

پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ سکھر کوئٹہ این-65 ہائی وے پر پنجرہ پل کے مقام پر بحالی کا کام جاری ہے۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں