سری لنکا میں برسات کے موسم میں ایشیا کپ 2023 کو شیڈول کرنے کے فیصلے پر ایشین کرکٹ کونسل (اے سی سی) کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

خیال رہے کہ ایشیا کپ 2023 میں بارش کے باعث پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والا میچ بے نتیجہ ختم ہوگیا تھا اور دونوں ٹیموں کو ایک، ایک پوائنٹ مل گیا تھا۔

یہ بات قابل غور ہے کہ سری لنکا 2023 کے ایشیا کپ کا شریک میزبان ہے جب بھارت نے ایونٹ کے لیے پاکستان کا سفر کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

قبل ازیں نجم سیٹھی کی طرف سے تجویز کردہ ہائبرڈ ماڈل کو اپنایا گیا تھا، جس میں ایشیا کپ 2023 کے 4 میچز پاکستان میں اور باقی میچ سری لنکا میں کھیلے جائیں گے۔

تاہم اب سوشل میڈیا پر بھارتی اور پاکستان کرکٹ شائقین کی جانب سے یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ اگر کینڈی میں بارش کی پہلے سے ہی پیش گوئی کی گئی تھی تو میچ کا انعقاد پاکستان یا متحدہ عرب امارات میں کیوں نہیں کیا گیا؟

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی مینجمنٹ کمیٹی کے سابق چیئرمین نجم سیٹھی نے سری لنکا کے شہر کینڈی کے پالے کیلے انٹرنیشنل اسٹیڈیم میں 2023 کے ایشیا کپ میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والا انتہائی اہم میچ بارش کے باعث بے نتیجہ ختم ہونے پر مایوسی کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ بارش نے کھیل کے بہترین مقابلے کو برباد کردیا لیکن بارش کی پہلے سے پیش گوئی کی جا چکی تھی۔

نجم سیٹھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ بطور پی سی بی چیئرمین میں نے ایشین کرکٹ کونسل پر زور دیا تھا کہ متحدہ عرب امارات میں میچز کھیلنے چاہئیں، لیکن سری لنکا کو ایونٹ دینے کے لیے مختلف بہانے بنائےگئے اور کہا گیا کہ دبئی میں بہت گرمی ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات میں اتنی ہی گرمی ہوتی جتنی گزشتہ سال ستمبر 2022 میں ایشیا کپ یا اپریل 2014 اور ستمبر 2020 میں کھیلی گئی انڈین پریمیئر لیگ کے دوران تھی، کھیل میں اس طرح کی سیاست ناقابل معافی ہے۔

سابق بھارتی کرکٹر وریندر سہواگ نے بھی بارش کے موسم میں ایشیا کپ کے انعقاد پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ ’بارش کے وقت تو چائے پکوڑے رکھتے ہیں، آپ نے ایشیا کپ ہی رکھ دیا!‘

اسپورٹس اینکر ماریہ راجپوت نے لکھا کہ بارش کی وجہ سے میچ بے نتیجہ ختم ہونے کی وجہ سے دن برباد ہو گیا اور یہ اے سی سی کے چیئرمین جے شاہ کا قصور ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ سری لنکن بورڈ نے کینڈی کے موسم کے بارے میں خبردار کیا تھا اور میچ کو ڈمبولا میں کروانے کی تجویز دی تھی، لیکن جے شاہ نے اس تجویز کو قبول نہیں کیا اور نہ ہی وہ سری لنکا میں بارش کے موسم سے بچنے کے لیے پاکستان کا دورہ کرنا چاہتے تھے، لیکن انہوں نے اپنی انا کو برقرار رکھا اور پورا ٹورنامنٹ خاص طور پر اس بڑے میچ کو برباد کر دیا۔

سوشل میڈیا صارف نے لکھا کہ اگر بھارتی حکومت چاہتی تو اپنی ٹیم کو پاکستان میں کھیلنے کی اجازت دیتی تو پورا ٹورنامنٹ وہیں منعقد ہو سکتا تھا، ہم نے پاکستان میں بغیر کسی بارش کی رکاوٹ کے کچھ شاندار میچز دیکھے ہیں۔

صارف نے بھارت اور پاکستانی کھلاڑیوں کی ایک ساتھ خوشگوار موڈ میں گفتگو کرنے کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ دیکھیں کھلاڑیوں کی آپس میں دوستی ہے، لیکن دونوں ممالک کی حکومتوں نے ایسا کیوں کیا؟

ایک اور سوشل میڈیا صارف نے لکھا کہ ’ایسا لگتا ہے کہ بھارتی کرکٹ بورڈ میں بہت بڑی انا ہے، سب کچھ بالکل پرفیکٹ تھا۔‘

انہوں نے لکھا کہ ذرا سوچیں کہ یہ میچز اگر پاکستان میں ہوتے، جہاں نہ بارش ہورہی ہوتی نہ وقت ضائع ہوتا اور نہ مایوسی ہوتی۔

تبصرے (0) بند ہیں