مقبوضہ کشمیر میں جھڑپ، 3 بھارتی فوجی ہلاک

اپ ڈیٹ 06 اگست 2023
اگست 2019 میں مودی حکومت نے مسلم اکثریتی خطے کی محدود خود مختاری کو ختم کر دیا تھا — فائل/فوٹو: اے پی
اگست 2019 میں مودی حکومت نے مسلم اکثریتی خطے کی محدود خود مختاری کو ختم کر دیا تھا — فائل/فوٹو: اے پی

بھارت کے زیر قبضہ کشمیر میں جنگجوؤں کے ساتھ جھڑپ کے دوران 3 فوجی ہلاک ہوگئے جب کہ متنازع علاقے میں نئی دہلی کی براہ راست حکمرانی کو 4 سال مکمل ہوگئے۔

ڈان اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق پولیس کے مطابق جنوبی وادی ہالان کے جنگلات میں مسلح کشمیریوں کی تلاش میں فوج گشت کر رہی تھی کہ جمعہ کی رات گئے جنگجوؤں کے ساتھ جھڑپ کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں 3 اہلکار زخمی ہو گئے۔

پولیس نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ تینوں زخمی اہلکار بعد میں دم توڑ گئے، کشمیری جنگجوؤں کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری تھا۔

اگست 2019 کے بعد سے کشمیریوں اور سرکاری فورسز کے درمیان جھڑپوں میں نمایاں کمی آئی ہے، جب وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت نے مسلم اکثریتی خطے کی محدود خود مختاری کو ختم کر دیا تھا۔

حکومت کی اس توقع کے برعکس کہ یہ اقدام جنگ زدہ خطے میں امن اور ترقی کو یقینی بنائے گا، گزشتہ 4 برسوں کے دوران تقریباً 900 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں بھارتی سیکیورٹی فورسز کے 144 اہلکار بھی شامل ہیں۔

سال کے آغاز سے اب تک کم از کم 63 افراد مارے جاچکے ہیں جن میں 9 عام شہری، 16 سرکاری اہلکار اور 38 کشمیری جنگجو شامل ہیں۔

نوجوانوں کی جانب سے ان کشمیری گروپوں میں شمولیت کا سلسلہ جاری ہے جو کئی دہائیوں سے خطے کی آزادی یا اس کے پاکستان کے ساتھ الحاق کا مطالبہ کر رہے ہیں اور اس کے لیے لڑ رہے ہیں۔

بھارت کی اعلیٰ ترین عدالت میں یہ معاملہ اس وقت زیر غور ہے کہ کیا نریندر مودی کی حکومت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی آئینی طور پر دی گئی نیم خودمختارانہ حیثیت کو معطل کرنے کا اقدام قانونی طور پر کام کیا۔

بھارتی حکومت کے اس اقدام کے بعد سے متنازع علاقے میں شہری آزادیوں میں بڑی کمی دیکھی گئی ہے، احتجاج پر پابندیاں ہیں اور صحافیوں کی جانب سے سرکاری طور پر ہراساں کیے جانے کی شکایت ہیں۔

مقامی پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کے کئی رہنماؤں کو راتوں رات حراست میں لے لیا گیا جب کہ حکام نے انہیں 2019 کے فیصلے کے 4 سال مکمل ہونے کے موقع پر اس کے خلاف احتجاج کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔

پی ڈی پی رہنما محبوبہ مفتی نے ٹوئٹر پر حراست میں لیے گئے پارٹی عہدیدار کی فوٹیج شیئر کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں رائے عامہ کو دھوکا دینے کے لیے یہ سب کچھ کیا جا رہا ہے۔

اس موقع پر نظم و نسق برقرار رکھنے کے لیے سری نگر کے تجارتی اضلاع کے آس پاس سیکڑوں پولیس اور نیم فوجی دستوں کو تعینات کیا گیا تھا۔

یکجہتی کے اظہار کے لیے مظاہروں کے دوران سری نگر میں شہر کی دکانیں اکثر بند رہتی ہیں، لیکن شہر کے دکانداروں کی نمائندگی کرنے والی تجارتی انجمنوں کے 2 ارکان نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ پولیس کی جانب سے دکانداروں کو زبانی طور پر ہدایت کی گئی کہ وہ دن بھر دکانیں کھلی رکھیں۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں